سعودی عرب کی 124 اہم خفیہ رپورٹس ایران کے حوالے

0
303

سعودی عرب میں بتیس جاسوسوں پر مشتمل سیل نے ایران کو 124 انٹیلی جنس رپورٹس مہیا کی تھیں۔ان میں سعودی عرب کی اہم فوجی تنصیبات کے بارے میں تفصیلی معلومات تھیں اور دوسرا سکیورٹی ڈیٹا تھا۔
سعودی دارالحکومت الریاض میں ایک فوجداری عدالت نے گذشتہ ہفتے ان میں پندرہ سعودیوں کو مجرم قرار دے کر سزائے موت سنائی تھیں۔ پندرہ کو چھے ماہ سے پچیس سال تک سزائے قید کا حکم دیا تھا اور دو کو بری کردیا تھا۔ان میں ایک سعودی اور ایک افغان شہری تھا۔
اس جاسوسی سیل کو سعودی سکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس نے 2014ء اور 2015ء کے اوائل میں بے نقاب کیا تھا۔عدالتی ذرائع کے مطابق ان افراد نے ایرانی انٹیلی جنس کے عناصر کو بالمشافہ ملاقاتوں میں رپورٹس فراہم کی تھی۔یہ عناصر الریاض میں ایرانی سفارت خانے ، جدہ میں قونصل خانے اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) میں ایرانی مشن میں سفارت کار کے بہروپ میں کام کررہے تھے۔
وہ ای میلز کے ذریعے بھی خفیہ پیغامات ایرانی انٹیلی جنس کو بھیجا کرتے تھے۔انھیں ایرانی خفیہ اداروں کے عناصر ہی نے خفیہ پیغام رسانی کی تربیت دی تھی۔ ذرائع کے مطابق اس سیل کے ارکان نے سعودی عرب اور اس سے باہر ایرانی خفیہ اداروں کے چوبیس عناصر سے بالمشافہ ملاقاتیں کی تھیں۔
اس جاسوسی سیل کے ارکان کے تہران میں انٹیلی جنس بیوروکے ڈائریکٹر ،اوآئی سی میں ایرانی مشن کے فرسٹ سیکریٹری اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر کے ڈائریکٹر سے براہ راست روابط تھے۔
اس سیل میں شامل سات سعودی فوجی اہلکار ایرانی انٹیلی جنس کے عناصر کو حساس فوجی مقامات ، لڑاکا طیاروں ،فوجی ہوائی اڈوں اور خفیہ فوجی مراسلت کے بارے میں معلومات ، تصاویر اور دوسرا ڈیٹا مہیا کیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فوجی جاسوس سعودی تنصیبات کی تصاویر بنانے کے لیے چھوٹے کیمرے استعمال کیا کرتے تھے اور انھیں تہران بھیجا کرتے تھے۔
ان ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ الریاض میں شاہ فیصل اسپتال میں تعینات ایک میڈیکل کنسلٹینٹ تہران کو مرحوم شاہ عبداللہ اور ولی عہد شہزادہ نایف بن عبدالعزیز کی صحت سے متعلق طبی رپورٹس بھیجا کرتے تھے

SHARE

LEAVE A REPLY