قسط اکیاون
ظہر کی نماز کے وقت
سعید بن عبداللہ حنفی کے ہمراہ زہیر بن قین بھی
امام حسین علیہ السلام کی حفاظت کیلئے
دشمن کے تیروں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے تھے
سعید بن عبداللہ حنفی شہید ہو چکےتھے
پر ۔۔ نماز گزاروں نے اپنی نماز قائم کیں
نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد
زہیربن قین نے
امام حسین علیہ السلام سے میدان کربلا جانے کی اجازت چاہی
ان کے لئے اپنی عقیدت بیان کرتے ہوئے کہا
” اے ہدایت یافتہ
لوگوں کے رہنما
آگے بڑھتے جایئے
آپ اپنے جد نبی اکرم(ص) سے ملاقات کریں گے
اسی طرح
حسن مجتبی ع
علی مرتضی ع
دلیر انسان جعفر طیار
اورشیر خدا اور شیر رسول جناب حمزہ علیہ السلام سے ملاقات کریں گے”
یہ وہی زہیر بن قین بجلی تھے
جو
قبیلہ بجلیہ کے بزرگان میں سے تھے اور کوفہ میں زندگی گزارتے تھے
آپ کوفہ کے بہادر اور شریف افراد میں شمار ہوتے تھے
ان کے والد محترم “قین” صحابی رسول ص تھے
یہ وہی زہیر بن قین بجلی تھے
جو خلیفہ سوئم حضرت عثمان رض کے حامیوں میں سے تھے
لیکن
سنہ 60 ہجری میں
زہیر اپنی بیوی اور رشتہ داروں کے ساتھ تھے
مناسک حج سے واپسی کے سفر پر
کوفہ کے راستے میں
مقام “زَرُود” پر
امام حسین علیہ السلام سے آمنا سامنا ہوا
پھر امام عالی مقام سے ملاقات کی اور ان کے ہو گئے
یہ وہی زہیر بن قین تھے
جب
ذو حسم کے مقام پر
لشکر حسینی کا سامنا لشکر یزید سے ہوا
امام حسین علیہ السلام نے خطبہ دیا
ارشاد فرمایا
” کیا تم نہیں دیکھتے ہو
کہ
حق پر عمل نہیں ہو رہا ہے
اور باطل سے منع نہیں کیا جا رہاہے
ایسے میں
مومن کو حق کا حامی ہونا چاہیئے
اور
اپنے پروردگار سے ملاقات کیلئے تیار ہونا چاہئیے
میں
موت کو شہادت کے سوا کچھ نہیں سمجھتا
اور
ظالموں کے ساتھ زندگی گزارنے کو
ذلت اور رسوائی کے علاوہ کچھ نہیں سمجھتا ”
امام(ع) کی تقریر ختم ہونے کے بعد
زہیربن قین پہلے شخص تھے
جنہوں نے امام عالی مقام سے کہا
“یا ابن رسول اللہ !
ہم نے
آپ کے کلام میں موجود بلند و بالا معارف کو سنا
اے فرزند رسول خدا ص
اگر ہمیں معلوم ہوتا
کہ
ہم ہمیشہ اس دنیا میں زندہ رہیں گے
اور
اس کی تمام سہولیات سے متفید ہونگے
تو پھر بھی
ہم
آپ کے رکاب میں شہید ہونے کو ترجیح دیتے “
یہ وہی زہیر بن قین تھے
جب
میدان کربلا میں
عبیداللہ بن زیاد کی فوج میں عزرہ بن قیس کو تنبیہ کی تھی
کہا تھا
” اے عزرہ
میں تمہارا خیر خواہ ہوں
خدا کیلئے
نیک اور صالح بندوں کو قتل کرنے میں
گمراہوں اور ظالموں کی مدد کرنے والے افراد میں سے مت ہو جاؤ
یہ وہی زہیر بن قین تھے
شب عاشور
امام حسین علیہ السلام نے
جب
اپنے اصحاب اور اپنی اہل بیت(ع) سے اپنی بیعت اٹھا لی
اور انہیں امام(ع) کو چھوڑ کر جانے
اور
اپنی جان بچانے کی اجازت دے دی
تو
آپ کے باوفا اصحاب میں سے
ہر ایک نے اپنی وفاداری اور ثابت قدمی کا اظہار کیا
اہل بیت ع کے بعد
مسلم بن عوسجہ
اور
ان کے بعد
زہیر بن قین نے کھڑے ہو کر عرض کیا تھا
“خدا کی قسم !
مجھے مارا جائے پھر زندہ کیا جائے
اور دوبارہ مارا جائے
اس طرح ہزار مرتبہ بھی مجھے مارا جائے
اور بدلے میں
آپ(ع) اور آپ کے اہل بیت(ع) کو خدا محفوظ رکھے
تو
میں بار بار مرنا پسند کرونگا “
یہ وہی زہیر بن قین تھے
روز عاشور
جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے
تو
زہیر بن قین
جنگ شروع ہونے سے پہلے
امام حسین علیہ السلام کی اجازت سے
کوفہ والوں سے مخاطب ہوئے
” اے کوفہ والو!
