سپریم کورٹ: جڑانوالہ واقعے پر پنجاب حکومت کی رپورٹ مسترد

0
1074

سپریم کورٹ نے جڑانوالہ واقعے سے متعلق پنجاب حکومت کی رپورٹ مسترد کر دی۔

چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے اقلیتوں کے حقوق سے متعلق کیس کی سماعت کی جس دوران پنجاب حکومت نے جڑانوالہ واقعے سے متعلق پیشرفت رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔

پنجاب حکومت کی رپورٹ پر چیف جسٹس نے کہا کہ جڑانوالہ واقعے سے متعلق رپورٹ دیکھنے کے بعد مجھے شرمندگی ہو رہی ہے، پنجاب حکومت کی رپورٹ ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کے قابل ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ جڑانوالہ واقعہ کب ہوا اور اب تک کتنے لوگ پکڑے گئے؟

اس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ جڑانوالہ واقعہ 16اگست 2023 کو ہوا تھا، 22 مقدمات درج اور 304 افراد گرفتارہوئے جبکہ 22 میں سے 18 ایف آئی آر کے چالان جمع ہوئے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ماشاء اللہ سے 6 ماہ میں صرف یہ 18 چالان ہوئے؟ دوسری جگہوں پر جا کر اسلامو فوبیا پر ڈھنڈورا پیٹتے ہیں اور خود کیا کر رہے ہیں؟ غیر مسلموں کے ساتھ جو سلوک بھارت میں ہو رہا ہے وہ کاپی کرنا چاہتے ہیں؟ کتنے بجے پہلا چرچ جلا تھا اوراگست میں فجر کب ہوتی ہے؟

ایس پی انویسٹی گیشنز فیصل آباد نے عدالت کو بتایا کہ قرآن پاک کی بے حرمتی صبح 5:15 بجے ہوئی جب قرآنی اوراق توہین آمیز طریقے سے نصب کئے گئے تھے، مسلمان کمیونٹی نے اجلاس کر کے فیصلہ کیا کہ توہین مذہب پر کارروائی کریں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پولیس نے اپنی آنکھوں کے سامنے سب جلتا دیکھا؟ جڑانوالہ میں بہادر پولیس کھڑی تماشا دیکھتی رہی، کیا پاکستان میں پولیس صرف مسلمانوں کے تحفظ کیلئے ہے؟

چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ کوئی قرآنی اوراق کی بے حرمتی کرتے ہوئے ساتھ اپنا شناختی کارڈ رکھ دے؟ کیا آپ کو سمجھ نہیں آئی تھی کہ یہ سازش ہو رہی ہے؟ کیا مسیحی برادری آپ کو عقل سے محروم لگتی ہے جو توہین مذہب کر کے ثبوت بھی چھوڑے گی؟ کتنے پولیس والوں کو فارغ کیا گیا؟

ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں کے خلاف انکوائری ہو رہی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پولیس کا بنیادی فرض عوام کا تحفظ کرنا ہے، پولیس نے کہا بڑی بڑی داڑھیوں والے جتھا لے کر آ رہے ہیں تو مسیحی شہریوں کے خلاف مقدمہ درج کرو۔

ایس پی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ جڑانوالہ واقعے پر جے آئی ٹی بنائی گئی تھی، چیف جسٹس نے کہا کہ یہ جے آئی ٹی کیا بلا ہوتی ہے؟ جس کام کو پورا نا کرنا ہو اس پر جے آئی ٹی بنا دی جاتی ہے۔

بعدازاں سپریم کورٹ نے جڑانوالہ واقعے سے متعلق پنجاب حکومت کی رپورٹ مسترد کر دی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پنجاب حکومت کی رپورٹ ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کے قابل ہے، جڑانوالہ واقعے سے متعلق یہ رپورٹ دیکھنے کے بعد مجھے شرمندگی ہو رہی ہے۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

22 Aug 2023

سپریم کورٹ آف پاکستان میں جڑانوالہ واقعہ سےمتعلق درخواست سماعت کیلئےمقرر کر دی گئی۔

چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں3رکنی بینچ کل سماعت کرےگا، بینچ کے دیگر ارکارن میں جسٹس اطہرمن اللہ اورجسٹس شاہدوحیدبھی بینچ میں شامل ہیں۔

سپریم کورٹ نے کل ہونے والی سماعت کیلئے متعلقہ فریقین کونوٹسزجاری کردیئے۔

خیال رہے کہ 17 اگست کوفیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں توہین مذہب کے الزمات کی پاداش میں متعدد گرجا گھروں کو توڑ پھوڑ کے بعد نذر آتش کردیا گیا تھا۔

واقعہ کی ایف آئی آرکے مطابق دو مسیحی شہریوں پر الزام ہے کہ انہوں نے جڑانوالہ کے سنیما چوک میں پیغمبرِ اسلام کے بارے میں توہینِ آمیز کلمات کہے جب کہ قرآن کی بے حرمتی بھی کی۔

ایف آئی آرکے مطابق واقعے کی اطلاع ملنے پر جب پولیس جڑانوالہ کے سنیما چوک پہنچی تو وہاں قرآن کے اوراق موجود تھے جن پر سرخ قلم سے توہین آمیز الفاظ لکھے ہوئے تھے جب کہ ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔

واقعے کے بعد مشتعل ہجوم مقامی گرجا گھر کے باہر جمع ہوا۔ ہجوم میں شامل کئی افراد نے گرجا گھر میں توڑ پھوڑ شروع کی بعد ازاں اسے آگ لگا دی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جڑانوالہ میں کرسچن کالونی کا دورہ کیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سانحہ میں متاثر مکانات اور گرجا گھروں کی صورتحال کا جائزہ لیا، انہوں نے جڑانوالہ کے متاثرین سے ملاقات بھی کی، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ ان کی اہلیہ بھی تھیں۔

مقامی انتظامیہ کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسٰی کو واقعہ اور متاثرین کے بارے میں بریفنگ بھی دی گئی۔

جسٹس فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ نقصانات دیکھ کر بہت دکھ ہوا، آپ لوگوں کو ڈرنے کی ضرورت نہیں، ہر صورت تحفظ فراہم کریں گے۔

اس موقع پر سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ڈپٹی کمشنر پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کو 3 دن گزر گئے لیکن متاثرہ گلیاں صاف نہیں کی گئیں۔

نامزد چیف جسٹس پاکستان نے ڈپٹی کمشنر کو کرسچین کالونی کی گلیاں فوری صاف کرانے کی بھی ہدایات دیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دانش سکول میں متاثرین سے ملاقات کی جس کے بعد وہ روانہ ہوگئے۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

سانحہ جڑانوالہ کے بعد شہر میں زندگی معمول پر آ گئی، متاثرہ مسیحی خاندانوں نے گھروں کو واپسی شروع کر دی۔

فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں 16 اگست کو افسوس ناک واقعہ کے بعد بند کیے گئے سرکاری اور نجی ادارے معمول کے مطابق کھل گئے ہیں، امن و امان برقرار رکھنے کیلئے رینجرز کی دو کمپنیاں سٹینڈ بائی کر دی گئیں۔

سانحے کے بعد سے اب تک قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جلاؤ گھیراؤ پر اکسانے والے مرکزی ملزم سمیت 150 افراد کو حراست میں لیا ہے، عدالت سے جسمانی ریمانڈ ملنے پر پولیس نے 128 ملزمان کو نامعلوم مقام پر منتقل کر کے تفتیش شروع کر دی۔

پولیس کی جانب سے واقعے کے مزید تین مقدمات درج کر لیے گئے ہیں جن میں دہشت گردی، اقدام قتل، سرکاری و نجی املاک کی توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ سمیت 9 دفعات شامل ہیں۔

واضح رہے 16 اگست کو مشتعل ہجوم نے 19 چرچ اور 86 گھروں کو نذر آتش کیا تھا، سب سے زیادہ نقصان عیسیٰ نگری اور محلہ چمڑہ منڈی میں ہوا، ٹیلی فون ایکسچینج اور فاروق پارک بھی متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں، مہاراں والا، شہروآنہ، کموآنہ اور چک 240 میں بھی توڑ پھوڑ کی گئی۔

SHARE

LEAVE A REPLY