پہاڑوں کا وہ بیٹا تھا
پہاڑوں کو ہی اس نے اپنا ابدی گھر بنایا ہے
پہاڑوں کی محبت کو لہو میں روح میں اپنی بسایا ہے
بچھڑ جانے کا نغمہ بھی پہاڑوں کو سنایا ہے
علی سد پارہ تم نے تمغہ اپنے عزم کا
بڑی ہی تمکنت سے اپنے سینے پر سجایا ہے
علی سد پارہ تم نے کوہ پیمائی کو عزت دی
اسی عزت نے تم کو ساری دنیا میں ہے شہرت دی
پہاڑ اب کس طرح تمہاری ایسی قربتوں پر ناز کرتے ہیں
تمہیں ہم راز کرتے ہیں
پہاڑوں کا وہ بیٹا تھا
پہاڑوں کو ہی اس نے اپنا ابدی گھر بنایا ہے
صفدر ھمدانی












