جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدارتی ریفرنس پر سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے خلاف دائر کی گئی آئینی درخواست کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ میں فل کورٹ تشکیل دینے کی درخواست جمع کرادی۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا ہے کہ میری درخواست کے ساتھ دیگر درخواست گزاروں کی درخواستوں پر فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔
ضمنی ریفرنس کی سماعت کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے موقف اپنایا ہے کہ موجودہ چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل اور اس کے دیگر اراکین نے ریفرنس نمبر 427 کے فیصلے میں تعصب ظاہر کیا ہے۔
شکایت کنندہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی استدعا کرتے ہوئے انہوں نے درخواست میں کہا ہے کہ چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل اب صدر عارف علوی کی طرف سے دائر ریفرنس سننے کے مجاز نہیں ہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست کی ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو صدارتی ریفرنس خارج کرنے کی ہدایت کی جائے اور ان کے خلاف جو احکامات جاری کئے گئے ہیں ان کو کسی بھی قانونی اشاعت کا حصہ بننے سے روکا جائے۔
خیال رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اور دیگر اراکین نے گزشتہ ہفتے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ایک وکیل کی جانب سے دائر کیے گئے ضمنی ریفرنس کو مسترد کردیا تھا تاہم چیف جسٹس نے اس حوالے سے مزید تفصیلات بھی تحریر کردی تھیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے ریفرنس سے متعلق صدر مملکت عارف علوی کو لکھے گئے خطوط کے حوالے سے وکیل نے موقف اپنایا تھا کہ سپریم کورٹ کے جسٹس نے قواعد کی خلاف ورزی کی ہے جبکہ کونسل نے اس ضمنی ریفرنس کو مسترد کرتے ہوئے اپنا فیصلہ جاری کردیا تھا۔
سپریم جوڈیشل کونسل نے فیصلے میں کہا تھا کہ ریفرنس میں دائر الزامات جج کو ہٹانے کے لیے کافی نہیں ہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنی درخواست میں فل کورٹ کی تشکیل کے لیے عدالتی مثالیں دیتے ہوئے کہا ہے کہ فل کورٹ بنانے کی عدالتی نظیر سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بنام ریاست کیس میں موجود ہے۔
انہوں نے موقف اپنایا ہے کہ میری درخواست میں بہت اہم آئینی سوالات ہیں جو عدلیہ کہ آزادی اور صدر مملکت کی آزادانہ رائے سے متعلق ہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے موقف اپنایا ہے کہ میری درخواست میں وفاقی کابینہ کی منظوری اور جس طریقے سے میرے اور میرے اہل خانہ کے کوائف اکٹھے کیے گئے ہیں اس حوالے سے گزارشات موجود ہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں تمام زیر التوا درخواستیں سننے کی بھی استدعا کی ہے اور کہا ہے کہ عدالت عظمی ان کی درخواست کے ساتھ دیگردرخواست گزاروں کی درخواستوں پر فل کورٹ تشکیل دے۔
یاد رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 7 اگست کو عدالت عظمیٰ میں ان کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کو چیلنج کر دیا تھا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے دائر درخواست 300 سے زائد صفحات پر مشتمل تھی۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف ریفرنس کو ذاتی طور پر چیلنج کیا تھا جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ میرے خلاف ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے، لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ میری درخواست پر فیصلہ آنے تک سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کو روک دی جائے۔












