ملائیشیا میں پاکستان میں غیر ملکی پروازوں کے لیے مشرقی فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے ملائیشیا میں پھنسے 320 پاکستانی شہری خصوصی پرواز کے ذریعے پاکستان پہنچ گئے۔

پرواز اسلام آباد ایئر پورٹ پر رات 10 بج کر 10 منٹ پر اپنے طے شدہ وقت سے 45 منٹ بعد پہنچی۔

خصوصی پرواز کے ذریعے اسلام آباد لائے جانے والے کچھ پاکستانیوں کو فضائی حدود کی بندش کے بعد ٹکٹ کی مدت پوری ہونے کی وجہ سے ملائیشین حکام کی جانب سے گرفتار کیا گیا تھا۔

اس سے قبل ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ قومی ایئرلائن (پی آئی اے) کی خصوصی پرواز کے ذریعے براہ راست پروازوں کی منسوخی کی وجہ سے ملائیشیا کی جیلوں میں پھنسے 320 پاکستانیوں کو وطن واپس لایا جائے گا۔

انہوں نے کہا تھا کہ پاکستانی شہریوں کو ویزا یا رہائشی پرمٹ کی مدت مکمل ہونے پر گرفتار کیا گیا تھا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا تھا کہ ان کی واپسی کی تیاریوں کی نگرانی وزیر شاہ محمود قریشی خود کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کی وطن واپسی کے وزارت خارجہ امور کی جانب سے خصوصی سیل تشکیل دیا گیا تھا، جس میں قومی ایئرلائن، وزارت برائے اوورسیز پاکستانیز اور پاکستان بیت المال کے نمائندگان شامل تھے۔

ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے قیدیوں کے واپسی کے لیے خصوصی احکامات جاری کیے تھے تاکہ وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ عید الفطر مناسکیں۔

ایوی ایشن ڈویژن کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ پاکستان بیت المال نے پاکستانی قیدیوں کی وطن واپسی کے لیے 4 کروڑ روپے جاری کیے تھے، جو معمولی جرائم میں جیل کی سزا مکمل کرنے کے بعد فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے ملائیشیا میں پھنسے ہوئے تھے۔

بیت المال کے چیئرمین عون عباس نے وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی ذوالفقار عباس بخاری کو چیک پیش کیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY