فاروق ضمیر مہذب فنکاروں کی نسل کے نمائیندے تھے

0
843

پاکستان ٹیلی ویژن کے متعدد کامیاب ڈراموں کو لازوال شہرت بخشنے والے سینئر اداکار فاروق ضمیر تئیس فروری جمعرات کو لاہور میں انتقال کر گئے۔

انہیں طویل عرصے سے سانس کا مرض لاحق تھا اور اس میں شدت آجانے کے سبب ہی انہیں کئی دن قبل ’سی ایم ایچ اسپتال‘، لاہور میں داخل کر ایا گیا تھا۔

فاروق ضمیر نے اداکاری کے فن کو اپنی زندگی کے تقریباً 25 سال دیے۔ اس دوران جن ڈراموں کی بدولت انہیں پاکستان کے ہر گھر میں دیکھا اور پہچانا گیا ان میں ’رانی‘، ’گڈریا‘، ’سراغ زندگی‘، شامل ہیں۔

یہ تمام ڈرامے ’پی ٹی وی‘ سے نشر ہوئے، جبکہ پرائیویٹ پروڈکشن کے تحت بننے والے کئی ڈراموں میں بھی انہوں نے اپنی مہارت کے جوہر دکھائے: مثلاً ’خاندان شغلیہ‘ ، ’مخملہ‘ اور ’مائرہ‘۔

فاروق ضمیرکے انتقال پر اداکاروں اور ادیبوں سمیت شوبز سے تعلق رکھنے والی دیگر شخصایت نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

فاروق ضمیر نے فنی کیرئیر کا آغاز 90 کی دہائی سے کیا اور کئی معروف ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائےجب کہ انہوں نے کئی نجی ٹی وی کے ڈراموں میں بھی اداکاری کی ہے۔

فاروق ضمیر نے ٹی وی کے علاوہ تھیٹر میں بھی کام کیا۔ان کا دھیما لہجا اور انداز ان کا خاصہ تھی۔

قوی خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فاروق ضمیر کے ساتھ کام کرنے کے متعلق بتایا کہ وہ ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے گھبراتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ فاروق ایسا اداکار تھا جو ہدایت کار سے دو قدم آگے تھا۔

ان کا آخری ڈرامہ ’اسیر زادی‘ تھا۔

فاروق ضمیر کی پہچان اگرچہ اداکاری سے ہوئی لیکن انھوں نے ڈرامے لکھے بھی اور ہدایت کاری بھی کی جن کا بیشتر ریکارڈ 1971 میں پی ٹی وی ڈھاکہ کے حصے میں آیا۔
اسیر زادی میں ان کی ساتھی اداکارہ ثانیہ سعید جنھوں نے اس کے علاوہ بھی کئی ڈراموں میں ان کے ساتھ کام کیا، ان کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ فاروق ضمیر کی نسل کے لوگوں نے خود اپنی تربیت پر جتنا کام کیا وہ اب ناپید ہے۔

ڈرامے کے ڈائریکٹر محمد احتشام الدین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ برصغیر کے ان چند ناموں میں سے ہیں جن کی اردو زبان کی ادائیگی مستند ہے۔ وہی مکالمہ کسی بھی اور فنکار کی ادائیگی میں وہ تاثیر نہیں لا سکتا تھا جو فاروق ضمیر اپنی آواز سے لے آتے تھے۔ وہ آواز کے بادشاہ تھے۔‘

اداکار فاروق ضمیر کو 25 فروری کو سپردِ خاک کر دیا گیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY