ہوس کے نام پر ہرگز خطائیں مت کرنا۔ از۔ سید انور جاوید ہاشمی

0
224

ہوس کے نام پر ہرگز خطائیں مت کرنا
جو ہو چکی ہیں دو بارا وفائیں مت کرنا
ہزار مرحلے ہیں عشق میں محبّت کے
دکھائیں لاکھ تمہیں وہ ادائیں مت کرنا
رفوگروں کے بھلا بس میں کب ہے بخیہ گری
ہوں زخم مندمل دل کے دعائیں مت کرنا
دلا رہے ہو یقیں پاک دامنی کا جسے
یقین ہے تو کبھی التجائیں مت کرنا
قدم بڑھانا اگر اعتبار ِ منزل ہو
نگاہ ِ ر ا ست کبھی دائیں بائیں مت کر نا

LEAVE A REPLY