حُسین شناسی کا سفر۔56۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
776

قسط چھپن

شہزادہ علی اکبر علیہ السلام دوبارہ میدان میں اترے
آپ کہہ رہے تھے
“ جنگ کے حقائق آشکارا ہو گئے
اس کے بعد
سچے شاہد اور گواہ ظاہر ہوئے
اس خدا کی قسم
جو عرش کا پیدا کرنے والا ہے
میں تمہارے لشکر سے دور نہیں ہوں گا
جب تک
کہ
تمہاری تلواریں غلاف میں نہ چلی جائیں “
اور ۔۔۔ اس قدر جنگ کی
کہ
مرنے والوں کی تعداد دو سو تک پہنچ گئی

کربلا کاجوان
دین خدا کی جوانی

امام حسین علیہ السلام
محافظ شریعت پر ہر ممکنہ قربانی پیش کرنے پر مصمم تھے
اور ۔۔۔ ہر قیمت پر
ہر قربانی پر شجر اسلام کی جوانی کے خواہاں تھے
اب اسلام سائل تھا
اور خاندانِ کرم کے سخی
اپنی دولت و ثروت کے گنجینے لٹا دینے پر تیار تھے
حفظ دین کے وعدے انہیں اچھی طرح سے یاد تھے
ان کی وفاؤں کے انداز انتہائی جدا تھے
بنی ہاشم کے سخی سوچ رہے تھے
اگر بر وقت
دین اسلام کو ضمانت پیش نہ کی
تو ا
ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء و رسل علیہم السلام کی محنتیں بے ثمرہ رہ جائیں گی
محافظ شریعت نے
محبوب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آغوش مبارک میں پرورش پائی تھی
اس لیے
دین کی بربادی ہرگز نہیں دیکھ سکتے تھے
عزیز و انصار اپنی نصرت کے وعدے نبھا چکے تھے
دین کو کچھ قوت ملی تھی
اب ہاشمی خون دین کے کام آیا ہی چاہتا تھا
اپنے بابا کے ارادوں کو سمجھنے والے
غرق عشق خدا جناب علی اکبر ع
میدان عشق میں
تنہا دشمنوں کے سامنے تھے
حضرت علی اکبر (ع)
عرب کے تین معروف قبیلوں کے ساتھ قربت رکھنے کے باوجود
عاشور کے دن
یزید کے سپاہیوں کے ساتھ جنگ کے دوران
اپنے نسب کا
بنی امیہ اور ثقیف کی طرف اشارہ نہ کیا
بلکہ ۔۔۔ صرف
بنی ہاشمی ہونے اور اہل بیت (ع) کے ساتھ نسبت پر افتخار کیا
امام حسین علیہ السلام
میدان کربلا میں
اپنے بیٹے علی اکبر ع کو دیکھ رہے تھے
اور
آپ کے رخسار مبارک پر آنسوؤں کا سیلاب جاری تھا
آپ فرما رہے تھے
بارالہا !
تو گواہ رہنا
کہ
میں نے ان لوگوں کی طرف اس جوان کو بھیجا ہے
جو صورت میں، سیرت میں، رفتار میں، گفتار میں
تیرے رسول کی شبیہ ہے
ہم
جب بھی تیرے پیغمبر کی زیارت کے مشتاق ہوتے
تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے چہرے کا دیدار کیا کرتے
آخر کار
منقذ بن مرّہ عبدی کی کڑی ضربت کار آمد ثابت ہوئی
شبیہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
جناب علی اکبر ع کے اطرف دشمنوں نے حلقہ ڈال دیا
اور تلواروں سے حملہ کر دیا
ضربت کھانے کے بعد
شہزادہ علی اکبر ع نے گھوڑے کی گردن میں ہاتھ ڈالا
گھوڑا انہیں لے کر وحشت میں دشمن کی سمت بھاگا
اور ۔۔۔۔ انہوں نے
اپنی تلواروں سے آپ کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا

جناب علی اکبر علیہ السلام نے
آخری لمحوں میں
اپنے بابا کو آواز دیتے ہوئے کہا
بابا جان !
آپ پر میرا سلام ہو
یہ جد امجد رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں
جو
جام کوثر لیے کھڑے ہیں
کہ
اس کے بعد
اب مجھے پیاس نہیں لگے گی
بیٹے کی
آواز سنتے ہی
امام علیہ السلام میدان کی طرف دوڑ پڑے

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY