سم اللہ الرحمن الرحیم
اللہ تعالی کے نام سے جو رحمن اور رحیم ہے
،،،،،پرسہ نصیر ترابی،،،،،،،،،
پروردگار ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔ہم درود و سلام بھیجتے ہیں اپنے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم پر اور ان کی آلِ پاک پر۔ہم اپنے زمانے کے امام سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہماری ان عبادات کو اللہ کے حضور
شرف قبولیت کے لیے پیش کریں ۔آمین بحق یا رب العالمین۔
میں سید شبیر علی زیدی ساکن برسلز بیلجئیم آج 29 جمادی الاول 1442 ہجری مطابق 14 جنوری 2021 ہمارے خالہ زاد بھائ نصیر ترابی جن کا انتقال 10 جنوری کو کراچی میں ہوا، ان کے تعزیت کے سلسلے میں آپ سب سے مخاطب ہوں
“سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں کے مصداق”
وہ اپنے گھر سے کسی کی تعزیت، کرنے کے لیے اپنے گھر سے نکلے اور گاڑی میں بیٹھے ہی تھے کہ ان کہ طبیعت بگڑنے لگی جس پر ان کے چھوٹے بیٹے انہیں آغا خان ہسپتال اور لیاقت نیشنل ہسپتال لے کر گیے۔لیکن دونوں ہستپالوں نے داخلے سے انکار کیا تو دانش انہیں کلفٹن ہسپتال لے کر گیے لیکن دیر ہوگئ اور وہ راستے میں ہی خالقِ حقیقی سے جاملے۔یہ واقعہ پاکستان کے وقت کے مطابق ساڑھے تین بجے سہہ پہر کے وقت رونما ہوا۔
نصیر میاں مجھ سے دو سال بڑے تھے اور ہمارا بچپن ایک دوسرے کی ہمراہی میں گذرا۔یہاں تفصیل بیان کرنے کا وقت نہیں ہے ۔میں نے اپنی خود نوشت مرتب کی ہے۔اس میں تفصیل سے یاداشتیں محفوظ کی ہیں۔
ہمارے خالو علامہ رشید ترابی 1948 میں کراچی آگیے تھے۔اور میرے والدین 1950 میں حیدر آباد سے کراچی آگیے۔
1956 سے لے کر 1973 کے بہت سے واقعات یاد ہیں جن کو میں تحریری طور پر، رقم کر چکا ہوں۔
14 کلنٹن روڈ گرومندر پہ بابا رہتے تھے تقریبا شام کو ہم کچھ دوست مل کر کرکٹ کھیلتے تھے۔1960 میں نصیر میاں، میں اور طٰہ، خاص رمضان المبارک میں جمعہ کی نماز کھارادر کی مسجد میں جا کر ادا کرتے تھے۔ اور حسینیہ ایرانیاں میں شبِ قدر کے اعمال میں جا کر شریک ہوتے یہ اعمال آغا مرزا مہدی پویا صاحب (اللہ ان کے درجات بلند فرمائے )کراتے تھے اور ہم پہلی صف میں ہوا کرتے تھے۔وہ بھی کیا دن تھے۔دیکھتے دیکھتے بچپن سے نوجوانی میں داخل ہوئے۔گرومندر کے گھر سے ناظم آباد شفٹ ہوئے کالج پروگراموں میں نصیر میاں نظامت کرتے تھے۔پینسٹھ کی جنگ کے بعد کراچی آرٹس کاؤنسل میں بہت بڑا مشاعرہ ہوا جس میں انڈیا سے بہت سارے شعرا کے ساتھ جگر مراد آبادی اور جوش صاحب شریک تھے، ہم بھی اس میں شریک ہوئے
بہر حال بات یہیں پر ختم کررہا ہوں اور نصیر میاں کی مغفرت کے لیے میر انیس کے مرثیے کے چند اشعار نذر کررہا ہوں آج ان کی قبر میں پہلی رات ہے اللہ ان کی مشکلات آسان فرمائے ،میر انیس، میرزا دبیر اور دیگر شعرا اور ذاکرین کے درجات کو بلند فرمائے آمین
بچھڑا وہ لعل جس کا گوارا نہ تھا فراق
فرماتے تھے کہ۔لوٹ لیا توانے اے عراق
اے موت جلد آ کہ بس، اب زندگی ہے شاق
خنجر کی آرزو ہے شہادت کا
اشتیاق
برباد اس طرح کوئ آباد گھر نہ ہو
کیا زندگی کا لطف جب اپنا پسر نہ ہو
سب چاہیں جس کی زیست وہ شیرِ جواں مرے
افسوس نیم جاں جیے جان ِ جہاں مرے
پیدا تو کس جگہ ہوئے آکر کہاں مرے
قدرت خدا کی پیر جیے اور جہاں مرے
اس عمر میں جہاں سے گزرنے کے دن نہ تھے
کہتا ہے خود شباب کے مرنے کے دن نہ تھے
پیارے نہ تھے حسین علیہ السلام کے
لائ حرم سرا میں بہن ہاتھ تھام کے
تھرا رہے تھے پاؤں شہہ تشنہ کام کے
سر دوش پہ تھا زینبِ عالی مقام کے
فرماتے تھے بہن علی اکبر گزر گیے
ہم ایسے سخت جاں تھے کہ ابتک نہ مرگیے
پرسہ تمہیں شہید کا دینے کو آئے ہیں
کس کس کا داغ آج جگر پر
اٹھائے ہیں
پیٹے ہیں خاک اڑائے ہیں آنسو بہائے ہیں
یہ ہم تمہارے لال کے خوں میں نہائے ہیں
سر تھا حسین بے کس و تنہا کی گود میں
بیٹے کی جان نکلی ہے بابا کی گود میں
دیکھا یہ کہہ کے بالی سکینہ کو یاس سے
لپٹی وہ دوڑ کر شہہ گردوں اساس سے
طاقت نہ تھی کلام کی ہر چند پیاس سے
بولی وہ تشنہ کام شہہ حق شناس سے
کیا اس بلا کے بن سے تہیہ سفر کا ہے
صدقے گئ بتاؤ ارادہ کدھر کا ہے
فرمایا شہہ نے ہاں سفرِ ناگزیر ہے
آکر گلے لگو کہ یہ صحبت اخیر ہے
اب آرزوئے قربِ خدائے قدیر ہے
تنہا ہیں ہم سپاہِ مخالف کثیر ہے
طے ہو یہ
مرحلہ جو اعانت خدا کرے
جس کا نہ کوئ دوست ہو بی بی وہ کیا کرے
جانا ہے دور شب کا جو آنا نہ ہو ادھر
ضد کرکے روئیو نہ ہمیں چاہتی ہو گر
پہلے پہل ہے آج شبِ فرقت پدر
سو
رہیو ماں کی چھاتی پہ غربت سے رکھ کے سر
راحت کے دن گزر گیے یہ فصل اور ہے
اب یوں بسر کرو جو یتیموں کا طور ہے
ننھے سے ہاتھ جوڑ کے بولی وہ تشنہ کام
بتلائیے مجھے کہ یتیمی ہے کس کا نام
آنکھوں سے خوں بہا کے یہ کہنے لگے امام
کھل جائے گا یہ رنج و الم تم پہ تا بہ شام
بی بی نہ پوچھو کچھ یہ مصیبت عظیم ہے
مرجائے جس کا باپ وہ بچہ یتیم ہے
اللہ تبارک تعالی سے دعا ہے کہ وہ علامہ رشید ترابی اعلیٰ مقامہ اور ان کے خانوادے کے مرحومین، ان کی ازواج، ان کے صاحبزداگان ہادی ترابی، مولانا عقیل ترابی،ابوطالب ترابی، نصیر ترابی دختران طاہرہ ترابی، ایلیا ترابی زوجہ ہزہائ نس خیر پور، خاندان کے وہ افراد جو گزر گیے بشمول میرے والدین اور کل مومنین و مومنات کی مغفرت فرمائے اور اپنے جوارِ رحمت میں جگہ مرحمت فرمائے۔
ہماری بہن خواہر نصیر ترابی ڈاکٹر بتول ترابی رضااور طہ ترابی و دیگر بھائ بہن جو سلامت ہیں الحمداللہ ان سب کی صحت و سلامتی کی دعائیں
آپ سب سے گزارش ہے کہ میرے حق میں بھی دعا فرمائیں کے میراانجام بخیر ہو۔
سید شبیر علی زیدی
برسلز۔بیلجئم













