سوئیڈن میں پھر قرآن کی بے حرمتی

0
1001

یورپی ملک سوئیڈن میں مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کو نذرِ آتش کرنے کا واقعہ ایک بار پھر پیش آیا ہے جب کہ اس کے خلاف احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی پر پولیس نے 12 افراد کو حراست میں لیا ہے جن میں دو لوگوں کو باقاعدہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پولیس نے گرفتار افراد کے حوالے سے شبہ ظاہر کیا ہے کہ وہ ہنگامہ آرائی میں ملوث تھے۔ زیرِ حراست افراد پر امنِ عامہ میں خلل ڈالنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق اتوار کو احتجاج جنوبی شہر مالمو کے ایک چوراہے پر کیا گیا۔ مالمو شہر میں تارکینِ وطن کی ایک بڑی آبادی مقیم ہے۔

خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق اس مقام پر لگ بھگ 200 افراد موجود تھے۔

واضح رہے کہ عراق سے تعلق رکھنے والے ایک پناہ گزین سلوان مومیکا نے سوشل میڈیا پر مالمو شہر کے اس چوراہے پر قرآن نذرِ آتش کرنے کا اعلان کیا تھا۔

سلوان مومیکا اس سے قبل بھی اسی طرح کے اقدامات کر چکے ہیں۔ ان کے ہاتھوں قرآن کی بے حرمتی کے واقعات نے مسلم ممالک میں غم و غصے کو جنم دیا تھا۔

متعدد مسلم اکثریتی ممالک میں سوئیڈن کے سفرا کو طلب کرکے مقدس کتاب کی بے حرمتی کے خلاف احتجاج کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق اتوار کو مالمو شہر میں اس چوراہے پر موجود کچھ افراد نے سلوان مومیکا پر پتھراؤ کیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY