بلوچستان اسمبلی نے رواں مالی سال2019-20 کے ضمنی بجٹ کی منظوری دے دی۔ اپوزیشن نے بجٹ مخا لفت کر تے ہو ئے کا ایوان سے واک آوٹ کردیا ۔

بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر بابر موسیٰ خیل کی صدارت میں شروع ہوا ۔ ایوان میں ضمنی بجٹ کی منظوری سے قبل اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ضمنی بجٹ غیر آئینی طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ رکن اسمبلی نواب اسلم رئیسانی نے صوبائی وزیر زراعت زمرک اچکزئی کی جانب سے اپنے محکمے کی سیکریٹری کے غیر ائینی اقدامات کے شکوے کے جواب میں کہا کہ حکومت کو اپنے اختیارات کا ہی پتہ نہیں ہے۔

اپوزیشن کا کہنا تھا مطالبات زر پیش کرنے سے قبل قانونی تقاضے پورے کئے گئے ۔اپوزیشن کے احتجاج کے بعد حکومت اور اپوزیشن کو مشاورت کیلئے اپنے چیمبر میں مختصر وقت کیلئے ایوان میں بلایا ۔اجلاس دوبارہ شروع ہونے کے بعد اپوزیشن نے ایوان سے واک آوٹ کرلیا جس کے بعد وزیر خزانہ ظہور بلیدی نے باری باری 19 ارب سے زائد کے مطالبات زر ایوان میں پیش کئے جن کو منظورکر لیا گیا۔

ضمنی بجٹ پربحث کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر ملک سکندر نے کہا کہ فنڈز کو اپنی مرضی اور منشا سے خرچ کرنے والے جان لیں کہ ان کی پگڑ ہوگی ۔اپوزیشن کے حلقوں کو نظر انداز کیا گیا ۔کوئٹہ کے پانچ حلقوں میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا ۔فنڈز کو غیر منصفانہ طریقے سے خرچ کیا گیا ۔حکومتی ذمہ ردران انصاف کے ساتھ کھیلتے ہیں۔

اپوزیشن کے رہنما ءزابد ریکی نے کہا کہ گزشتہ پی ایس ڈی پی میں واشک کو کوئی منصوبہ نہیں دیا گیا ۔وزیرعلی ٰخود معائنہ کرسکتے ہیں ۔انہوں نے پی ایس ڈی پی کی کتاب وزیر اعلی کو پیش کی ۔جے یوآئی کے رکن مولوی نور اللہ نے بجٹ پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کے حلقوں کے ساتھ نا انصافیوں پر دکھ ہے ۔اپوزیشن کے 10اضلاع جو صوبے کا 40فیصد ہے ۔ بعدمیں ڈپٹی اسپیکر نے اسمبلی کا اجلاس پیر 24جون شام 4بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY