رحم مادر کی ڈور سے کٹ کر نکلنے والا یہ نومولود جو کبھی بہت رویا، بلکا تھا، اب آنکھیں کھولتا ہے، نئے زائقوں نئے رنگوں، نئے لمس کے احساس سے آشنائی پاتا ہے، حتی دوڑنے بھاگنے لگتا ہے، اور زندگی کی ترقی کے مختلف ادوار کو طے کرتے ہوئے اپنے اصل کی جانب سفر کرتا ہے، حسن کی جانب سفر، مگر یہی اگر اپنی ماں کے رحم مین موجود اس ناف سے جڑا رہتا اور بر وقت اس کو کاٹ کر نہیں نکالا جاتا تو وہیں دم گھٹنے سے ختم ہو جاتا، کہ جس کائناتکو پہلی اور آخری سمجھ کر جی رہا تھا کہ جسکے بعد اسکو لگتا تھا نہ زمین بچی ہے نہ آسمان، یہی حال ان سب نافوں کا ہے جن سے انسان بندھا ہوا ہے اور سوچتا ہے کہ کٹ گیا تو ختم ہو جائے گا حالانکہ ہر کٹاو ایک نئ دنیا سے تعارف کا پتہ دیتی ہے، ہر تعارف ایک نئے جہان سے ملاتا ہے، اور ہر جہاں کی اپنی رنگ، بو، زائقے، رستے، خوشبو ییں، مہک، بلندیاں ہوتی ہیں،
کیا ہو کہ اگر وجود انسانی کے اندر بسنے والا خلیفہ خدا ببنے کی جہد پہ معمور بندہ خدا، واقعی اپنے ان حواسوں کو کھول پائے کہ کیا ہو کہ وہ بصیرت کی آنکھیں دیکھنے لگیں، طہارت کی زبان بولنے لگے، عشق کے کان سننے لگیں، محبت کی مہک روھ کو چھو لے، اور فکر انسانی اتنی طاہر اور حسین ہو جائے کہ رب کی عطا کردہ بصیرت، چشم نور، طہارت کی زبان بن کر اپنا اصل کام کرنے لگے، جہاں پہ راج ہی رب کا ہو میری میں تو رہے ہی نہیں بس رب سے دوری کا کرب ہو اس سے دوری کی کسک اس کی عبادت کی کمی کا رنج اسکے، کیسا احساس ہو اگر وجود انسانی کھل اٹھے، بیدار یو جائے اور اپنے حیوانی امور کی انجام دہی سے بلند ہو کر ملکوتی، طیار، نورانی و پاکیزہ اعمال اور افعال کی ایک مکمل اور حسین شکل بن جائے کیونکہ انسان ہونا رب نے خلیفہ خدا کی صفت بتائ ہے نہ کہ انسان ہونا افضل ہے، بلکہ جب ملائکہ رب سے سوال کرتے ہیں کہ یہ مٹی کا آدمی تو فساد برپا کرے گا تو رب نے انکار نہیں کیا بلکہ فرمایا میں زمین پہ اپنا خلیفہ بنا رہا ہوں یہ منصب ہے اگر انسان اس تک پہنچ پائے تو بلندیوں کو چھو لے کہ ھدف منصب خلافت ہے اور رب کا خلیفہ مغلوب، مجبور، بے بس، حقیر، مایوس، کمتر، غیر زمہ دار نہیں ہوتا بلکہ وہ تو رب کی صفات کا مظہر ہوتا ہے کہ اسکے وجود سے نور اور طہارت کی شمعیں جلتی دکھائی دیتی ہیں کہ جنکی مثال نایاب صحیح پر ہے ضرور کہ گوہر نایاب عام نہیں میسر ہوتے بلکہ ریاضتوں کے بعد سعادتوں کی منزل پاتے ہیں اور سعادتوں کے بعد توفیقات اور توفیقات کے بعد پختگی محنت اور محنت اور رب کے عشق کا الاو وجود انسانی کو متحرک، بلند تر اور حسین و معطر رکھتا ہے کہ وہ سراپا محبت بن جاتا ہے اس کی دشمن تک اس کی انتقام سے محفوظ ہوتے ہیں بلکہ وہ سراپا کرم اور رحمت و محبت کی شاہکار تمثیل ہوتا ہے کہ جسکی مہک ہر زی روح کا مقدر نہیں مگر کہ جو قرب رب کی منزل کا خواہشمند ہو اور اس سمت جہد میں مصروف ہو۔ ۔ ۔
فائزہ عباس













