پاکستان نے کہا ہے کہ مذاکرات میں افغان طالبان حکومت نے کالعدم دہشتگرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی کو تسلیم کیا ہے اور افغان حکام نے ان تنظیموں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے مختلف جواز پیش کیے۔
ترجمان دفترخارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ حساس نوعیت کے مذاکرات پر ہر منٹ پر تبصرہ ممکن نہیں، وزارت خارجہ کومحتاط رہنے کاحق حاصل ہے اور یہ حق استعمال کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ استنبول مذاکرات میں تمام متعلقہ اداروں کے نمائندے شامل تھے، مذاکرات میں تمام اہم امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی، 6 نومبر کے اگلے دورمیں مذاکرات کی جامع تفصیلات سامنے آئیں گی اور مذاکرات میں مثبت پیش رفت جاری ہے، یہ نہایت حساس اور پیچیدہ مذاکرات ہیں جن میں صبر اور بردباری کی ضرورت ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سفارت کاری میں امید برقرار رکھنا ضروری ہے، میزبان ملک کا بیان مذاکرات کا تعارفی نوٹ تھا، میزبان وزارت خارجہ کابیان مذاکرات کی تفصیلات پر مبنی نہیں تھا، تحریری یقین دہانیوں کا معاملہ مذاکرات کا حصہ ہے، یہ ایک مسلسل عمل ہے، اگلے دور میں پیش رفت کا واضح اندازہ ہوگا۔













