ندائے قلم
قلم کو لکھنے کا شوق ٹھہرا
تو اب وہ چاہے تو درد لکھے
ٹھٹھرتے لہجے کو سرد لکھے
کسی کے چہرے کو زرد لکھے
وہ چاہے اپنا خیال لکھے
یہ زندگی ہے وبال لکھے
ثباتِ دنیا محال لکھے
کمال لکھے!! جلال لکھے
سیاہی، آبِ زُلال لکھے
وہ جگ ہسائی کا حال لکھے
وہ کاہلوں کو فعّال لکھے
اہانتوں کی مجال لکھے
حجر کو مثلِ سفال لکھے
وہ جب بھی عمدہ خیال لکھے
محاسنِ قیل و قال لکھے
وہ بڑھ کے بڑھیا مثال لکھے
یا آنکھ چشمِ غزال لکھے
یہ روح کو کر نہال لکھے
تو عہدِ ماضی و حال لکھے
عروج لکھے زوال لکھے
قلم کو لکھنے کی آ رزو تھی
قلم کو لکھنے کی اہلیت ہے
جنون لکھے، فنون لکھے
یہ کُن یا پھر فَیَکُون لکھے
فساد لکھے سکون لکھے
محبتوں کے نصاب لکھے
ثواب لکھے عذاب لکھے
سجے نظر کے خواب لکھے
یا خار کو پھر گلاب لکھے
کمیں کو عزت مآب لکھے
چمار،بھنگی، نواب لکھے
جو جی میں آئے جناب لکھے
وہ ایک عالم کباب لکھے
قلم کو لکھنے شوق ٹھہرا
تو اس کی مرضی وہ لکھتا جائے؟
سنو! قلم کیا کہہ رہا ہے
خدا نے اس کو گواہ کیا ہے
تو اِذن لکھنے کا دے دیا ہے
رہینِ حرمت اسے کِیا ہے
مقدسوں کی ہے یہ امانت
اثاثہ اس کا ہے بس دیانت
طریق اس کا نہیں خیانت
قلم کو بس تم سنبھال رکھنا
کہ دل کا ساگر وِشال رکھنا
قلم سے وابستہ عظمتیں ہیں
تم اس کی عظمت بحال رکھنا
قدم قدم یہ خیال ر کھنا
صداقتوں کو مآل رکھنا
قلم کا ہردم خیال رکھنا
قلم کا ہردم خیال رکھنا
طاہرہ مسعود














شکریہ ۔ مہربانی