سندھ حکومت نے صوبائی اسمبلی سے حالیہ دنوں میں منظور ہونے والے اقلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے بل پر نظرثانی کا فیصلہ کرلیا۔
یہ فیصلہ مذہبی اسکالرز کی جانب سے بل کی چند شِقوں پر اعتراض کے بعد سامنے آیا۔
اس فیصلے کا اشارہ پارلیمانی امور کے سینئر وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو کے پالیسی بیان میں سامنے آیا۔
نومبر کے آخری ہفتے میں صوبائی اسمبلی سے بِل منظور ہونے کے بعد مذہبی اسکالرز نے برہمی کا اظہار کیا تھا اور ان کا خیال تھا کہ بل کی بعض شِقیں اسلامی تعلیمات کے خلاف اور آئین سے متصادم ہیں۔
نثار کھوڑو نے اپنے پالیسی بیان میں قرآن پاک کی سورۃ البقر کی آیت 256 کا حوالہ دیا، جس کے مطابق ’مذہب جبری طور پر تبدیل نہیں کیا جاسکتا، اس لیے کوئی مسلمان تعلیمات کے خلاف نہیں سوچ سکتا اور نہ ہی ایسا کوئی قانون بنا سکتا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’قانون کے مطابق 18 سال سے کم عمر شخص کے شادی کرنے پر پابندی ہے، لیکن مذہب کی تبدیلی کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں، اس لیے اس معاملے کو شادی کی عمر سے نہیں جوڑا جانا چاہیے اور اس غلط فہمی کو ختم کیا جانا چاہیے۔‘












