اِس سے اِنکار نہیں ہے کہ رواں صدی کے قومی حکمران و سیاستدان ہوں کہ عالمی سطح کے پولیٹیشنزیا سیاسی رہنماءسب ہی کے مزاج آسمان کی بلندیوں کو چھورہے ہیں، خداجانتاہے کہ اِنہوں نے اپنے سِوا اپنے ممالک اور اقوام کے لئے کبھی کچھ اچھانہیں کیا ہے۔مگرپھر بھی اِن کے پیرزمین پر نہیں پڑتے ہیں ۔جب اِن سے مِلوعوام سے سب ہی خفارہتے ہیں،یعنی کہ اِنہیں اقتدار کی کُرسی تک پہنچانے والے ہی اِن کے دُشمن لگتے ہیں حالانکہ حکومت بنانے کے بعد یہی حکمران اور سیاستدان اپنے کرتوتوں سے خود کو عوام کا دُشمن بنا کر پیش کرتے ہیں مگر پھر بھی عوام اِن پر واری جاتے ہیں۔بیشک عوام بڑے صابرہوتے ہیں ورنہ؟
عرض یہ کہ انٹرنیشنل اور نیشنل سیاستدانوں کی اپنے لحاظ سے ہٹ دھرمی انتہاکو پہنچ چکی ہے،اپنے سیاستدانوں اور حکمرانوں کی بات کیا کریں؟ اِن سے متعلق تو ہم سب ہی جانتے ہیں۔ چلیںچھوڑیں۔اَبھی تھوڑی بات ہوجائے، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہوکی جس نے ہٹ دھرمی کی تو حد ہی کردی ہے۔ نیتن نے انتہائی ٹھٹائی اور بغیر تی کا مظاہر کرتے ہوئے سینہ چوڑا کرکے کہاہے کہ میری کرپشن پر استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والے میرا کام اور مقام سمجھیں۔ مُلک کے لئے میری پیش کی گئیں۔ خدمات کا احترام کریں۔ اگراستغاثہ نے کرپشن کے ا لزام میں مجھ پر فردِ جرم عائد کی تو بھی میں استعفیٰ نہیں دوں گا ۔“جی یہ تو بات ہوئی اسرائیلی وزیراعظم کی مگر افسوس ہے کہ ہمارے سیاستدان بھی دنیا کے ایسے ویسے سیاستدانوں سے کچھ کم نہیں ہیں۔ اِنہوں نے بھی قومی خزا نے سے اربوں کی کرپشن کیں ہیں۔پھر بھی یہ ”میںنہ مانو “کی ضد پر آڑ کر ہٹ دھرمی کی تمام حدیں پھلانگے جارہے ہیں۔گوکہ ، آج ہمارے جے آئی ٹی بنانے اور نیب و دیگر احتساب کرنے والے اداروں کی تحقیقات کو جھٹلانا قومی ملزموں کا مشغلہ بن گیاہے۔ سوچیں،آخر کب تک بلی چوہے کی جنگ جاری رہے گی۔ ؟؟آخر کار بلی کا نوالہ چوہے کو بننا ہی پڑے گا۔
بہر کیف ،مُلک کا ایک بڑا سنجیدہ طبقہ جانتا ہے کہ آج مُلکی جمہوریت اور سیاست میں جو کچھ بھی ہورہاہے۔ اِن سارے معاملات میں کم از کم نیا پاکستان کا نعرہ بلند کرکے اقتدار کی چِڑیاکو بڑی خوبصورتی سے اپنی ہتھیلی میں پکڑنے والوں کا قصور نہیں ہے، اِس قصے میں قصور اِن پرانے سیاسی کھلاڑیوں اور چکمہ بازوں اور چالبازوں ہی کا ہے ۔جنہوں نے جمہوریت اور سیاست کو اپنے گھرکی لونڈی اور رکھیل سمجھ رکھاہے۔اَب اِس پر کوئی کچھ بھی کہے ۔مگر حقیقت یہ ہے کہ رواں حکومت نے تو ابھی جمہوریت اور سیاست کا قاعدہ اپنے نصاب میں شامل کیا ہے۔یہ جمہوریت اور سیاست کے نشیب وفراز اور رموز سمجھنا چاہ رہی ہے تب ہی مسلسل پھونک پھونک کر اپنے قدم آگے بڑھاتے ہوئے، مُلک سے کرپٹ عناصر کا محاسبہ کرکے مُلک اور قوم کو باریاں لگا کر لوٹ کھا نے والے سابق حکمرانوں اور سیاستدانوں کی شکل میں حکمران ٹولے سے چھٹکار پانے کا عزم لئے ہوئے ہے ۔ تو اِس کام میں پوری طرح قومی اداروں ، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیااور عوام کو بھی حکومت کے شانہ بشانہ کھڑے ہوناچاہئے جو کہ ابھی تک نظرنہیںآرہاہے۔
