کُفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔طاہر حسن ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان فوری تبدیل

2
3530

طاہر حسن ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان کو فوری طور پر تبدیل کر دیا گیا۔
عنبرین جان نئی ڈائریکٹر جنرل تعینات۔
(ملک اسلم اعوان، نمائندہ عالمی اخبار، اسلام آباد پاکستان)

ملک اسلم اعوان، نمائندہ عالمی اخبار، اسلام آباد

واقعات کے مطابق ریڈیو پاکستان کے خبرنامے میں نگران وزیراعظم سے منسوب غلط خبر نشر ہوئی۔ جس میں ہر فورم پر اسرائیل کی سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ نگران وزیراعظم نے خبر کا فوری نوٹس لیا اور وزیر اطلاعات، سیکرٹری اطلاعات اور ڈایریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان کو پی ایم ھاؤس طلب کر کے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ ڈائریکٹر نیوز کو شو کاز جاری کرنے اور ذمہ داران کو معطل کرنے کے احکامات جاری کیئے۔ ڈائریکٹر جنرل کی تبدیلی سے متعلق گزشتہ روز نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ جس کی رو سے عنبرین جان، ایگزیکٹو ڈائریکٹر جنرل ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ اسلام آباد کوڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔

 

یاد رہے عنبرین جان ماضی میں بھی بطور ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان خدمات سر انجام دے چکی ہیں۔

ریڈیو پاکستان میں اس وقت لا پرواہی، غیر ذمہ داری اور پیشہ ورانہ نا اہلی کی انتہا ہو گئ ہے

عشرت ثاقب ایک انتہائی تجربہ کار نیوز کاسٹر ہیں لیکن ان کا تجربہ بھی کسی کام نہ آیا۔ نیوز مانیٹرنگ کنٹرول روم ڈیوٹی روم اور دیگر عملہ بھی ناکارہ اور غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کا حامل نکلا۔ ان سب کی کوتاہی نے قومی مفاد اور ادارے کی ساکھ کو چند لمحوں میں زمین بوس کر دیا اور نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل طاہر حسن کے دور اقتدارمیں ریڈیو پاکستان شدید مالی بحران کا شکار رہا ہے۔ خصوصاً پنشرز اور مرحوم ملازمین کے لواحقین، بیواؤں اور یتیم بچوں کو تین ماہ تک حقوق پنشن سے محروم رکھا گیا۔ جبکہ ڈی جی صاحب کا موقف یہ تھا کہ پنشرز ان کی زمہ داری نہیں ہیں۔ جو آج ملازمت میں ہیں کل انھوں نے ریٹائر ہونا ہے۔ ان تمام ملازمین کے حقوق کا تحفظ ادارے کے سربراہ کی بنیادی ذمہ داری میں شامل ہے۔

SHARE

2 COMMENTS

  1. دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

    پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
    بالآخر ضعیف لاچار مختلف النوع بیماریوں کے شکار پینشنرز بیواؤں اور پسماندگان کی آہیں بد دعاؤں میں تبدیل ہوگئیں ۔۔ یہ پینشنرزاگر کسی ادارے کی ذمے داری نہیں ہوتے تو پھر ان کا والی کون ہوگا ۔۔طاہر حسن نے ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان جتنی بد دعائیں سمیٹیں یہ انہیں کا حصہ تھیں کسی دوسرے ڈائریکٹر جنرل نے اس جیسی بے حسی کا مظاہرہ نہیں کیا ۔۔۔اللہ انہیں راہِ ہدایت نصیب فرمائے۔

LEAVE A REPLY