مہاراجا ہری سنگھ پیدائش:21 ستمبر 1895 جموں – وفات: 26 اپریل 1961 ممبئی، مہاراشٹر، بھارت ہندوستان کی نوابی ریاست جموں و کشمیر کا آخری حکمران مہاراجا تھا۔
اس نے چار شادییاں کیں۔ اس کی چوتھی بیوی مہارانی تارا دیوی سے ایک بیٹا تھا جس کا نام یوراج (ولی عہد) کرن سنگھ ہے۔مہاراجا ہری سنگھ کا تعلق راجپوت کی گوت تھکیال راجپوت سے تھا۔ہری سنگھ کی ریفارمز کو انگریز اور دوسرے مذاہب کے لوگوں نے بھی ترقی پانے کے لیے استعمال کیا۔ مہاراجا ہاتھی اور شیر کی سواری کو پسند کرتے تھے اور کشمیر کے لیے ان کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔
ہری سنگھ راجپوت خاندان کے آخری فرمانروا تھے بعد میں ان کا خاندان زیادہ تر جموں و گردونواح اور پاکستان میں سیالکوٹ،جہلم اور گوجرانوالہ کے علاقوں میں بھی رہائشی پزیر ہوا۔انڈیا میں بھی کافی شہر اور گاؤں ان کے نام سے منسلک ہیں،
جب براہمن سامراج نے تقسیم برصغیر کے مسلمہ اُصولوں کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے سازش و منافقت کے ذریعے 85فیصد مسلم آبادی والی ریاست جموں وکشمیرپر شب خون مارا۔ مہاراجہ ہری سنگھ نے خودگولی چلا کرکشمیری مسلمانوں کے قتل عام کا آغاز کیا۔ ڈھائی لاکھ کشمیریوں کوخون میں نہلادیا گیا، جبکہ پانچ لاکھ لوگوں کو بے گھر کردیاگیا
نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جموں وکشمیر کے آخری راجا مہاراجہ ہری سنگھ ریاست کو ایک آزاد ملک بنانا چاہتے تھے لیکن پاکستان نے حملہ آور بھیج کر مہاراجہ کے منصوبے پر پانی پھیر دیا۔ انہوں نے کہا کہ مہاراجہ ہری سنگھ کو مجبوری میں ہندوستان سے الحاق کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 1947 میں جموں وکشمیر میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 90 فیصد تھا اور اس کو پاکستان سے ملنے سے کوئی روک نہیں سکتا تھا۔ نیشنل کانفرنس صدر نے الزام لگایا کہ ملک کی متواتر حکومتوں نے جموں وکشمیر کے ساتھ دھوکہ کیا اور دفعہ 370 کے تحت ریاست کو حاصل خصوصی پوزیشن کو کھوکھلا کردیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک کی متواتر حکومتوں نے جموں وکشمیر کے ساتھ انصاف کیا ہوتا تو آج ریاست کی یہ حالت نہیں ہوتی













