وزیراعظم نواز شریف کے بڑے صاحبزادے حسین نواز پاناما پیپرز کے دعوؤں کے حوالے سے شریف خاندان کے اثاثوں کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے حکم پر بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سامنے چھٹی مرتبہ پیش ہوئے۔
حسین نواز کی فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی آمد کے موقع پر لیگی کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی، جبکہ اس موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
ساڑھے 5 گھنٹے سے زائد پیشی کے بعد فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حسین نواز کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں بلا کر جتنی مرتبہ سوالات کیے گئے، ہم نے جوابات دیے، لیکن سچائی یہ ہے کہ جو سوالات کیے گئے وہ 2 پیشیوں کے تھے، 6 پیشیوں کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی، لیکن سپریم کورٹ کے احکامات کے احترام میں ہم یہاں آتے رہے’۔
حسین نواز نے کہا کہ ‘میں پہلے دن سے جو بات کہتا آیا ہوں، آج بھی اس پر قائم ہوں کہ ان کو میرے خاندان کے کسی بھی فرد کے بارے میں کوئی ثبوت نہیں ملے گا، جب کوئی کرپشن یا منی لانڈرنگ ہوئی ہی نہیں تو ثبوت کیسے ملے گا’۔
وزیراعظم کے صاحبزادے نے کہا کہ ‘بغیر ثبوت کے کسی کے خلاف کارروائی نہیں کی جاسکتی، ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں، صرف معاملات کو الجھانے کے لیے بار بار بلاتے ہیں’۔
ساتھ ہی انھوں نے جے آئی ٹی کا نام لیے بغیر کہا، ‘اگر کوئی ثبوت نہیں ہیں تو الجھاؤ اور شکوک و شبہات پیدا کرنے کی گنجائش مت دیجیے’.
حسین نواز نے کہا کہ کچھ طریقہ واردات بہت پرانے ہیں مثلاً سلطانی گواہ پیش کردیے جاتے ہیں،جیسا کہ طیارہ سازش کیس میں ہمارے ساتھ کیا گیا، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ عوامی مینڈیٹ کی توہین کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پاناما جے آئی ٹی کی جانب سے 25 جون کو جاری ہونے والے سمن کے مطابق حسن نواز کو 3 جولائی، حسین نواز کو 4 جولائی جبکہ مریم نواز کو 5 جولائی کو پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔
گذشتہ روز وزیر خزانہ اسحٰق ڈار بھی پہلی مرتبہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے۔
اس کے علاوہ وزیراعظم نواز شریف، وزیراعلیٰ شہباز شریف، نواز شریف کے داماد ریٹائرڈ کیپٹن صفدر، سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک، نیشنل بینک آف پاکستان کے صدر سعید احمد، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے چیئرمین ظفر الحق حجازی اور پرویز مشرف دور میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے سربراہ رہنے والے ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل امجد نقوی بھی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوچکے ہیں۔
دوسری جانب وزیراعظم نواز شریف کے کزن طارق شفیع بھی 2 مرتبہ پاناما جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوچکے ہیں۔