میں تمہیں خدا کے عذاب سے ڈراتا ہوں
کیونکہ
مسلمان کےدوسرے مسلمان پر
جو حقوق ہیں
ان میں سے ایک یہ ہے
کہ
ایک دوسرے کو نصیحت کریں
ایک دوسرے کیلئے خیر اور نیکی طلب کریں
جب تک
تلوار ہمارے اور تمھارے درمیان فیصلہ کرے
ہم ایک دوسرے کے بھائی ہیں
اور
ایک دین کے پیروکار اور ایک ہی قوم ہیں
اس بنا پر
ہمارے اوپر تمہارا یہ حق ہے کہ تمہیں نصیحت کریں
لیکن جب
تلوار ہمارے اور تہمارے درمیان فیصلہ کرے
اور
ہمارے اور تمہارے درمیان موجود رشتے کو توڑ ڈالے
تو
اس وقت
ہم ایک ملت ہیں اور تم دوسری ملت ہو
جان لو
کہ
خدا نے
پیغمبر اکرم(ص) کے اہل بیت(ع) کے ذریعے
ہمیں آزمایا ہے
تاکہ
یہ دیکھ لیں
کہ
ہم ان کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں
میں تمہیں
ان کی حمایت
اور
عبیداللہ بن زیاد کے خلاف بغاوت کی دعوت دیتا ہوں
تم لوگوں نے
عبیداللہ بن زیاد اور ان کے والد کی حکومت سے
برائی اور ظلم کے سوا کچھ نہیں پایا
یہ وہی لوگ تھے
جنہوں نے
تمہاری آنکھوں نکال دیں
تمہارے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالے
تمہیں دریدہ بدن کر ڈالا
اور
تمہارے بزرگوں
حجر بن عدی اور ان کے ساتھی
ہانی بن عروہ اور ان کے ساتھیوں کو سولی پر چڑھا دیا”
یہ وہی زہیر بن قین تھے
جو
حبیب بن مظاہر کی شہادت کے بعد
حر بن یزید ریاحی کے ساتھ میدان کربلا گئے تھے
حر شہید ہو گئے اور آپ خیمہ گاہ کی طرف لوٹ آئے تھے
اور
ظہر کی نماز کے وقت
سعید بن عبداللہ حنفی کے ساتھ
امام عالی مقام کی حفاظت کیلئے کھڑے ہوئے تھے
اور ۔۔۔۔ اب
سعید بن عبداللہ حنفی کی شہادت کے بعد
امام حسین علیہ السلام سے
میدان کربلا میں جانے کی اجازت طلب کر رہے تھے
اور کہہ رہے تھے
“میں قین کا بیٹا زہیر ہوں
اور
اپنی تلوار سے امام حسین(ع) کی ناموس کا دفاع کرونگا
امام حسین علیہ السلام
رسول خدا(ص) کے دو نواسوں میں سے ایک ہیں
ایک ایسے خاندان سے ہیں
جن کی زینت نیکی اور تقوی ہے
اس وقت
وہ خدا کی حجت ہیں
پیغمبر کی نسل سے ہیں
اور
میں ان میں کسی عیب کو نہیں جانتا “
زہیر بن قین نے
میدان کربلا میں
دشمن کے 120 افراد کو ہلاک کیا
آخر کار
زہیر کثیر بن عبداللہ شعبی اور مہاجر بن اوس تمیمی نے
زہیر بن قین کو شہید کر دیا
امام حسین علیہ السلام نے
زہیر کی شہادت کے بعد فرمایا
” اے زہیر
خدا تمہیں اپنی رحمت سے دور نہ کرے
تمہارے قاتلوں پر خدا کی لعنت ہو
اور
تمہارے قاتلوں کو
بنی اسرائیل کے
مسخ شدہ افراد کی طرح
ہمیشہ کیلئے اپنی لعنت میں گرفتار کرے “
سلام ہو زہیر بن قین بجلی پر
سلام ہو آپ پر
آپ وہ مرد مجاہد ہیں
جسے
امام حسین (ع) نے واپس جانے کی اجازت دے دی تھی
پر آپ نے کہا تھا
“ نہیں خدا کی قسم
میں ہرگز رسول خدا (ص) کے بیٹے کو
جس پر خدا کا درود و سلام ہو، تنہا نہیں چھوڑونگا
سلام آپ پر زہیر بن قین
آپ نے کہا
“ رسول خدا(ص) کے بیٹے کو دشمن کے نرغے میں
اسیری کی حالت میں چھوڑ دوں
اور ۔۔۔۔۔ اپنے آپ کو نجات دے دوں؟
خدا مجھے ایسا دن نہ دکھائے “
سلام آپ پر زہیر بن قین
خدا پاک
ہم سب کو بھی
ایسی جرات ۔۔ایسا اظہار ۔۔ایسی وفاداری عطا فرمائے
الہی آمین
جاری ہے













