کراچی میں شاہراہ فیصل پر جناح اسپتال کے ساتھ ہی واقع ہوٹل میں رات گئے آگ لگ گئی، جس میں گیارہ افراد جاں بحق اور 70سے زائد زخمی ہو گئے، 30زخمیوں کی حالت نازک ہے۔جاں بحق افراد میں چار خواتین اور تین ڈاکٹر بھی شامل ہیں۔کرکٹرز بھی زخمی ہو گئے۔کولنگ کا عمل مکمل کرکے ہوٹل کی تمام منزلیں کلیئر کردی گئیں۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت ہوٹل میں غیر ملکی بھی موجود تھے۔اسپتال انتظامیہ کے مطابق جاں بحق افراد میں کوئی بھی غیرملکی شامل نہیں،فیصل ایدھی کا کہنا ہے ہوٹل کے تمام کمروں کو کلیئرکردیاگیا ہے ۔فیصل ایدھی کے مطابق جاں بحق افراد کی تعداد13تک ہے۔

آگ ہوٹل کی چھٹی منزل پر لگی جس میںزیادہ تر ہلاکتیں دم گھٹنے اور جھلسنے سے ہوئیں،امدادی کارروائیوں میں تاخیر ہوئی ، فائر بریگیڈ کے تین فائر ٹینڈرز نے دو گھنٹے سے زائد وقت میں آگ پر قابو پالیا تھا۔ تاہم شدید دھویں کے باعث متعدد افراد کی حالت غیر ہوگئی۔

عمارت میں پھنسے لوگوں کو صرف ایک اسنارکل کی مدد سے نکالا جاتا رہا۔ کئی افراد نے کمبل اور چادر کی مدد سے اترنے کی کوشش کی جنہیں انتظامیہ نے روک دیا۔ ایک شخص پردے سے لٹک کر نچلی منزل پراُترا۔ ہوٹل میں موجود عوام نے شکایت کی کہ ریسکیو کا عمل بہت سست ہے جس کے باعث عوام کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

قائد اعظم ٹرافی کھیلنے کے لیے کراچی میں موجود انٹرنیشنل کرکٹر صہیب مقصود اور دیگر کھلاڑی بھی متاثر ہوئے ہیں،کرکٹر یاسم مرتضی ٰدوسری منزل سے چھلانگ لگانے سے زخمی ہو گئے، کرکٹر کرامت علی کو معمولی چوٹیں آئیں۔

ایس ایس پی ساؤتھ ثاقب اسماعیل میمن اور میئر کراچی وسیم اختر بھی ریسکیو کارروائیوں کا جائزہ لینے کے لئے پہنچے۔ میئر کراچی وسیم اختر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آگ لگنے کی وجوہات کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ آگ ہوٹل کے کچن میں لگی ، اے سی سسٹم کی وجہ سے دھواں کمروں اور دیگر حصوں میں پھیلا۔

جناح اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ دھویں سے دم گھٹنے اور جھلسنے سے 4 خواتین سمیت 11 افراد جاں بحق ہوئے ،انچارج شعبہ حادثات ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد میں ڈاکٹر موہن لعل، ڈاکٹر شیر خواجہ، ڈاکٹر رحیم سولنگی ، وقاص، حامد، محمد حسین اور ہوٹل انتظامیہ کا الیاس بابر شامل ہیں جبکہ چاروں خواتین کی شناخت نہیں ہوسکی۔

ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا ہے کہ زیر علاج افراد میں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت متعدد غیر ملکی بھی ہوٹل میں موجود تھے۔ ہوٹل انتظامیہ اور ریسکیو حکام نے ہوٹل میں موجود دھویں کو نکالنے کے بعد لوگوں کو بھی بحفاظت باہر نکال دیا گیا ہے

SHARE

LEAVE A REPLY