ڈچ اراکین پارلیمنٹ نے اسکولوں اور ہسپتالوں سمیت چند عوامی جگہوں پر برقعے کی پابندی کا بل پاس کر دیا ہے جو کسی یورپی ملک میں اسلامی برقعے کے حوالے سے تازہ قدم ہے۔

ڈچ ایوان زیریں کی اسپیکر خدیجہ عریب نے برقعہ اور چہرہ چھپانے پر پابندی کے حوالے سے قانون سازی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ قانون بنایا گیا ہے’۔

چہرے کو مکمل طورپر چھپانے کے خلاف حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے بل کو اتحادی جماعت کے وزیراعظم مارک رتس سمیت پارلیمنٹ کے 150 میں سے 132 اراکین نے منظوری دے دی ہے۔

یہ بل باقاعدہ قانون بننے سے قبل منظوری کے لیے سینیٹ میں جائے گا۔

واضح رہے برقعے پر اس طرح کی پابندی اس سے قبل فرانس اور بیلجیم میں لگائی جا چکی ہے اور یہ اسی کا تسلسل ہے جبکہ یہ پابندی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یورپ میں مسلمان برادریوں کے خلاف کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

ڈچ کابینہ نے اس منصوبے کی منظوری 2015 میں دی تھی لیکن یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں میں برقعہ پہن کر چلنے پھرنے پر پابندی نہیں ہوگی۔

مزید پڑھیں: ہالینڈ میں نقاب پہننے پر جرمانحکومت کا اس قانون کی وضاحت کرتے ہوئے کہنا ہے کہ’یہ عوامی خدمات کی حامل جگہوں پر بہتری کو یقینی بنانے اور حفاظت کی ضمانت کے لیے ضروری تھا’۔

مزید کہا گیا ہے کہ ‘حکومت سمجھتی ہے کہ تمام عوامی جگہوں پر برقعے پر پابندی لگانا ضروری نہیں ہے’۔

قانون کے مطابق اس کی خلاف ورزی کرنے والے کو 410 یورو جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ثقافتی اور کلچرل ایونٹ کے دوران ہیلمٹ اور کام یا کھیل کے دوران چہرے کو بچانے کے لیے ہیلمٹ یا حفاظتی آلات کا استعمال کرنے کو پابندی میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔

ڈچ فریڈم پارٹی کے رہنما گیرٹ ولڈیرز جو اسلام دشمنی کے لیے مشہور ہیں سمیت کئی دیگر سیاست دانوں نے اس قانون کی حمایت کی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY