اہلِ دل کا سرمایہ لا اله الا الله
کیا حسیں ہے یہ کلمہ لا اله الا الله
یہ خدا کے وحدت کا مومنوں ترانہ ہے
ہر نبی نے سکِھلایا لا اله الا الله
جب کسی نے پوچھا کیا دین کی حقیقت ہے
مصطفی نے فرمایا لاالہ الااللہ
کربلا میں احمد کے محترم نواسے نے
ظالمو سےمنوایا لاالہ الااللہ
اک خدا ہی داتا ہے اور وہ ہی آقا ہے
فلسفہ یہ سمجھایا لاالہ الااللہ
شرک سے اسے نفرت ہوگئی خدا شاہد
دل سے جس نے بھی سمجھا مانا لاالہ الااللہ
بدر تا جمل ہر جا کہتے تھے علی مولا
خون میرا گرمایا لا الہ الا اللہ
قبر میں بلال اپنے کام یہ بنائے گا
فضل حق کا ہے مژدہ لاالہ الااللہ
بلال رشید













