زندگی
اے زندگی
کبھی افسانہ لگتی ہے
کبھی حقیقت لگتی ہے
اے صد رنگ زندگی
کبھی آباد کرتی ہے
کبھی برباد و ناشاد کرتی ہے
کبھی سہج سہج کر مائل سفر کرتی ہے
کبھی مخدوش
نشان منزل تک مٹا دیتی ہے
کبھی پرواز کے لیے باب آسمان کھول دیتی ہے
کبھی پیروں تلے زمین بھی نہیں ہوتی
کبھی بہت مشکل
کبھی بہت سہل
کبھی تخت خواب کی
خوش رنگی سے حیران کرتی ہے
دل گداز داستان زندگی
پانی پہ بہتا مکان زندگی
کبھی خانہ بہ خانہ ویرانی
کبھی
کبھی کوچہ بکوچہ شادمانی
وارفتگی خیابان زندگی
کبھی
حزن و یاس
ہجر و وصال
خانہ خراب ویران زندگی
شاھین اشرف علی