یہ ٹھیک ہے کہ پہلے تورواں حکومت کے ذمہ داربھی دھرنا یا دھرنی سیاست کی ہی پیداوار رہے ہیں۔ اَب جبکہ اِن کے اُصولی دھرناپروگراموں اورقومی خزا نہ سے لوٹ مارکرنے والوں کے خلاف احتجاجی تحریکوں اور اِن کی بائیس سالہ کاوشوں کے بعد حکمرانی ہاتھ لگ ہی گئی ہے۔اَب تو خدارا پرانے ، لوٹ کھسوٹ کرنے والے مردہ گھوڑے جیسے ہمارے سیاستدان حکومت کی ٹانگیں نہ کھینچیں ۔اِسے اپنے انداز سے مُلکی آئین اور قوانین کے مطابق کام کرنے دیں۔خدا کی پناہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی 135یا145دِنوں کی حکمرانی میں اپوزیشن والے چیخ چلا کر رغنہ تو نہ ڈالیں، خدا کی پناہ ہے کہ اپوزیشن نے تھوڑے دِنوں کی حکومت کی ناک میں دم کرکے رکھ دیاہے۔ اگر اپوزیشن والوں نے خود کو ٹھیک نہ کیا اور اپنا قبلہ درست نہ کیا۔ تو سب کچھ سب کی توقعات کے برعکس ہونے میں کوئی دیر نہیں لگے گی۔تب نئے پرانوں کے ہاتھوں سِوائے پچھتاوے ، اور کفِ افسوس کے کچھ نہیں آئے گا، جمہوری چِڑیا پُھر سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اُڑجائے گی،سیاستدانوں کی رہی سہی بچھی بچھائی جمہوری بساط پلٹ دی جائے گی اور سیاسی کھیل بھی ختم ہوجائے گا۔ پھر کسی کو کہیں چھپنے کے لئے ایک انچ کی بھی جگہہ اور زمین نہیں ملے گی۔ ویسے یہ بات تو ماننی پڑے گی کی وطن عزیزسمیت ساری دنیا کے سیاستدانوں نے تو ہر زمانے کی ہر تہذیب کے ہر مُلک اور معاشرے میں اپنے دوغلے قول و کردار سے سیاست کے جتنے پرکھچے کئے ہیں اِس سے تو سب ہی واقف ہیں ۔رواں صدی میں سٹیونسن نامی ایک دانشور گزراہے۔ جس کا سیاست کے بارے میں کہنا ہے کہ ”لگتاہے کہ سیاست کو ایک ایسا پیشہ بنادیاگیاہے کہ جس میں کسی قابلیت ومہارت کی ضرورت نہیں“یقینا اِس نے اپنی یہ بات اُس وقت اور آنے والے زمانوں کے سیاستدانوں کے چھچھورے پن کو ہی دیکھ کر کہی ہوگی جو آج سچ ثابت ہورہی ہے۔ اِسی طرح گزرے وقتوں میں شہید بے نظیر بھٹو نے ایک موقع پر کہا تھا کہ ” سیاست کی بڑی سنجیدہ اور دُوررَس ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ سیاست قوم کے وجود میں اِس کے احیا کی بنیاد ہوتی ہے“ مگر ایک ہمارے سیاستدان ہیںکہ جو سیاست کی روح کو سمجھے بغیر ہی سمندرِ سیاست کی تلاطم خیزی میں جھوم جھوم کر غوطہ زن ہیں، یقیناجو سیاست کی روح کو سمجھ کر بھی انجانے بنے ہوئے ہیں۔ جن کا اپنا ہی قول و فعل اور کردار منافقت کی کشتی میں سوار ہے، جن کی اپنے مخالفین سے متعلق سیاسی زبان درازی سے ایسا لگتاہے کہ جیسے یہ دانستہ جمہوری بساط پلٹنے کے در پر ہیں، اور سب کچھ یکدم لٹ پھیر کرنے پر تُلے بیٹھے ہیں گوکہ شہید بے نظیر بھٹو کے سُنہرے الفاظ معنی اور مفہوم کے اعتبار سے اپنے اندر بڑی گہرائی ضروررکھتے ہیں مگر افسوس ہے کہ آج اِدھر سے اُدھر تک کوئی ایسا نہیں ہے جو محترمہ شہید کے جملے اور اِن کے معنی کوسمجھے اور اِس پر عمل کرکے فکرِ بھٹو،نظریات بھٹو اور کلیاتِ بھٹو کا پرچار کرکے سیاست کو درست مقام دِلا ئے اوراپنے شہداءکی روح کی تسکین کا باعث بنے اور عوامی خدمات کی اُوٹ سے منی لانڈرنگ سے صریحاََ اجتناب برتے ۔
بہر کیف ،کیا یہ عجیب اتفاق نہیں ہے کہ سرزمینِ پاکستان میں بالخصوص اور بالعموم دنیابھر میں 21ویں صدی میں شعبہ سیاست بدنامی کی اُس اِنتہا کو پہنچ چکاہے، اَب جہاں سے اِس کا زوال شروع ہوگیاہے، گزری صدیوں میں گوئٹے نے سیاست سے متعلق کہا تھا کہ” سیاست اِنسان کی آسمانی سرگرمی ہے جس سے لاکھوں اِنسانوں کی زندگیاں اور تقدیریں وابستہ ہوتی ہیں“ مگر آج تو میدانِ سیاست کے کھلاڑی سب کچھ اِس کے اُلٹ کررہے ہیں ، ہر سیاست دان اِنسانوں کی زندگیوں کا سُودا گر بنا ہوا ہے، سیاسی پنترے بازی سے حکمرانی کی کنجی ہاتھ میں آتے ہیں، ہر سیاستدان اِنسانوں کے سر قلم کررہاہے اور مقتولین کے سروں کی کُرسی بنا رہاہے اور اِس پر سوار ہوکر اپنی حکمرانی کے چکرپورے کررہاہے۔کیایہی سیاست ہے ؟ آج سیاستدانوں نے اپنی ہوس کے خاطر قتل وغارت اور لوٹ کا باز ار گرم کررکھاہے

SHARE

LEAVE A REPLY