ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ہائر ڈگریوں کی تصدیق کے قوانین میں نرمی کر دی۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق جس سند کی تصدیق کرانا مقصود ہو، صرف وہی سند جمع کرائی جائے گی اور متعلقہ سند کے علاوہ سابق تعلیمی ریکارڈ کی معلومات جمع نہیں کرانا پڑیں گی۔ مگر اس کے برعکس سافٹ ویئر پرانا ہونے کی وجہ سے طلبہ کو تمام ریکارڈ درج کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ایچ ای سی غیر قانونی اداروں اور نامنظور شدہ ڈگری پروگرامز کی سند تصدیق نہیں کریگا۔ اس سے قبل طالبعلم سے ایک ڈگری کی تصدیق کیلئے میٹرک اور ایف اے کی سند سمیت بی اے اور ایم اے سے لے کر تمام ڈگریاں طلب کی جاتی تھیں جس سے نام تبدیلی کی چھوٹی غلطی پر بھی تصدیق کو رد کر دیا جاتا تھا اور طلبہ کو اس تصدیق کیلئے اپنی تمام ڈگریوں پر نام تبدیلی پر ہزاروں روپے خرچ کرنے کے علاوہ ایمرجنسی ضرورت میں وقت کا ضیاع بھی ہوتا تھا۔
ابھی تک سافٹ ویئر کی تبدیلی کا کام مکمل نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے طلبہ کو پرانے طریقہ کار کے مطابق ہی تصدیق کروانا پڑ رہی ہے۔ طلبہ کی بڑی تعداد نے کمپیوٹرائزڈ سسٹم میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔













