کِرچی کِرچی ، ریزہ ریزہ
( Disintegration , 1992 )
از: ایوا ٹکا ( Eeva Tikka á ) فِن لینڈ
ترجمہ : غازی غلام حسین
مجھے یہ محسوس ہوتا ہےکہ نابودی کا عمل پہلے سے ہی شروع ہو چکا ہے ۔ میں یہ نہیں چاہتی ، میں اس کے لئے ابھی تیار نہیں ہوں ۔ ۔ ۔ اور میں یہ بات اپنے معالجین سے نہیں کرنا چاہتی ؛ میں جانتی ہوں وہ اس امر کو کبھی نہ سمجھ سکیں گے اور جو بات میں کر رہی ہوں اس کا میری صحت سے کوئی تعلق بھی نہیں ہے ۔ یہ کوئی بیماری نہیں ہے ؛ یہ اس سے بھی زیادہ گھناونی ہے ۔ ۔ ۔ بے حد ڈراونی ۔ یہ ایک دھوکا ہے۔
یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ یہ کب شروع ہوئی ، لیکن جب کبھی بھی میں اسے یاد کرنے کی کوشش کرتی ہوں تو ایک خاص دن میری یاد میں آتا ہے ۔ اس کو بمشکل ہی اس کیفیت کا آغاز مانا جا سکتا ہے ۔ ہاں! آپ کیسے مانیں گے کہ بھرپور خوشی بھلا نیستی کا آغاز ہو سکتا ہے؟ لیکن وہ دن ایسا تھا ۔ ۔ ۔ جس میں اس معدومیت کے سبھی اجزاء یا آثار موجود تھے۔ ۔ ۔ بالکل دھن کے رکھ دینے والی ہوا ؛ برف کا پگھل پگھل کر ٹوٹنا اور تیزی سے بنتے بگڑتے اور بھاگتے ہوے بادل ۔ میں نے سائبان کے ایک کونے میں پڑے ٹب کو کھینچا تو اس سائبان کے سبھی سہارے یک دم ایک شور کے ساتھ نیچے آ گرے ۔
میں اس پرانے گھر سے خوب واقف تھی لیکن تم تو نئے نئے آے تھے ، اس لئے تمھاری حیرت و حیرانگی کے لئے کئی اشیاء وہاں موجود تھیں ۔ تم پرچھتی پر جانا چاہتے تھے ۔ ۔ ۔ تم وہاں گھس پٹ چکے کپڑوں اور چوہوں کے کترے ہوے پرانے اخباروں کو چھونا چاہتے تھے ۔ تم نے ایک چوڑے چھجے والا پرانا ہیٹ اٹھا کر پہن لیا تھا اور تم اس کے کنارے کے نیچے سے مجھے دیکھ رہے تھے ۔
” میں حیران ہوتی ہوں کہ وہ ہیٹ کس کا تھا؟ ‘
” شاید میری خالاؤں میں سے کسی ایک کا تھا ۔ ”
” یا! ان میں سے کسی ایک کا ہو جو ابھی زندہ ہیں؟ ”
” پہلی بات، وہ تو پانچ تھیں ۔ آنٹی سلینہ اب نوے برس کی ہو چکی ہے ۔ وہ فرماتی ہیں وہ تب تک نہ مریں گی جب تک ان کے شوہر کی موت کی تصدیق نہیں ہو جاتی یا ان کا کوئی اتا پتہ نہیں مل جاتا۔ وہ جنگ عظیم میں غائب ہو گئے تھے۔ ”
اب سوچئیے! ایسی تصدیق سے اب کیا فرق پڑ سکتا ہے؟
کوئی بھی کیریلیان دریا کے ماخذ تک جاے اور اس کی ہڈیاں تلاش کرکے لے آئے ۔ ۔ ۔ اور میری مہان آنٹی ان کی شناخت کر لے۔
” یا کوئی روس سے ایک خط لے آئے۔ ۔ ۔ میری آنٹی کے شوہر کا بیٹا یا پوتا ۔ اس میں ان کے شوہر نے لکھا ہو، میں نے شادی کر لی تھی ، ایک نئی زندگی کا آغاز کر لیا تھا اور تمھارے بغیر بھی خوش باش زندگی گزار گیا ۔ وہ خط اس کے بسترِ مرگ پر لکھا گیا ہو اس توقع پر کہ کسی روز کوئی بھی اس خط کو پہنچا دے گا ۔ تب تک آنٹی جی کو زندگی کی ضمانت ملی ہوئی ہے ۔”
” کونسا بہتر چنائو ہو گا ؟ ہڈیاں یا خط ؟ ”
تم نے زور سے ہنستے ہوے کہا تھا ، ” یقیننا ہڈیاں بہتر آپشن ہو گا۔”
یہ بہترین ثبوت ہو گا کہ وہ اپنی بیوی سے بنا بیوفائی کئے شہید ہو گیا تھا ۔ دوسری صورت میں ، خط کا ملنا آنٹی کے وفا سے بھرپور انظار بھرے ماہ و سال کی تضحیک ہو گی ۔
ہڈیوں سے متعلق بات کرتے ہوے مجھے کچھ یاد آیا ہے۔ میں نے حال ہی میں ایک دلچسپ واقعہ پڑہا ہے۔ یہ ایک بوڑھے آدمی کی یاداشتیں ہیں ۔ سن 18ء کی قحط سالی کے دوران اس کا باپ سرحد پار اپنے رشتہ داروں سے کچھ اناج لینے گیا اور پھر کبھی واپس نہ آیا ۔ خدا جانے کب تک اس کی ماں نے انتظار کیا ۔ آخر کار وہ اس کے پیچھے روانہ ہو گئی ۔ راستے میں وہ ایک جزیرہ پر پہنچی اور کنارے پر اسے اپنے شوہر کی لاش ملی ۔ ۔ ۔ وہ اپنے معمول کے دہقانی لباس میں تھا ۔ جب اس نے اس کی کمر پر بندھی چمڑے کی بیلٹ کو پکڑ کر اسے اٹھانے کی کوشش کی تمام ہڈیاں کڑکڑاتئ ہوئیں لباس کے اندر ہی ایک ڈھیری سی بن گئیں۔ ”
” کیا ہی خوب کہانی ہے ۔ تم نے مجھے کیوں سنائی؟ ”
” یہ ہڈیاں ہی تو ہیں جن کی وجہ سے ہم نے بات شروع کی ۔ اچھا! پہلی بات تو یہ کہ ہم نے ان پر بات ہی شروع کیوں کی ؟ میرا خیال ہے ہم نے یہ بات ان پرانی اشیاء کی وجہ سے کی ۔ کیا تم جانتے ہو میں ان اشیاء کو باہر طوفانی ہوا کے تھپیڑوں کے سپرد کر دوں گی اور پھر انھیں دھجی دھجی ، ریزہ ریزہ ہوتے دیکھوں گی ۔ دیکھو دیکھو! پرانی شال بالکل ایسے ہی بکھر جاے گی جیسے کہ یہ بادل! ”
میں نے تمھیں بشکل بادل مائل بہ نیستی دیکھا ۔ ۔ ۔ تم کس قدر خوبصورت لگ رہے تھے ۔ ۔ ۔ جب کہ تم مجسم میرے سامنے تھے ۔ ” ہم ساحل پر پہنچے جہاں طوفانی ہواؤں کے شور اور ٹوٹ ٹوٹ کر پانی میں گرتی برف کے شور نے ہمارا استقبال کیا تھا۔ برف ٹوٹ رہی تھی ۔ ”
تم نے مجھے کہا تھا ۔ ” دیکھو یہ ہڈیاں ٹوٹنے جیسی آوازیں پیدا کر رہی ہے ۔ پھر تم منہ اٹھا کر خوب ہنسے تھے ۔ دیکھو دیکھو! میں چھلانگیں مار رہا ہوں ۔ کیا میری ہڈیاں بھی آوازیں دے رہی ہیں؟ ”
میں نے تمھیں بانہوں میں بھر لیا تھا ۔ تم اپنی پوری ہستی میں تھے۔ ۔ ۔ میں نے تمھیں چٹکیاں کاٹی تھیں اور تم پورے وجود کے ساتھ میرے پاس تھے ۔ لیکن برف ، ہوا اور پانی کے سامنے سرنگوں ہو چکی تھی اور یوں لگتا تھا وہ اپنی ریختگی سے لطف اندوز ہو رہی تھی ۔ ۔ ۔ لہروں پر سوار۔۔۔پانی پر ہچکولے لیتے بجروں کی طرح ؛ وہ اس طرح بج رہی تھی کہ وہ آواز مجھے اپنے اندر سے آتی محسوس ہو رہی تھی ۔ پھر وہ ہوا ، ایک ایسی بات جسے میں آج تک نہیں سمجھ سکی ؛ تم مجھ سے جدا ہو کر۔ ۔ ۔ مجھ سے بچھڑ کر۔ ۔ ۔ ساحل کے پتھروں پر چلتے ٹوٹتی برف کے ساتھ ساتھ چلتے گئے ۔ ۔ ۔ دور سے دور ہوتے چلے گئے ۔ ۔ ۔ برف کے کنارے کے ساتھ ساتھ آرام سے چلتے چلتے ان برفانی لہروں کے ساتھ ساتھ اٹھتی ہوئی دھند میں گم ہو گئے ۔ جب تیز ہوا نے دھند میں کچھ شگاف بنا دیا تو۔ ۔ ۔ میں نے تمھیں دیکھا تھا۔ تم پہلے ہی بہت دور نکل چکے تھے ۔ تم پھر کبھی واپس نہ آے تھے ۔
پھر، پھر بھی، تم میرے ساتھ تھے، میں نے تمھیں سہلایا تھا ، تمھاری پسلیوں پر مکیاں ماری تھیں بالکل ویسے ہی جیسے کہ لہریں اور کنارہ موسم گرما کے بارے باتیں کرتے ہیں، کیسے پانی یکجا ہو گا اور گرم ہو گا اور ہم اکٹھے تیراکی کریں گے ۔ ۔ ۔ کیسے میں زیر آب تم سے سرگوشی کروں گی اور تم میری بات سنو گے۔ زیرِ آب میں تمھیں بانہوں میں بھر لوں گی اور ہم ایک ہو جائیں گے ۔
تم نے کہا تھا ۔” میں نہیں ہوں گا ۔ ”
” کیوں؟ ” ، میں نے یہی پوچھا ، لیکن یاد آیا تم تو ٹوٹی برف کے پار دور جا چکے تھے ۔ ۔ ۔ تم نے نہ ہی پیچھے مڑ کر دیکھا تھا ۔ ۔ ۔ نہ ہی تم واپس آئے تھے ۔ ہماری محبت ختم نہ ہوئی تھی ۔ ۔ ۔ صرف ریزہ ریزہ ہی تو ہوئی تھی اور میں اس پر افسوس بھی تو نہ کر سکتی تھی ۔ یہ تمھارا قصور نہ تھا ، تم مکمل رہے تھے ؛ یہ تو میرے اندر کچھ تھا ۔ ۔ ۔ جب اس دن برف ٹوٹی تھی ۔ ۔ ۔ تو تم نے ریزہ ریزہ کر دیا تھا ۔ تم بالکل واپس نہ آئے تھے ۔
میں وہیں کھڑی رہی ۔ پرانے باغ میں تین الواحِ قبور تھیں ۔ ۔ ۔ جو تین کتوں کی قبریں تھیں ۔ ۔ ۔ اب مٹی میں ان کی باقیات بھی نہ رہی ہوں گی ۔ میری ایک خالہ ۔ ۔ ۔ خالہ انگر۔ ۔ ۔ اپنے لاکٹ میں اپنے محبوب کتے ‘ لولو’ کے گھنگریالے بالوں کی ایک گچھی ہر وقت پہن کر رکھتی تھی ۔ لولو ایک ‘ ڈاکشنٹ ‘ (چھوٹی ٹانگوں اور لمبی پشت والا کتا) ؛ لاکٹ میں سجانے کے لئے بالکل مناسب کتا تھا ۔ لوگ بتاتے تھے کہ آنٹی انگر اپنی بہنوں میں سب سے زیادہ حسین اور تاباں چہرے والی خاتون تھی ۔ ۔ ۔ اور اس نے شادی ہی نہ کی تھی ۔ کسی کو علم نہ تھا کہ وہ محبت میں دل شکنی کا شکار ہوئی تھی ۔ ایک پرانی تصویر میں بھی اس کا رخِ تاباں نمایاں ہے ۔ ۔ ۔ تصویر گرچہ پرانی اور سلوٹوں سے بھری ہوئی ہے پھر بھی ان دراڑوں کے نیچے اس کے چہرے کی چمک پھوٹ پھوٹ پڑتی ہے ۔ میں تمھیں وہ تصویر سونپ دیتی لیکن تم تو پہلے ہی بہت دور جا چکے ہو۔
آنٹی انگر کی بڑھاپے میں جو آخری تصویر لی گئی تھی ، وہ اس میں بھی بہت ہشاش بشاش دکھائی دیتی تھی ۔ میں اس کی تابانیِ حسن پر غور کرتی تھی ۔ ۔ ۔ کیا وہ سب اس کی کتوں سے محبت کی وجہ سے ہے؟ یا اس گھر کی وجہ سے ہے ۔ ۔ ۔ اس ارض وطن کی فطری خوبصورتی کی وجہ سے ہے۔ ۔ ۔ لوگوں کی وجہ سے ہے؟ اور کیوں نہیں ۔ ۔ ۔ یہ سب چیزین بھی اس کی محبت کا مقصد ہو سکتی تھیں؟ اسی طرح میں یہ بھی سوچتی ہوں ، اس سب کی وجہ وہ چیزیں نہیں بھی ہو سکتیں ۔ ۔ ۔ ایسا تا عمر کا حسن و تابانی تب بھی ممکن ہے جب کوئی بذات خود اپنی ذات ، اپنے اندروں سے بھی آگہی رکھتا ہو ، مکمل ہو ، اپنی ذات میں مجتمع ہو ، مسرت و الم میں کامل ہو، خلوت و جلوت ہو، خاص کر جب بالکل یک و تنہا ہو ۔ ۔ ۔ جب کسی کی ساتھی صرف خلاء اور خامشی ہو اور فنا کو قبول کر لینے کی مضبوط ترغیب موجود ہو۔
برف کی ہر موسم بہار میں اپنی ایک تقدیر ہے ۔ کیا یہ پانی میں بدل جانے کی تبدیلی پر حیرت کا شکار ہوتی ہے؟ کیا یہ جانتی ہے کہ فنا کے بعد بقا پا جائے گی یا نیست کے بعد ہیست میں آے گی؟ وہ ہرگز نہیں جانتی ۔ ۔ ۔ کیوں کہ وہ پگھل جاتی ہے، یہ اپنی ہستی کھو دیتی ہے، اس کا اپنا وجود ختم ھو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ وہ پانی بن جاتی ہے۔ مجموعی طور پر یہ سب حسن کا جلوہ ہے اور کبھی ہی ، کوئی ہی اس اسرار کو سمجھ پاتا ہے ۔ اس کے بعد یہ بات بے معنی ہے اور اسے اپنے مقدر سے سروکار نہیں رہتا۔ وہ مجتمع رہتی ہے ۔ آنٹی انگر بالکل ویسی تھی ۔ لیکن میرے پاس ایسا کوئی علم نہیں یا سمجھ بوجھ نہیں ۔
یہ ایک بڑا گھر ہے، اس کے گرد سبھی درخت قدیم ہیں ۔ میں ایک پرانے درخت کے گرد چہل قدمی کرتی ہوں ۔ ۔ ۔ اس کے متعلق سوچتی ہوں ۔ یہ اکمل اور یکتا ہے ۔ اسے آرے کے متعلق ، ملیدہ فیکٹری کے متعلق اور سیلولوز فیکٹری کے متعلق سوچنے کی ضرورت نہیں ۔ ۔ ۔ ایک روز یہ جہاں ہے وہیں گر جاے گا اور مٹی میں معدوم ہو کر اکملیت کے درجہ پر پہنچ جاے گا ۔
اور یہ گھر، کیا اسے گرا دیا جاے گا ؟ بادی النظر میں اسے مرمت کی ضرورت نہیں لیکن ، شاید اسے بھی درخت کی تقدیر جیسا انجام مل جائے ۔ میں برف کے ٹوٹ کر گرنے کے وقت سے یہیں موجود ہوں ۔ تم سے باتیں کر رہی ہوں؛ جو مجھے چھوڑ کر چلا گیا ۔ تم جو بالکل فضول باتوں پر ہنسنے والے تھے ۔ محبت درخت نہیں ہے ، نہ ہی ایک قدیم گھر ہے اور نہ ہی لاکٹ میں رکھی کتے کے بالوں کی گچھی ہے ۔ محبت اتنی دیر نہیں رہتی ۔ یہ پانی میں تیرتی برف جیسی ہوتی ہے ۔ پھر بھی تم میری تلخ یادوں میں نہیں ہو ۔ میں تمھیں ہنسنے دوں گی تاکہ تمھارے اندر بھی کوئی چیز ٹوٹ کر بکھر جائے ۔ تمھاری گردن میں حمائل لاکٹ ایک روز کھلے اور اندر سے خالی نکلے ۔ ۔ ۔ صرف ہواؤں سے بھرا خالی پن ۔ ۔ ۔ شکستہ ستارے کی راکھ ۔
میری خالائیں اپنی اپنی محبتوں میں خوش قسمت نہ رہیں ۔ آئرین اور سلینہ کی شادیاں ہوئیں ۔ ۔ ۔ لیکن کیا یہ حقیقت ہے کہ وہ کبھی خوش بھی رہیں؟ آئرین کا شوہر جب نشے میں دھت تھا اور گھوڑے پر سوار تھا تب وہ برفانی دراڑ میں جا گرا ۔ گھوڑا بچ گیا لیکن وہ تب ہی ملا جب بہار آئی ۔ اسے ایک بوڑھے ہٹ نشین نے تب پایا جب وہ اپنے مچھلی کے جال کے ساتھ نبرد آزما تھا ۔ وہ پگھلتی برفوں میں کنارے کے ساتھ ساتھ کشتی کھے رہا تھا ۔ پہلے تو وہ لاش کو کوئی سیل مچھلی سمجھ بیٹھا اور سخت تعجب میں آ گیا کہ کتنی سدھی ہوئی سیل تھی جو دور بھاگنے کے لئے غوطہ نہیں لگا رہی تھی ۔ جب وہ قریب ہوا تبھی اس نے جانا کے اسے کیا مل گیا تھا ۔ وہ اسے چپو سے کھیتا ہوا ساحل پر لے آیا۔ تب وہ آنٹی آئرین کے پاس گیا اور اس سے بولا ۔
” آروڈ لیٹا پڑا ہے اور پوچھ رہا ہے کیا اسے کوئی گھر لاے گا بھی یا نہیں؟ ”
آنٹی آئرین بولیں ۔ ” اسے اب قبر ہی لے جائے گی ” ، اور وہ جنازے کے انتظامات میں لگ گئی ۔ اسے تو اپنی شوہر کی موت کی تصدیق ہو گئی اور یقین بھی لیکن آنٹی سلینا اب تک تصدیق کے انتظار میں ہے ۔ اگرچہ اس کا خاوند گم شدہ ہے ۔ ۔ ۔ اور توقع ہے کہ مر گیا ہو گا پھر بھی وہ اپنے آپ کو بیوہ کہلوانا پسند نہیں کرتی ۔
بڑی خالہ ‘ الن’ پہلی محبت میں ہی ناکام ہو گئیں اور پھر تا عمر انھوں نے کسی مرد پر اعتبار نہ کیا ۔ آنٹی ‘ آرا ‘ کا منگیتر بلا نوشی میں چل بسا تو جلد ہی آنٹی آرا بھی اس کے پیچھے چل بسی ۔ جہاں تک مجھے یقین ہے یہ آنٹی انگر ہی تھی جس نے نہ کوئی مایوسی دیکھی نہ دل شکنی ۔ میری سوچیں ہمیشہ آنٹی انگر کے طواف میں رہتی ہیں ایسے جیسے وہ کوئی مستقل بالذات کوئی روشن ستارہ ہو ۔ اس نے اپنے بچپن کا گھر نہ چھوڑا ۔ ۔ ۔ اور شاید اب تک نہیں چھوڑا ہے ۔ یہ اس کی بے جھجھک روح ہے جو اس گھر کے در و دیوار کو جوڑے ہوے ہے اور ان قدیم درختوں کو مزید ایک سال زندہ رہنے کی طاقت بخشتی ہے ۔
ہم جو اب زندہ ہیں ، ہمارے لئے ادھر ادھر گھومنا ، ہجرتیں کرتے رینا آسان ہے ۔ ۔ ۔ اتنا آسان کہ یہ آسانی و آسائش تکلیف میں بدل جاتی ہے ۔
تم میرے پہلو میں اپنی جگہ خالی چھوڑ گئے ۔ تم مجھ سے دور چلے گئے اور تمھارے جاتے قدموں کی آواز ٹوٹ کر گرتی برف کی موسیقی میں ہے ، اور ایک سرد آہ کی شکل میں لاکٹ میں بند ہے۔ برف ابھرتی اور ٹوٹتی رہتی ہے۔ ۔ ۔ خالی پن آہیں بھرتا اور پلٹتا رہتا ہے ۔ میں ساحل پر کھڑی تمھیں جاتے دیکھتی رہی ۔ ۔ ۔ برف میں گھلتی ملتی تمھاری روشنی ، برف میں دبا درد، پر یاد رکھنا برف کا ٹوٹنا ہمیشہ جاری نہیں رہتا ۔ ۔ ۔ جب تک کچھ ٹوٹنے کو ہو تو ہی ٹوٹتا ہے۔ کیا اس کے بعد کوئی خواہش زندہ رہتی ہے؟ میرا خیال ہے، ہاں ! امید باقی رہتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایوا ٹیکا مشرقی فن لینڈ میں 31 جولائی 1939 ءکو پیدا ہوئی وہیں پلی بڑھی اور ہیلسنکی یونیورسٹی سے نباتیات اور جغرافیہ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد چار سال یہی مضامین پڑھاتی بھی رہی ۔وہ ناول ، افسانے اور پری کہانیاں لکھنے کے علاوہ شاعری بھی کرتی ہے ۔گو اس نے پہلی نظم تیرہ برس کی عمر میں لکھی تھی لیکن اس کی پہلی کتاب
’ Like maple leaves on the skin
تہتر میں سامنے آئی
۔تب سے 2007 ءتک اس کی چوبیس کتابیں شائع ہو چکی ہیں ۔ 2010 ءمیں اسے ’ پرو فن لینڈیا
میڈل سے نوازا گیا تھا ۔
وہ شمالی ’ کیریلیا کے شہر پائی ہیسلکا میں رہتی ہے
غازی غلام حسین













