عالمی اخبار کے لیئے رومارضوی کی مصنف شکور پٹھان سے گفتگو‎‎

1
1632

میرے شہر والے” ، “بہتی ہے گنگا جہاں” اور “سب جانے پہچانے ہیں” کے مصنف شکور پٹھان صاحب سے گفتگو‎‎
نظر آئے ۔ ایک زمانہ تھا کہ لوگ سفر کے دوران کتابوں اور رسائل کو ضرور ہمراہ رکھتے تھے۔۔ بلکہ یوں سمجھئے کے تنہا سفر بھی ہوا تو ساتھی ایک کتاب کی صورت بغل میں موجود ہوتی۔۔ ہر بس اسٹیشن ریلوے اسٹیشن پر سفر کے آغاز سے پہلے اخبارات، رسالے ، ڈائجسٹ خریدنے والے قطار در قطار کھڑے دکھائی دیتے تھے ۔۔گفتگو میں محاوروں کا استعمال ، اشعار کے ٹکڑے لگانا صاحبان علم کی خوبصورت مباحث کا حصہ ہوتا تھا ۔۔ آواز دھیمی اور فلسفہ بلند ہوتا تھا کہ سننے والا درمیان میں گفتگو سے خود ہی گریزاں نظر آتا تھا کہ مداخلت مجھے کسی نقطے سے محروم نہ کردے ۔۔ ایسے حسین دور کی حسین یادیں گزشتہ کچھ برسوں سے شکور پٹھان صاحب کی بدولت ہم تک پہنچتیں رہتی ہیں۔۔ان کے لکھے کالمز جو پاکستان بننے سے لے کر ستر کی دہائی پر محیط خصوصیت سے شہر کراچی میں بسنے والی تاریخ ساز شخصیات کے متعلق ہیں چند برس پیشتر کتابی شکل میں بھی شائع ہوچکے ہیں۔۔ان کالمز میں پاکستان کی جو صورت بیان کی جاتی ہے وہ بلاشبہ سنہری دور کی سنہری روپہلی یادیں ہیں ۔۔ شکور پٹھان صاحب کا تعلق بھی شہرِ کراچی سے ہے ۔۔ ہم سب کراچی کی موجودہ صورتحال سے یقینا ُ شاکی رہتے ہیں مگر جو زمانہ شکور بھائی کی تحریر میں بیان کیا گیا ہے وہ تو رنگ و نور سے آراستہ و پیراستہ، علم و ادب اور فنون لطیفہ کے مرکزی شہر کا نظارہ آنکھوں میں روشن کردیتا ہے ۔۔
اس میں دو رائے ہرگز نہیں کہ عزیز شہر کراچی پاکستان بننے کے بعد سے ہی مختلف ثقافتوں کا مرکز ہے تو دوسری طرف اپنی صنعتی و تجارتی اہمیت کے باعث پاکستان کا دل سمجھا جاتا ہے ۔۔ایک دور تھا جب اس گہما گہمی والے شہر میں ثقافتی و ادبی سرگرمیوں کے باعث دنیا بھر سے ثقافتی طائفوں اور کاروباری افراد کا آنا جانا ہوا کرتا تھا ۔۔
سماجی اداروں میں تربیت اور نظم و ضبط کی خوبصورتی دکھائی دیتی تھی ۔۔معاشرے میں رشتوں کا احترام موجود تھا جو اب بھی ہے لیکن اس پر زمانے کی تربیت غالب آرہی ہے ۔۔
مگر ایک دور وطنِ عزیز کی تاریخ میں ایسا ضرور گزرا ہے کہ جب دنیا بھر سے سیاح بلا خوف و خطر یہاں سیر و سیاحت کی غرض سے آتے تھے۔ یہاں بسنے والے اپنی لیاقت کے بل بوتے پر دنیا کی معروف یونیورسٹیز میں تعلیم پاتے تھے اور دوسری قوموں کی تربیت کے اہل سمجھے جاتے تھے۔۔ اُسی دور کی یادیں قلمبند کرتے ہوئے شکور پٹھان صاحب اپنی تحریروں میں ملکِ عزیز کا مثبت عکس دکھاتے ہیں۔۔
آج کی نشست میں انہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔۔

سوال ۱_ آپ نے لکھنے کا آغاز یعنی اپنے تحریری سفر کا آغاز کب کس عمر سے کیا اور لکھنے کے علاوہ کیا مشاغل رکھتے ہیں ؟

جواب ۔ آپ کا بے حد شکر گذار ہوں کہ آپ نے مجھے اس قابل سمجھا۔ میں نے خود کو کبھی کوئی باقاعدہ قلمکار یا ادیب نہیں مانا۔ لکھنے پڑھنے کی جانب میری آمد محض ایک اتفاق یا یوں کہئیے کہ حادثاتی تھی۔

میری ادبی عمر، اگر کوئی ہے تو وہ بہت ہی مختصر ہے۔ یہ ۲۰۱۴ کے اواخر کی بات ہے۔ جیسا کہ آپ جانتی ہیں، میں عرصہ دراز سے بغرض ملازمت دیار غیر میں مقیم ہوں۔ ہر سال پاکستان جایا کرتا تھا۔ لیکن ۲۰۱۲ اور ۲۰۱۴ کے درمیان کچھ ایسے مسائل میں گھر گیا کہ پاکستان جانے کا موقع نہیں ملا۔ دراصل میری اہلیہ صاحب فراش تھیں ۔ یہ تین سال بہت مشکل تھے۔ مجھے دفتری ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ انہیں بھی دیکھنا ہوتا تھا۔ اس سلسلے میں اکثر دفتر سے چھٹیاں لینی پڑتیں اور یوں سالانہ تعطیلات انہی کی دیکھ بھال میں گذر جاتیں۔ انہی دنوں میرے بیٹے نے ایک اسمارٹ فون لے دیا جس میں فیس بک بھی تھا۔ جب کبھی بیگم سو رہی ہوتیں تو میں اس فون پر مشغول ہوجاتا۔ اتفاق سے مجھے ایک بہت باذوق حلقہ احباب میسر آیا جن میں ابن صفی مرحوم کے صاحبزادے، احمد صفی ، مشہور شاعر و محقق عقیل عباس جعفری، شاعر، ادیب اور براڈکاسٹر عابد علی بیگ، افسانہ نگار امین بھایانی اور دوسرے بہت سے ادب دوست شامل تھے۔

وطن یعنی کراچی کی یاد بہت ستاتی تھی۔ فیس بک پر یونہی ایک دن کراچی کی چند مشہور شخصیات کا مختصر تذکرہ کردیا۔ اگلے دن کسی اور شعبے کی شخصیات کا ذکر کیا۔ احباب کو یہ سلسلہ بہت پسند آیا۔ یہ سلسلہ بڑھتا چلا گیا۔ کچھ دوستوں نے تجویز کیا کہ اسے جمع کرکے کتابی شکل دوں۔ اب میں نے بھی سنجیدگی سے ان بلاگز کو باقاعدہ مضمون کی شکل دی۔ خیر یہ ایک طویل کہانی ہے کہ کس طرح اس نے کتابی شکل بھی اختیار کرلی اور میری پہلی تصنیف “ میرے شہر والے” وجود میں آئی جسے بے حد پذیرائی ملی۔ میرے شہر والے کی کوئی ادبی حیثیت تھی یا نہیں، لیکن ہوا یہ کہ مجھے لکھنے کی عادت پڑ گئی جو اب چھٹائے نہیں چھوٹتی۔

سوال ۲۔بچپن میں لکھنے کی کس طرح ترغیب ہوئی ؟ یا والدین کی کوئی ایسی تربیت تھی یا گھر کا ماحول کہ اردو ادب سے لگاؤ ہونے لگا ؟
جواب _ یہ سوال بہت دلچسپ ہے اور میں نہ صرف اس پر ایک باقاعدہ مضمون لکھ چکا ہوں بلکہ گاہے بگاہے اس کا ذکر کرتا رہتا ہوں۔
میرا بچپن بہت عسرت اور تنگ دستی میں گذرا۔ والدین بمشکل سفید پوشی کا بھرم رکھ پاتے تھے۔ والد تقسیم کے ہنگاموں میں اپںی تعلیم مکمل نہ کرسکے تھے۔ والدہ گاؤں میں صرف چار جماعت تک پڑھ سکی تھیں۔ لیکن تنگ دستی کے باوجود ہمارے گھر میں پڑھنے کا شوق ہر کسی کو تھا۔ ہمارا مشترکہ خاندان تھا اور ہماری دادی اور دو چچا بھی ہمارے ساتھ ہی رہتے تھے۔ ہمیں کھیلںے کے لئے کھلونے تو نہیں ملتے تھے البتہ ہر ماہ مجھے اور میری بڑی بہن کو باقاعدگی سے بچوں کے رسالے، کھلونا نئی دہلی، تعلیم و تربیت، پھلواری، غنچہ، بچوں کی دنیا اور ہمدرد نونہال قسم کے رسالے ملا کرتے۔ والد اور چچا گھر آتے ہوئے اکثر کوئی نہ کوئی کتاب یا رسالہ ضرور لاتے۔ میں دوسری جماعت سے باقاعدگی سے اخبار پڑھا کرتا تھا۔ ہمارے گھر میں ہر طرح کے رسالے آتے جن میں ادبی، مذہبی، فلمی، خواتین وغیرہ کے رسالے شامل ہوتے۔ فنون، سیپ، نیا دور، نگار، نقاد، بیسویں صدی، شمع کے علاوہ ماہر القادری کا فار ان، جماعت اسلامی کا ترجمان القرآن، یہاں تک کہ جماعت احمدیہ کا رسالہ “ طلوع” بھی ہمارے ہاں نظر آتا۔ والد صاحب اردو، انگریزی اور فارسی کے علاوہ گجراتی، ہندی اور مراٹھی بھی پڑھ سکتے تھے۔ ہمارے ہاں گجراتی اخبار “ وطن” اور ملت کے علاوہ بوہری جماعت کی کتابیں بھی آتی تھیں۔ کبھی کبھار کسی ہندوستان سے آنیوالے کے ہاتھ سے ہندی اور مراٹھی کی کتابیں یا رسالے بھی آتے۔ انگریزی رسالے “ السٹریٹیڈ ویکلی آف پاکستان” اور “ ہورائزن” کے علاوہ فلم فئیر اور ایسٹرن فلم بھی گھر میں کہیں نہ کہیں مل جاتے۔ ہماری ناخواندہ والدہ تک کو پڑھنے کا شوق تھا اور فارغ وقت میں جو کہ ان کے پاس بہت کم ہوتا، وہ بانو، حور، زیب النساء وغیرہ پڑھتی نظر آتیں۔ میں دوسری جماعت میں ہونے کے باوجود اور کچھ نہ سمجھتے ہوئے بھی باقاعدگی سے نقاد میں “ ابلیس کا روزنامچہ” اور بیسویں صدی میں خوشترگرامی کا “ تیر و نشتر” پڑھا کرتا تھا۔ گھر میں نہ صرف ابن صفی کے ناول آتے بلکہ شفیق الرحمان، یوسفی صاحب اور اشفاق احمد کی کتابیں اور فیض صاحب کے مجموعہ کلام مجھے اب تک یاد ہیں۔ اور یاد رہے میرے ابا کی تنخواہ صرف ایک سو دس روپے ماہانہ تھی۔
معافی چاہتا ہوں جواب بہت طویل ہوگیا لیکن یہ میرا پسندیدہ موضوع ہے اور اس پر مزید بول سکتا ہوں۔

سوال۳۔ آپ کو کب محسوس ہوا کہ لکھنے کے بھرپور جراثیم آپ میں موجود ہیں اور یہ کہ آپ تو اچھا خاصہ لکھ سکتے ہیں؟

جواب _ مجھے اب تک ایسا نہیں لگا کہ میں اچھا لکھ سکتا ہوں۔ اپنے آپ کو طفل مکتب سمجھتا ہوں اور اس میں کوئی بے جا انکساری نہیں ہے۔ میں ابھی اس میدان میں نو آموز ہوں۔ کوشش کرتا ہوں کہ کچھ اچھا لکھ سکوں ، اس کے لئے اچھے لوگوں کو پڑھتا رہتا ہوں۔

سوال۴_ آپ کی تحریر میں پاکستان کی خوبصورت یادیں پنہاں ہوتی ہیں ۔۔ موجودہ دور پر کم لکھتے ہیں ؟

جواب۔ اس سوال کا جواب آپ کے پہلے سوال میں ہی دے چکا ہوں۔ دراصل میں ۱۹۷۵سے ملک سے باہر ہوں۔ میرے لئے پاکستان کی ساری یادیں اس سے پہلے کی ہیں۔ اس کے بعد کے حالات سے تو نئی نسل بھی بہت حد تک واقف ہے۔ میری یاد داشت ستر کے عشرے پر آکر ٹھہر گئی ہے اور وہی یادیں دوستوں کے ساتھ بانٹتا ہوں۔

سوال۵_ زندگی کے کس دور میں سب سے زیادہ یعنی تواتر سے لکھا؟
جواب ۔ یہ بات بھی بتا چکا ہوں کہ زندگی کا یہ موجودہ دور ہی ہے جب لکھنا لکھانا شروع کیا۔ مالک کا کرم ہے کہ بہت اچھے پڑھنے والے میسر آئے جن سے مجھے خود بہت کچھ سیکھنے ملتا ہے۔ یقین نہیں آتا کہ مجھے جیسے کم علم اور نو آموز کو اس قدر ادب فہم اور اہل علم احباب ملے ہیں۔ ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ

سوال٦_کیا ایک لکھنے والے کو لوگوں کے رد عمل پر لکھنے کا انداز تبدیل کرنا چاہیئے ؟
اور آپکی دانست میں لکھنے والے کا معیار کس طرح طے کیا جاتا ہے ؟

جواب _ یہ خاصا مشکل سوال ہے۔ لکھنا ہو، شاعری ہو، مصوری ہو یا کوئی بھی فن ہو، فنکار ہمیشہ داد و دہش کا طلبگار ہوتا ہے۔ بہت سے فنکار ایسے بھی ہیں جو قدردانوں کی خواہش کے مطابق اپنے فن کو ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں کہ زیادہ سراہے جائیں۔ لیکن میرا اپنا خیال یہ ہے کہ فنکار چاہے وہ موسیقار ہو، مصور ہو یا شاعر و ادیب، اسے اپنا رنگ سب سے مختلف رکھنا چاہئیے۔ اس کا فن اس کی پہچان ہونی چاہئیے۔ لکھنے والے کا انداز ایسا ہو کہ قاری پہلے جملے سے ہی جان جائے کہ یہ کس کی تحریر ہے۔ جیسے ہم انشاء جی کو ، یوسفی صاحب کو یا قرت العین حیدر کو پڑھ کر فورا” بتا سکتے ہیں۔

لکھنے والے کا معیار قاری کے اپنے مطالعے سے طے ہوجاتا ہے۔ کون کس کو زیادہ پڑھتا ہے اور کس کا مطالعہ کس قسم کا ہے یہ اس کے انتخاب ہائے مضامین سے عیاں ہوجاتا ہے۔ پہلے کبھی ایک عام لکھنے والے کو قاری تک رسائی بہت مشکل تھی۔ ہر کوئی رسالے یا اخبار میں نہیں چھپ سکتا تھا۔ اب سوشل میڈیا نے یہ موقع فراہم کردیا ہے۔ اس پر کسی بھی تحریر پر قارئین کی پسند ناپسند کے واضح پیمانے ہیں اور اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کس قسم کی تحریر کو کس طرح کے لوگ زیادہ پڑھتے ہیں۔

سوال ٧__ مطالعہ کے لئے کن کتابوں کو زیادہ منتخب کرتے ہیں؟ اور پرنٹ میڈیا یا ٹی وی یو ٹیوب وغیرہ میں سے کس کو زیادہ معلومات کا ذریعہ سمجھتے ہیں ؟

جواب _
یہ آپ نے مزیدار بات پوچھی ہے۔ جہاں تک میرا تعلق ہے مجھے جو کچھ ، جس طرح مل جائے پڑھتا ہوں یا دیکھتا ہوں۔ آج کل اخبارات نہیں پڑھتا، لیکن جب اخبار پڑھا کرتا تھا تو خبروں، کالموں کو تو پڑھتا ہی تھا، “ ضرورت ہے” کے اشتہار اور ٹینڈر نوٹس تک پڑھ ڈالتا تھا۔ زندگی ہر رنگ میں موجود ہے اور یہیں سے مشاہدہ اور تجربہ بڑھتا ہے۔ آج کل ٹی وی اور یوٹیوب ایک ہوگئے ہیں۔ اکثر مضامین کی تیاری میں یوٹیوب کی مدد لیتا ہوں۔ میں نے پاک وہند کے قریبا” بیس شہروں پر مضامین لکھے، حالانکہ کراچی کے علاوہ ہندوستان کے صرف دو تین شہر اور دیکھے ہیں ۔ ان سب شہروں کے متعلق کچھ تو وہاں کے رہنے والے دوستوں، کچھ ادبی کتابوں سے بقیہ یوٹیوب اور انٹرنیٹ سے معلومات حاصل کی ہیں۔

البتہ اچھی کتابوں کا مطالعہ بہت ضروری ہے۔ اچھا مطالعہ آپ کی تحریر میں کہیں نہ کہیں ضرور جھلکتا ہے۔ میں قرت العین حیدر، عصمت چغتائی، کرشن چندر، منٹو، شفیق الرحمن، مشتاق یوسفی، ابن انشاء، جوش ملیح آبادی، محمد خالد اختر ، اسد محمد خان، اے حمید وغیرہ کا پرستار ہوں اور کہیں نہ کہیں ایک آدھ فقرہ ان کے انداز کا میری تحریر میں بھی بغیر کسی شعوری کوشش کے آجاتا ہے۔

