امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا پر متوقع دوسری فوجی حملے کی لہر کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔
امریکی صدر نے کہا کہ وینزویلا کی جانب سے تعاون کے بعد انہوں نے جنوبی امریکی ملک پر متوقع حملوں کی دوسری لہر منسوخ کر دی ہے، امریکا اور وینزویلا کے درمیان معاملات بہتر انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تیل کی بڑی کمپنیوں کی جانب سے وینزویلا میں تقریباً 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بھی ہے، جن سے وہ آج وائٹ ہاؤس میں ملاقات کریں گے۔
تاہم صدر ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ وینزویلا میں موجود تمام آئل ٹینکرز حفاظتی اور سیکیورٹی مقاصد کے تحت اپنی جگہ پر ہی رہیں گے۔
قبل ازیں نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹروہو میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان کے فیصلے بین الاقوامی قوانین سے محدود نہیں ہیں، امریکا کی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے وہ کسی بھی ملک میں کارروائی کرنے کے لیے آزاد ہیں، میری اپنی اخلاقیات، میرا اپنا فیصلہ ہے یہی وہ چیز ہے جو مجھے روکتی ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولائن لیویٹ نے کہا ہے کہ وینزویلا کے عبوری حکمران جو بھی فیصلے کریں گے وہ امریکا کے بتائے ہوئے ہوں گے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولائن لیویٹ نے کہا کہ وینزویلا کے تیل معاہدے پر امریکا کا مکمل کنٹرول برقرار ہے، امریکا تیل کی صنعت سے متعلق طویل المدتی منصوبے پر کام کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ آئل کمپنیز کے سربرہان کی میٹنگ جمعہ کو ہوگی، وینزویلا کے تیل کی مارکیٹنگ پہلے ہی شروع کی جاچکی ہے، تیل کی فروخت سے حاصل رقم پہلے امریکی اکاؤنٹس میں جمع ہوگی۔
بحر اوقیانوس میں آئل ٹینکروں کو قبضے میں لینے کے سوال پر ترجمان وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ امریکا تمام پابندیوں پر پوری طرح عمل کروائے گا، جہاز کے عملے کو اب قانونی کارروائی کا سامنا ہے، گرین لینڈ سے متعلق تمام آپشن ٹیبل پر ہیں، پہلا آپشن سفارتکاری ہے۔
کیرولائن لیویٹ نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ وینزویلا کے عبوری حکام سے قریبی رابطے میں ہے، امریکا معاہدے پر وینزویلا اور آئل انڈسٹری کے ساتھ کام کررہا ہے، معاہدے میں پابندی زدہ آئل بھی شامل ہے جو جہازوں پر موجود ہے۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ضرورت پڑی تو آئل ورکرز کے تحفظ کیلئے امریکی فوج استعمال کرنے کا حق رکھتے ہیں، وینزویلا میں انتخابی ٹائم ٹیبل پر بات کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
وینزویلا اورکیوبا نے امریکی کارروائی میں ہلاک 55 فوجی اہلکاروں کے نام جاری کردیے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق کیوبا اور وینزویلا نے گزشتہ ہفتے امریکی حملے میں ہونے والے جانی نقصان کی تفصیلات جاری کی ہیں۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کیوبا کی حکومت نے اپنے 32 اہلکاروں کے نام جاری کیے ہیں جو کراکس میں فوجی کارروائی میں مارے گئے جبکہ وینزویلا کی فوج نے بھی اپنے 23 اہلکاروں کے ناموں کی فہرست شائع کی ہے۔
کیوبا ڈیبیٹ میں شائع ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق 21 اہلکار وزارت داخلہ کے تھے، جن میں 3 اعلیٰ افسران (دو کرنل اور ایک لیفٹیننٹ کرنل) شامل تھے، جبکہ باقی انقلابی مسلح افواج کے ارکان تھے، جن میں زیادہ تر فوجی تھے۔
دوسری جانب وینزویلا کی فوج نے 23 فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کے نوٹس شائع کیے جن میں 5 ایڈمرل، مختلف رینک کے 16 سارجنٹس اور 2 فوجی شامل ہیں۔
مزیدبراں امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ امریکی حکام کا اندازہ ہے کہ وینزویلافوجی کارروائی میں تقریباً 75 افراد ہلاک ہوئے، ہلاکتیں کراکس میں مادورو کے کمپاؤنڈ پر شدید فائرنگ اور لڑائی کے دوران ہوئیں۔
واضح رہے کہ امریکا نے ہفتے کو وینزویلا پر حملہ کیا اور امریکی ڈیلٹا فورس وینزویلا کے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو ان کے صدارتی محل سے اٹھا کر لے گئی تھی۔
امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مادورو اور ان کی بیوی کو ان کے بیڈ روم سے پکڑ کر نیویارک لایا گیا، امریکا میں ان کے خلاف منشیات اور دہشتگردی کے الزامات کے تحت مقدمہ چلے گا ۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
سی آئی اے نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مادورو کے بعد وینزویلا کی قیادت کے لیے حکومت کے وفادار عناصر سے متعلق رپورٹ پیش کردی۔
امریکی میڈیا کے مطابق قیادت کے لیے موزوں افراد میں وینزویلاکی قائم مقام صدرڈیلسی روڈریگز کا نام بھی شامل ہے، یہ افرادوینزویلا میں استحکام برقرار رکھنےکےلیے سب سے بہترین پوزیشن میں ہوں گے۔
آزاد وینزویلا کو امریکا کا توانائی مرکز بنا دیں گے: اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا مچاڈو
واضح رہے کہ امریکا نے ہفتے کو وینزویلا پر حملہ کیا اور امریکی ڈیلٹا فورس وینزویلا کے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو ان کے صدارتی محل سے اٹھا کر لے گئی۔
امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مادورو اور ان کی بیوی کو ان کے بیڈ روم سے پکڑ کر نیویارک لایا گیا، امریکا میں ان کے خلاف منشیات اور دہشتگردی کے الزامات کے تحت مقدمہ چلے گا ۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ وینزویلا کو اقتدار کی منتقلی تک ہم چلائیں گے، ہماری تیل کی کمپنیاں وینزویلا جائیں گی۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے امریکی عدالت میں فردِ جرم عائد کیے جانے کے بعد تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے خود کو بے گناہ قرار دے دیا۔
وینزویلا پر حملہ کرکے امریکا لائے گئے صدر نکولس مادورو کو نیو یارک کی عدالت میں پیش کیا گيا، نکولس مادورو نے امریکی عدالت میں قصوروار نہ ہونے کی استدعا کی۔
جج ایلون ہیلرسٹین کی جانب سے نارکو ٹیررازم سازش سمیت دیگر الزامات پڑھے جانے کے بعد مادورو نے اپنا مؤقف دیتے ہوئے کہا کہ میں بے گناہ ہوں۔ یہاں جن الزامات کا ذکر کیا گیا ہے، میں ان میں سے کسی کا بھی قصوروار نہیں ہوں۔
نکولس مادورو نے آج نیو یارک میں اپنی پہلی عدالتی پیشی کے دوران مترجم کی مدد سے گفتگو کی، جس کے باعث جج کے لیے ان کے جوابات کی حدود طے کرنا زیادہ مشکل ہو گیا، عدالت میں مادورو نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں مہذب آدمی ہوں، اپنے ملک کا صدر ہوں۔
وینزویلا کے صدر مادورو کی اہلیہ سیلیا فلوریس نے بھی اپنی فردِ جرم کے دوران امریکا کی جانب سے عائد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے خود کو بے قصور قرار دیا ہے۔
وکیل نکولس مادورو نے کہا کہ صدر مادورو اس وقت ضمانت کی درخواست نہیں کر رہے ہیں، فی الحال ضمانت پر رہائی کے خواہاں نہیں مستقبل میں ہوسکتے ہیں۔
امریکی جج ایلون ہیلرسٹین نے وینزویلا کے معزول صدر نکولس مادورو کے خلاف جاری مقدمے میں آئندہ سماعت 17 مارچ کو مقرر کر دی ہے، عدالت کے حکم کے مطابق مادورو اس تاریخ کو دوبارہ عدالت میں پیش ہوں گے۔
اس سے قبل وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو نیو یارک کی عدالت میں پیش کرنے کیلئے ہیلی کاپٹر پر لے جایا گیا، امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس عدالت سے انہیں عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔
خیال رہے کہ 3 جنوری کو امریکا نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو ایک فوجی کارروائی کے دوران حراست میں لیا تھا، جس کے بعد انہیں نیو یارک کی جیل میں قید رکھا گیا ہے، ان پر منشیات اور دہشتگردی کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جارہا ہے اور آج انہیں امریکی عدالت میں پیش کردیا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار کی منتقلی تک وینزویلا کے معاملات خود چلانے، تیل کے ذخائر قبضے میں لینے اور امریکی تیل کمپنیوں کو وینزویلا بھیجنے کا اعلان کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز امریکا کی ہر بات ماننے کو تیار ہیں۔
یاد رہے کہ امریکی حکومت نے ماضی میں صدر مادورو کی گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات پر7 اگست 2025 کو 50 ملین ڈالر انعام کا اعلان بھی کیا تھا۔
امریکی اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ پر منشیات اور دہشت گردی سمیت امریکا کے خلاف استعمال کے لیے ہتھیاروں کے حصول کی سازش کے الزامات ہیں، دونوں پر نیویارک کے جنوبی ڈسٹرکٹ میں فردِ جرم عائد کی گئی ہے ، انہیں جلد ہی امریکی عدالتوں میں انصاف کا سامنا کرنا پڑے گا۔
………………………
وینزویلا کےصدر نکولس مادورو کو مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں پیش کردیا گیا۔
اس سے قبل مادورو اور ان کی اہلیہ کو بروکلن سے بذریعہ ہیلی کاپٹر مین ہیٹن لایا گیا جہاں سے انہیں ایک بکتر بند گاڑی میں عدالت منتقل کیا گیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق وینزویلا کےصدر نکولس مادورو پر منشیات اور دہشت گردی کے الزامات کے تحت مقدمہ چلے گا۔
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اتوار کے روز امریکا لانے کے بعد نیویارک کی ایک جیل منتقل کردیا گیا تھا، نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو ہفتے کے روز وینزویلا میں امریکی فوجی آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔
گزشتہ روز مادورو کی گرفتاری کے خلاف بروکلین حراستی مرکز کے باہر شہریوں نے احتجاج ریکارڈ کروایا، مظاہرین نے وینزویلا کی سرزمین سے ہاتھ ہٹانے، امریکا کی وینزویلا میں مداخلت کیخلاف اور آزادی کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
امریکی فوج نے وینزویلا کے دارالحکومت سمیت مختلف مقامات پر حملے کیے اور صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کوگرفتار کرکے ملک سے باہرمنتقل کردیا۔
وینزویلا کے دارالحکومت کاراکس میں دھماکے ہوئے اور شہر کے مختلف علاقوں میں طیاروں کی نچلی پروازیں بھی دیکھی گئیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق وینزویلا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کا حکم دیا۔ وینزویلا کے دارالحکومت کاراکس میں کم ازکم 7دھماکے ہوئے۔
ابتدائی طور پر وینزویلا حکومت نے تصدیق کی کہ حملےکاراکس، میرانڈا، آراگوا اورلاگویرا ریاستوں میں ہوئے ہیں، ان امریکی حملوں کا مقصد وینزویلا کے تیل اور معدنیات پر قبضہ کرناہے۔
وینزویلا حکومت نے حملوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا ہمارے وسائل حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا، ہم امریکا کی فوجی جارحیت کو مستردکرتے ہیں۔ وینزویلا کے صدر نے حملوں کے بعد ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان بھی کیا۔
دوسری طرف روسی میڈیا یہ دعویٰ کررہا ہے کہ امریکی حملوں میں وینزویلا کےدفاعی ہیڈکوارٹرزکو نشانہ بنایاگیا ہے اور وینزویلا کے صدر صدارتی محل چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔
روسی میڈیا کا کہناہےکہ وینزویلا کے کئی جزائر میں امریکی میرینز کے زمینی آپریشن شروع کرنے کی غیرمصدقہ اطلاعات آئی ہیں۔
اسی حوالے سے کولمبیا کے صدر نے کہا ہے کہ کاراکس پرمیزائل داغے جارہے ہیں اور کاراکس حملوں پریواین سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ وینزویلاکے صدر اوران کی بیوی کو گرفتار کرکے ملک سے باہر منتقل کردیا ہے۔
امریکی میڈیا کےمطابق وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو امریکی فوج کے ٹاپ اسپیشل یونٹ ڈیلٹا فورس نے پکڑا۔
امریکی اٹارنی جنرل نے7 اگست 2025 کو وینزویلاکے صدر ماودوروکی گرفتاری پر 50 ملین ڈالر انعام کا اعلان کیا تھا۔
امریکی ریپبلکن سینیٹر مائیک لی کا کہناہےکہ ان کی امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو سے ٹیلی فون پر بات ہوئی ہے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے انہیں بتایا ہےکہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو مجرمانہ الزامات پر مقدمہ چلانےکے لیےگرفتار کیا گیا ہے۔
مائیک لی کے مطابق مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ امریکا وینزویلا میں اب مزید کوئی کارروائی نہیں کرے گا۔












