زندگی کبھی افسانہ لگتی ہے، شاہین اشرف علی

0
1352

زندگی
اے زندگی
کبھی افسانہ لگتی ہے
کبھی حقیقت لگتی ہے
اے صد رنگ زندگی
کبھی آباد کرتی ہے
کبھی برباد و ناشاد کرتی ہے

کبھی سہج سہج کر مائل سفر کرتی ہے
کبھی مخدوش
نشان منزل تک مٹا دیتی ہے

کبھی پرواز کے لیے باب آسمان کھول دیتی ہے
کبھی پیروں تلے زمین بھی نہیں ہوتی
کبھی بہت مشکل
کبھی بہت سہل

کبھی تخت خواب کی
خوش رنگی سے حیران کرتی ہے
دل گداز داستان زندگی
پانی پہ بہتا مکان زندگی
کبھی خانہ بہ خانہ ویرانی
کبھی
کبھی کوچہ بکوچہ شادمانی

وارفتگی خیابان زندگی

کبھی
حزن و یاس
ہجر و وصال
خانہ خراب ویران زندگی

شاھین اشرف علی

SHARE

LEAVE A REPLY