اردو اسکول کے بارے میں اقلیتی کمیشن کا آرڈر

0
521

سکھ شہری پر پولیس کے حملے کی تحقیقات کے لیے اقلیتی کمیشن نے تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل کی
نئی دہلی: مکھرجی نگر علاقے میں 16 جون کو ایک سکھ شہری اور اس کے لڑکے پر پولیس کے لوگوں کے حملے کی تحقیقات کے لیے دہلی اقلیتی کمیشن نے ایک پانچ ممبری تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل کی ہے۔
تابش سروش ایڈوکیٹ اس کمیٹی کے صدر ہیں اور مادھوی شرما ایڈوکیٹ، ہرمیندر سکھ اہلووالیا (ممبر اقلیتی کمیشن سکھ مشاورتی کمیٹی)، صحافی گورپریت سنگھ بھوئی اور صحافی جسوندر سنگھ اس کمیٹی کے ممبران ہیں۔
اس کمیٹی کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ مسئلے کی تحقیقات کرے اور اس کے اصل سبب کو جاننے کی کوشش کرے، متاثرین اور چشم دید گواہوں کی گواہیاں جمع کرے، اس حادثے کے متعلق الیکٹرونک شہادتیں جمع کرے، متاثر شہری اور اس کے خاندان کو ہونے والے نقصانات کا اندازہ کرے، متاثر شہری کو مطلوبہ طبی امداد کے بارے میں سفارش کرے، متاثر شخص کو مطلوبہ معاوضہ تجویز کرے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے بارے میں تجویز پیش کرے اور مذکورہ حادثے سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگائے۔
کمیٹی کو اپنا کام پورا کرنے کے لیے 30 دن دیے گئے ہیں۔ کمیٹی کی رپورٹ آنے پر کمیشن اس کو میڈیا اور عوام کے سامنے رکھے گا اور دوسرے مطلوبہ اقدامات کے بارے میں غور کرے گا۔

اردو اسکول کے بارے میں اقلیتی کمیشن کا آرڈر
نئی دہلی: شری رام کالونی شاہدرہ میں تقریباً دس سال کی محنت کے بعد ایک اردو میڈیم اسکول بنا اور اس کی تعمیر شدہ عمارت پر “مشرقی دہلی میونسپل کارپوریشن اردو پرائمری اسکول “لکھا ہوا ہے۔ لیکن مشرقی دہلی میونسپل کارپوریشن اب اس اسکول کو انگلش میڈیم اسکول میں بدلنا چاہتی ہے جبکہ علاقے کے بہت سے لوگ ، جو عرصہ سے اس کے لیے جدوجہد کررہے تھے ، اسے اردو میڈیم اسکول کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ علاقے کے ایک ہزار لوگوں نے دہلی اقلیتی کمیشن میں شکایت درج کرائی اور مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ اسکول کو اردو میڈیم ہی رکھا جائے۔ اس معاملے کے بارے میں سخت اور سنجیدہ رویہ اپناتے ہوئے دہلی اقلیتی کمیشن نے آرڈر پاس کیا ہے جس میں مذکورہ اردو میڈیم اسکول کو انگلش میڈیم اسکول بنانے کے فیصلے کو “غیر قانونی اور منمانی “فیصلہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ فیصلہ “علاقے کے باشندوں سے مشورہ کیے بغیر لیا گیا ہے”۔ دہلی اقلیتی کمیشن نے مشرقی دہلی میونسپل کارپوریشن کے محکمہ تعلیم کو آرڈر جاری کیا ہے کہ مذکورہ اسکول کے میڈیم میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے اور اسے آنے والے تعلیمی سال سے ہی اردو میڈیم اسکول کے طور سے کھولا جائے۔

SHARE

LEAVE A REPLY