اپنے ہی دیس کا سفر دراصل خود کی دریافت کا سفر ہے ۔ اپنی زمین سے جڑی کہانیاں ان میں بستے کردار دراصل ہماری اپنی کہانیاں ہیں اور ان میں  ہنستے بستے رنج  اٹھاتے لوگ دراصل  ہمارا ہی عکس ہیں ۔
ایک اور دلچسپ بات اس ضمن میں  یہ بھی  ہے کہ ہم اس وقت تک خود پر فخر مباهات بھی نہیں کرپاتے کہ جب تک ان تمام ادوار کا مطالعہ نہ کریں کہ جن سے گزر کر
ہماری اپنی تہذیب و تمدن ہم تک پہنچا ہے۔اور یہ یقینی ہے کہ اپنے وطن میں سفر کرتے ہوئے آپ اس کی تاریخ ، لوک داستانوں اور اس کے نظاروں سے اور بھی قریب تر ہوسکتے ہیں۔
اور بلا مبالغہ اپنے وطن کو جانتے ہوئے اپنی جگہ اور اپنی ذات کا احساس ملتا ہے۔ اس کے پوشیدہ جواہرات کی کھوج کرکے اپنے ہم وطنوں کے کارناموں ان کی صفات ، ماضی اور حال کی کامیابیوں پر فخر کرسکتے ہیں ۔ آج ہمارے مہمان ایک ایسی ہی شخصیت ہیں جن کے سفر کا محور اپنا ہی وطنِ  عزیز پاکستان ہے ۔
ان محترم  دوست کا تعلق عارف والا کے ایک گاؤں سے تعلق ہے ۔
ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں 2005سے فرائض منصبی انجام دے رہے ہیں ۔
اردو اور دوسری زبانوں کو سیکھنے ان میں گیت گانے کے بہت شوقین ہیں ۔
ان کے اپنے الفاظ میں ان کا یہ کہنا ہے کہ
“وہ آوازوں کے مرید ہیں”  ۔اب یہ آوازیں خواہ چہچہاتے پرندوں کی ہوں ۔۔پانی کے پرجوش جھرنوں کی ہوں ۔۔ ہوا کے دوش پر سرسراتے پتوں کی ہوں ۔۔ یا انسانی لب ولہجے میں سر و تال سے مزین گیتوں کی ہوں ۔ان کی سماعت ان آوازوں کے پیچھے پیچھے سفر میں رہتی ہے ۔۔ اب خواہ یہ آوازیں قدیم دور کے آثار و کھنڈرات میں بسیرہ کرتی ہوا کی زبانی ان تک پہنچتی ہوں۔
مختلف رنگ کی آوازیں،  قدرت کے نظارے اپنے خطے کی خوبصورتی ان کے خون میں گردش کرتی ہے ۔۔اور اسی کو متعارف کروانے کے لئے وہ تصویریں اور ویڈیوز تیار کرتے ہیں تاکہ ہر آنکھ اس نظارے سے لطف اندوز ہوسکے ۔۔۔
ان کی سفرناموں/سفرانچوں کی کتاب باونی کو ادبی حلقوں میں بہت پذیرائی ملی ہے ۔۔
ان کا کہنا ہے کہ اس کتاب کی کامیابی میری زندگی کی اہم ترین کامیابی ہے ۔
اپنے ملک کی غیر معروف مگر قدیم ترین تہذیب کو سیاحت کے شائقین کےسامنے لے کر آنا ان کے لئے کسی دیرینہ خواہش  کا پورا ہونا جیسا ہے ۔
پاکستان میں گو کہ انکی تیسری نسل ہے ۔۔مگر ہجرت کا دکھ ان کے پرکھوں کے سنائے واقعات ، شاعری اور گیتوں سے ان میں بھی رچ بس گیا ہے ۔۔وہ طفیل نیازی صاحب کے گیتوں کے خصوصیت سے عاشق ہیں جن کی آواز سنتے ہوئے  غنائیت کے ساتھ ساتھ اپنوں سے دوری کا درد بھی پایا جاتا ہے ۔۔
عرفان شہور صاحب آج عالمی اخبار کے مہمان ہیں ۔
ان کو ہم آج کی نشست میں خوش آمدید کہتے ہیں ۔

1 سوال _
آپ نے لکھنے کا آغاز کب اور کیسے کیا؟
اور لکھنے پر تحریک کس باعث ہوئی یا بچپن سے ہی اس کا شوق رکھتے ہیں ؟

ج_یوں تو کسی بھی فن پارے کو معنی اور معنویت کے مکمل ابلاغ کی صورت ہی سامنے آنا چاہیے مگر میرے نزدیک لکھنا پڑھنا بنیادی اساس ہے جو باہری پھیلاو کو درونِ ذات جذب کرنا سکھاتا ہے۔اِس عالمِ صد رنگ و بو کا متن تو ایک طویل عرصے سے مجھ پر کُھلتا رہا ہے۔ جو مجھے لکھنے پر مجبور کرتا ہے۔مگر کائناتی وسعت کا نامختتم سلسلہ پچھلے کچھ عرصے سے تواتر سے طلوع ہورہا ہے

سوال 2_
آپ کے دور میں سوشل میڈیا نہ ہونے کے باوجود آسودگی محسوس ہوتی تھیں مگر آج کے نوجوانوں میں حساسیت کیوں پیدا ہوگئی ہے۔۔ ؟

ج_
مجھے لگتا ہے کہ ہم انتشار اور میکانکی عہد میں سانس لے رہے ہیں ۔ہمارا طرزِ فکر اور طرزِ احساس محض مادیت پرستی پر مبنی ہے۔ہم انفرادی کامیابی کے فوبیاز کا شکار ہیں ۔اور ہر ناکامی ہمیں حساسیت میں مبتلا کرتی ہے۔یوں تو حسد کرنا بھی حساس شخص کی نشانی ہے مگر وہ منفی جذبہ تنہائی کی طرف دھکیلتا ہے۔جذباتی ناآسودگی اور حقائق کی غلط تشریح ہمیں مایوس کرتی ہے۔یہ بات ایک مثبت پہلو بھی رکھتی ہے کہ سوشل میڈیا کے دور میں ہم نے اسی جذبے کے تحت ایک دوسرے کی مدد کرنا قدرے بہتر انداز میں سیکھا اور طے شدہ سلوگنز کو توڑنے میں حساسیت ایک اہم فیکٹر ہے

3سوال_
آپ کے لکھے کو کب پہلی بار سراہا گیا اور “باونی” لکھنے کا خیال کیسے آیا؟

ج_
یہ دلچسپ بات ہے کہ جب تک احساس کی سطحیت تھی تب تک ہر شخص کی پذیرائی قبول تھی مگر اندرونی تفکر اور غیر روایتی زندگی کے در کُھلتے ہی داد و تحسین سے بیگانگی ہونے لگی ہے اور اب خود کو سراہنا اور فطرت کی جمالیات کو محسوس کرنا احسن عمل لگتا ہے۔اپنے مشاہدات اور تجزیاتی پیرائے بھی اُسی سُرعت سے تبدیل ہو کر نئے معیارات مرتب کرتے ہیں۔مجھے اپنی حدیں خود متعین کرنا زیادہ فطری عمل لگتا ہے۔میرے سفرانچے مختلف ادبی جرائد میں چھپتے رہے ہیں اور مختلف آرا مجھ تک پہنچتی رہی ہیں ۔مجھے لگتا ہے کہ طویل سفر ناموں کا زمانہ گزر گیا ہے اب اختصار اور جامعیت کے ساتھ کسی سفری کہانی کو لکھنا زیادہ موزوں ہے۔اسی لیے مجھے سفرانچہ لکھنے کا خیال آیا اور پھر اُسے کتابی شکل میں سامنے لانا ایک خوشگوار تجربہ تھا۔

4_ سوال
لکھنے والے کا اپنے مزاج سے نزدیک لکھنا بہتر ہے یا قاری جو پڑھنا چاہیں اسے لکھنا اچھا ہے؟

ج_ رولاں بارت کی ایک مشہور اصطلاح کے مطابق دوسروں کی خواہشات پر لکھنے والے کو محرر کہنا چاہیے۔مجھے لگتا ہے ہمیں تخلیق اور متن سے پہلے کی زندگی جی لینی چاہیے۔بغیر جسم کی ریاضت اور دھڑکتی روح کی صداقت کے، کس طرح کسی فن پارے کو عملی شکل دے سکتے ہیں؟ ۔ہر تخلیق کو فطری پیرائے میں پروان چڑھنا چاہیے

5سوال _

لکھنے والوں کی شہرت یا تو شاعری کے بل بوتے پر ہوتی ہے یا کہانی بننا ان کو مقبول بناتا ہے ۔
مگر آپ کے سفرنامے قدرت سے لگاؤ اور تاریخ کا مطالعہ آپ کا وصف ہے۔۔
شعر و نثر سے ہٹ کر سفرناموں کو اس صورت تحریر کرنے کا خیال کیونکر آیا ؟

ج_میرے نزدیک فن پاروں میں ہئیت کی بحث لایعنی ہے۔مقبول اصناف میں لکھنے والے بھی نئی کہانی یا نئے منظرنامے تخلیق کرنا چاہتے ہیں اور کبھی کبھار کامیاب ہوجاتے ہیں ۔مجھے بھی نئی آوازیں سُننے اور نئے منظر دیکھنے کا جنون ہے اور میں اُن آوازوں کے گداز سے خوب واقف ہوں۔بس فرق اتنا ہے کہ کچھ عرصہ قبل اُن آوازوں کے کچھ رنگ سفرانچے کی صورت بکھیر دئیے ہیں ۔میں مختلف زمانوں میں الجھی ہوئی روحوں سے گفتگو کرتا ہوں اور میرے لیے یہ عمل کارِ نشاط ہے۔اب میرے سفرانچوں سے قارئین نے کتنا لطف اُٹھایا وہ بہتر فیصلہ کرسکتے ہیں ۔

6سوال _
آپ ہندو مسلم عیسائی ہر عبادت گاہ کے آثار کا مطالعہ کرتے ہیں اور ان کی تاریخ کھوج لاتے ہیں ۔ایسے میں ہمارے مزہبی عقائد کے مطابق کسی پریشانی کا سامنا ہوا ؟

ج _
اگر کہا جائے کہ سماج اور فنونِ لطیفہ سے تعلق رکھنے والے دو انتہاؤں پر ہیں تو شاید غلط نہیں ہوگا۔اگرچہ یہ ڈائیورسٹی حُسن بھی رکھتی ہے۔مگر مذہبی اور عسکری قواعد و ضوابط والے لوگ ہم جیسے بے لگام آرٹسٹوں کو فرسودہ تصور کرتے ہیں ۔لیکن مجھے کوئی شکایت نہیں ہوتی ۔یہ راستہ ہمارا اپنا ہے اور ہمیں دو انتہاؤں کو رواداری کے ساتھ بیلنس کرنا ہے۔اور اس عمل کے دوران کسی بھی ردعمل کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنا ہے

سوال 7_
آپ کے پڑھنے والے کبھی کبھار کچھ خاص باتوں پر معترض بھی ہوجاتے ہیں تو کیا ایک لکھنے والے کو لوگوں کے رد عمل پر لکھنے کا انداز تبدیل کرنا چاہیئے ؟

ج_
ردعمل کی زندگی اور نمائشی طمطراق میرے نزدیک فطری زندگی سے انحراف ہے۔یہ ایک طرح سے مصنوعی پن کی ابتدائی شکل ہے جو ایک نقلی زندگی جینے کی طرف مائل کرسکتی ہے۔دوسروں کے ردعمل پر لکھنے کی ہر کوشش بہت پھیکی اور بدذائقہ ہوسکتی ہے۔کوئی بھی تخلیق کار بڑی عرق ریزی سے عناصر کا کھوج لگا کر تخلیقی رفعت سے رس کشید کرتا ہے۔میخائل باختن نے انسانی سائیکی کے آرکیٹکٹونک ماڈل میں جن پہلوؤں کو ڈسکس کیا تھا وہ تخلیق کے حوالے سے نہایت اہم ہیں ۔”جِس میں وہ قلب اور روح کے احساس اور عرفانِ ذات کے مختلف حصوں کو بیان کرتے ہیں”

8_سوال
بحثیت قاری آپکی دانست میں لکھنے والے کا معیار کس طرح طے کیا جاتا ہے ؟

ج_کسی بھی فن پارے کا معیار وقت طے کرتا ہے۔بعض اوقات کسی معروف پلیٹ فارم سے پرفارم کیا گیا تخلیقی متن مشہور ہوجاتا ہے لیکن بہت کم سمے میں اس کو لوگ بھول جاتے ہیں ۔اور بعض اوقات اپنے وقت میں غیر معروف تخلیقی فن پارہ انتہاوں کو چھو جاتا ہے۔یہ سب کچھ تخلیق کے متن پر منحصر ہے اگر کسی فن پارے میں آفاقی سچائیوں،موضوعاتی تنوع، جدت طرازی اورطلسماتی جہانوں کی گرہیں کھولی جائیں تو اُس کے سراہنے والے جلد یا بدیر ضرور سامنے آجاتے ہیں جو اس معیاری فن پارے کی قدر کرتے ہیں ۔

9سوال _
خود آپ اپنے مطالعے کے لئے کن کتابوں کو زیادہ منتخب کرتے ہیں؟

ج_ مجھے اجنبی جگہوں اور ان دیکھی دنیاؤں کے بارے میں جاننا بہت اچھا لگتا ہے۔قرآن مجید اور بائبل کے بہت سارے قصے مجھے زبانی یاد ہیں اور میں خواہش رکھتا ہوں کہ اُن جگہوں کے بارے میں مزید جان سکوں۔اسی طرح گیبریل گارسیا مارکیز، ایملی برونٹے اور ایلی ولسر کی کہانیاں مجھے فکری جمود توڑنے اور نئی دنیاوں کے کرداروں سے ملوانے میں مدد کرتی ہیں۔

10 سوال _
کس شاعر یا ادیب نے آپ کو سب سے زیادہ متاثر کیا ؟

ج_ مجھے شاعری میں امیتوج،جوش ملیح آبادی، میرا جی، جگر مراد آبادی اور، مجید امجد نے شدید متاثر کیا ہے۔اس کے علاوہ خورخے لوئیس بورخیس،میخائل نعیمی،شمس الرحمن فاروقی، رسول حمزہ توف اور رلکے پسندیدہ ترین ہیں

11سوال
نئے لکھنے والوں یا نوجوانوں کی تحریر میں بڑھتی ہوئی منفییت یا مایوسی کی کیا وجہ محسوس ہوتی ہے؟

ج_
مقابلے کی فضا اور کثیر خواہشات کا دباو یاسیت کا سبب ہوسکتا ہے۔ہم یاسیت کو کسی متعین اسلوب میں وضع نہیں کرسکتے لیکن اس قنوطیت کی مختلف جہات نظر آتی ہیں۔کسی دوسرے تخلیق کار کا ہم سے آگے بڑھنا اور معاصر تخلیقی دھارے سے کٹ جانا ہمیں بیگانہ کرتا چلا جاتا ہے۔جب تک ہمیں دوسروں کے فن پاروں کو سراہنے کی ٹریننگ، دوسرے ادیان اور مذاہب کی وزڈم اور دیگر ہم آہنگی کے موضوعات کو بڑے پیمانے پر قبول کرنے کا طریقہ نہیں آئے گا ہم یاسیت کا شکار ہوسکتے ہیں ۔

سوال12

آپکی شاعری میں فطرت سے محبت کا رنگ نمایاں ہے۔۔ پڑھنے والوں کو ایسا تاثر کیوں ملتا ہے؟؟ گو کہ یہ ایک مثبت رنگ ہے ۔

ج_
میں جس انداز سے زندگی بسر کرنے کا عادی ہوں بالکل اسی رنگ میں اظہار کرنا مجھے تخلیقی طور پر پسند ہے۔پنجاب کے کھیت کھلیان، وسیع میدان اور سرسبز چراگاہوں کو اپنے موضوعات بنانا اور اپنے تئیں ایک نئی صورت میں پیش کرنا مجھے اچھا لگتا ہے۔اسی طرح جبر کی ہر صورت مجھے ناقابل قبول ہے۔میرے نزدیک کسی بھی قوم کے اوپر ظلم ہوتا دیکھنا اور اُس ظلم کے خلاف ردِعمل دینا میرا دھرم ہے۔ویسے تو پڑھنے والے کے کسی بھی تاثر کو قبول کرنا چاہیے مگر عین وہی تاثر جو تخلیق کار کے شعوری اور لاشعوری وجدان میں ظہور ہورہا ہو اُسی انداز کو سمجھنے والے قارئین بھی بھلے لگتے ہیں

13سوال _
کیاصرف لکھنے سے معاشرے میں سدھار کی توقع رکھتے ہیں ؟

ج_ تخلیق کار کا کام شاید سدھار نہیں ہوتا کہ اُس کے فن پارے سے کوئی انقلاب برپا ہوسکے۔مگر خود تخلیق کار ایک واضح سوچ اور نظریہ رکھ سکتا ہے جس سے لوگ متاثر ہو جاتے ہیں اسی لیے ہومر، ورجل ، دانتے ،بلھے شاہ، سیفو، معری ، خاقانی، ابن عربی ، لاؤ یو ،بھگت کبیر، باشو عالمی ادب کی بڑی ہستیاں ہیں اور قارئین ان سے متاثر ہیں لیکن ان میں سے کسی نے بھی باقاعدہ تبلیغ نہیں کی ۔تخلیق تو بغیر عقلی وضاحت اور سوچے سمجھے منصوبے کے، سراسر ذاتی واردات ہے اگر اُس سے کوئی سدھار ممکن ہے تو یہ خوش آئند پہلو ہے

14سوال _
نو آموز شعرا و لکھنے والوں اور اپنے قارئین کو کیا پیغام دینا چاہیں گے

ج_
مجھے نئے اور خود سے بہتر لکھنے والوں سے توقع ہے کہ وہ عصری حقیقتیں اور زمان و مکان کے دائرے توڑنے کی ہرممکن کوشش کریں گے۔اس زمانے میں کچھ لوگ اپنے عہدوں اور شعبدہ بازی سے متاثر کرنا چاہتے ہیں اُن سے بچ کر اپنی راہ خود متعین کیجیے ۔معاصرین کے فن پاروں سے آگاہ رہیے اور چہار جانب پھیلے نیلگوں فلک کی بلندیوں کو چھونے کے لیے اپنے بازوؤں کو پر بنائیے کسی پر انحصار کرنا شخصی آزادی پر پہلی ضرب ہے اس لیے خالص پن کے ساتھ اپنی تخلیقی اور لاشعوری دنیا کو خود دریافت کریں اس حسین کائنات کی خوبصورتی میں اضافہ کا سبب بنیے۔۔

عرفان شہود صاحب اس قدر دلچسپ اور معیاری گفتگو کے لئے ہم تہہ دل سے ممنون ہیں اور آپکی ان مثبت سرگرمیوں میں مزید اضافے کے لئے اور نئی دریافت کے منظر عام پر لانے کے لئے ہم دعا گو اور منتظر رہیں ۔گے، عالمی اخبار کی طرف سے بہت شکریہ

روما رضوی

SHARE

LEAVE A REPLY