پہاڑوں کابیٹا علی سدپارہ،صفدر ھمدانی

0
755

پہاڑوں کا وہ بیٹا تھا
پہاڑوں کو ہی اس نے اپنا ابدی گھر بنایا ہے
پہاڑوں کی محبت کو لہو میں روح میں اپنی بسایا ہے
بچھڑ جانے کا نغمہ بھی پہاڑوں کو سنایا ہے
علی سد پارہ تم نے تمغہ اپنے عزم کا
بڑی ہی تمکنت سے اپنے سینے پر سجایا ہے
علی سد پارہ تم نے کوہ پیمائی کو عزت دی
اسی عزت نے تم کو ساری دنیا میں ہے شہرت دی
پہاڑ اب کس طرح تمہاری ایسی قربتوں پر ناز کرتے ہیں
تمہیں ہم راز کرتے ہیں
پہاڑوں کا وہ بیٹا تھا
پہاڑوں کو ہی اس نے اپنا ابدی گھر بنایا ہے
صفدر ھمدانی

SHARE

LEAVE A REPLY