سوال ۸_
آپ کے دور میں مطالعہ اور ادبی سرگرمیوں کے حالات بہتر تھے اور تفریح کے لئے بھی اچھے ادب کو منتخب کیا جاتا تھا کس شاعر یا ادیب نے آپ کو سب سے زیادہ متاثر کیا ؟

جواب _ اس سوال کا جواب بھی اوپر آگیا ہے۔ اس میں پریم چند، پطرس بخاری، مختار مسعود، اشفاق احمد وغیرہ کا اضافہ کرلیں۔ شاعری میں جگر میرے پسندیدہ ہیں لیکن حسرت، فیض، مجاز، ناصر کاظمی اور منیر نیازی کو بھی اسی شوق سے پڑھتا یا سنتا ہوں۔

سوال ۹_ اپنی نثر کو ہر عمر کے پڑھنے والے کے لئے کس طرح تیار کرتے ہیں؟ یا مخصوص حلقہ یا مخصوص قاری ہی اسے پڑھتے ہیں ؟ ۔
۔
جواب_ میں کسی متعین موضوع پر نہیں لکھتا۔ میرے پڑھنے والوں میں عموماً ہر عمر اور ہر ذوق کے لوگ شامل ہوتے ہیں۔ البتہ بعض اوقات کسی خاص طبقے کو متوجہ کرنے کے لئے ان کے ذوق کے مطابق لکھتا ہوں۔ عموماً حالات حاضرہ اور سیاست سے اجتناب کرتا ہوں کہ اس پر تو آج کل ہر کوئی لکھتا ہی ہے۔ میں زندگی کی عام حقیقتوں پر لکھتا ہوں ۔ کبھی طبیعت فلمی موضوعات پر آمادہ ہوتی ہے تو کبھی کھیل کود کے مضامین پر۔ شخصیات اور یاد نگاری میرا خاص شعبہ ہے۔ میری ایک کتاب مختلف شخصیات کے خاکوں پر مبنی ہے۔

سوال ١٠ _ نوجوان شعراء اور نئے لکھنے والوں میں بڑھتی ہوئی یاسیت کی کیا وجہ محسوس ہوتی ہے؟

جواب _ یہ ذرا مشکل سوال ہے۔ میرا خیال یہ ہے کہ شاید سامنے کسی قابل تقلید مثال کی کمی ہے۔ اب آئیڈیل اور رول ماڈل کم رہ گئے ہیں۔ کچھ دن قبل میں نے ایک سوال کیا تھا کہ افتخار عارف، پیرزادہ قاسم، امجد اسلام امجد ، انور شعوروغیرہ کے علاوہ اب کتنے بڑے اور مشہور نام رہ گئے ہیں۔ یقیناً بہت سے اور بھی نام ہیں لیکن مجموعی طور پر ایک واضح قحط الرجال نظر آتا ہے۔ کیا آپ یقین کرینگی کہ میں نے بذات خود ۱۹۷۴ میں ایک مشاعرہ دیکھا جس میں جوش، حفیظ ، ندیم، احسان دانش، صوفی تبسم، سلیم احمد، ماہر القادری، محشر بدایونی، حمایت علی شاعر ، صہبا اختر اور بے شمار ناموں کو ایک چھت کے نیچے دیکھا۔ کیا آج ہم اس پائے کو لوگوں کو اپنے آس پاس دیکھتے ہیں۔
نوجوان جن کرداروں کو دیکھتے ہیں انہی کا اثر قبول کرتے ہیں۔ معاشرے میں جو گھٹن ، یاسیت اور یک رنگی ہے وہ قوم کے مجموعی مزاج پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔

سوال ۱۱ موجودہ دور میں کافی نئے لکھنے والے سامنے آئے ہیں اور کتابوں کی صورت اور سوشل میڈیا پر بھی بیشمار تحریریں نظر آتی ہیں کیا اصلاح معاشرہ اور کردار کی بہتری میں ان تصانیف سے کوئی مدد متوقع ہے؟
جواب _کسی ایک تحریر یا کسی ایک قلمکار سے تو شاید معاشرے میں کوئی تبدیلی نہ آتی ہو لیکن کہیں نہ کہیں اس کا اثر تو ہوتا ہوگا۔ ترقی پسند تحریک کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ بائیں بازو کے سیاستدان، طالبعلم رہنما، ادیب اور شاعر ترقی پسند تحریک کے شعراء اور ادباء سےہی متاثر ہوئے تھے۔ قلمکار اپنے دل کی بات لکھ کر اپنا حصہ ڈال دیتا ہے۔ اسے قبول کرنا یا پذیرائی ملنا یا نہ ملنا اس کی تحریر کے اثر کو کم نہیں کرتا۔

سوال ۱۲ _ معاشرے میں سدھار کے لئے افسانوی تحریریں ان کے معضاعات اور مصنف کیا کردار ادا کر رہے ہیں ؟

جواب _ یہ بھی ایک مشکل سوال ہے۔ میرا اپنا خیال یہ ہے کہ فی زمانہ شاعر و ادیب کوئی خاص کردار ادا نہیں کررہے کہ اب لکھنے پڑھنے کا رواج ہی نہیں رہا۔ البتہ ٹی وی ڈراموں اور فلموں وغیرہ سے تحاریر سامنے آتی ہیں لیکن ان سے زیادہ تر الجھنیں بڑھی ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر بہت مثبت کردار نظر نہیں آتا۔ میرا خیال غلط بھی ہوسکتا ہے کہ میں بذات خود، ملک میں موجود نہیں ہوں اور حالات کو اپنی آنکھ سے نہیں دیکھ رہا۔

نو آموز شعرا /لکھنے والوں اور اپنے چاہنے قارئین کو کیا پیغام دینا چاہیں گے ؟
یہ پوچھ کر آپ مجھے کانٹوں میں گھسیٹ رہی ہیں۔ میں تو خود اس جواب کا متلاشی ہوں۔ میری اپنی ادبی عمر کچھ بھی نہیں۔ لیکن آپ نے پوچھ ہی لیا ہے تو بزرجمہر بن کر جواب دے ہی دیتا ہوں۔
نئے لکھنے والوں ، خصوصاً خواتین میں مجھے ایک رجحان واضح نظر آتا ہے کہ ان کا زور زیادہ تر تحریر کی ظاہری شکل پر ہوتی ہے۔ جملوں کو مرصع و مسجع الفاظ سے سجایا جاتا ہے۔ بات کو مشکل انداز سے کہا جاتا ہے۔ اس طرح پڑھنے والا قلمکار کی علمیت کا اور فنکاری کا قائل تو ہوجاتا ہے لیکن بات دل تک نہیں پہنچتی یا دیرپا اثر نہیں رکھتی۔ تحریر کو اثر پذیر بنانے کے لئے حتی الامکان سادہ اور آسان ہونا چاہئیے۔ مشکل الفاظ اور ترکیبوں کے بجائے دل کی بات براہ راست کہہ دینے سے ابلاغ کا اصل مقصد حاصل ہوجاتا ہے۔
بہر حال یہ میری اپنی رائے ہے جس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ میں آپ کا بے حد شکرگذار ہوں کہ آپ نے مجھے وہ کچھ کہنے کا موقع دیا جو میں بہت دنوں سے کہنا چاہتا تھا لیکن کوئی انجانا ڈر یا حجاب آڑے آتا تھا۔

آپ کے اور قارئین کے لئے بہت سی دعائیں اور نیک تمنائیں۔

اپنا قیمتی وقت عالمی اخبار کے لیئے دینے پر ہم اپنے مہمان کے تہہ دل سے مشکور ہیں
اور ان سے ہم بھی امید رکھتے ہیں کہ کراچی کی یادیں وہ اسی طرح نئی نسل کے سامنے دہراتے رہیں گے اور وہ دن دور نہیں کہ پھر اسی گزرے دور کی طرح ترقی و کامیابیوں کی خواہش دلوں میں پیدا ہو۔۔محنت اور امن و امان کی لگن دلوں کو پھر گرمائے اور معجزے رونما ہوں۔ انشا اللہ

روما_رضوی

SHARE

1 COMMENT

  1. Very good interview … Most of his thoughts are same as of mine .I will give detail comment later on .. At one place Janab Shakoor Sahib said that he avoids to write on current situation and politics .Janab Shakoor Sahib gave reason that a lot of people are writing on these .One reason which I think is that the nature of people in Pakistan has changed now and they are not ready to listen against their thinking .. Janab Javed Chaudhri has said in one of his columns that he listens people calling him with improper wordings .

LEAVE A REPLY