نصرت نسیم کی کربلائے معلیٰ میں لکھی ہوئی نظمیں

0
1381

شہادت حسین مدرسہ انسانیت، مودت، محبت، علم و عمل
واقعہ کربلا نہیں ہے صرف واقعہ شہادت
یہ تو کتاب عشق ہے۔
کتاب علم و عمل
محبت ، مودت ،نجابت
انسانیت اور خلق عظیم کے کئ باب
عبادت ریاضت جرآت عمل

کتنی پرتیں، کتنے اسباق
ہماری توجہ کے منتظرہمارے عمل کے متقاضی
کردار حسین ایک روشن آئینہ
اس میں خود کو دیکھنا ہے
کہ حسینی ہیں یا یزیدی
حق بات کہنے کی، کھڑے ہونے کی ہمت رکھتے ہیں
یا کوفیوں کی طرح مہر بہ لب
آسائشوں کی زنجیر سے بندھے ہوئے ہیں
۔بےخطر راہ پر خار پر چل سکتے ہیں ۔؟
عشق کے امتحان سے گزر سکتے ہیں؟
اسماعیل نے والد گرامی سے فرمایا
آپ نے جو خواب دیکھا ،کر گزرئیے
آپ مجھے صابرین میں سے پائیں گے
حسین بچپنے سے سب جانتے ہیں
کہ کس آزمائش وابتلا کا سامنا کرنا ہوگا
کس ارض کرب وبلا پر خیمہ زن ہونا ہے
کیسے کیسے آفتاب وماہتاب قربان کرنے ہیں۔
اللہ اللہ!صبر کی یہ منزل، یہ وقار واستقامت
واقعہ کربلا صرف واقعہ شہادت نہیں
یہ علم وعمل،ایثاروقربانی، اخلاق کامدرسہ ہے
جب حسین چراغ بجھا کر ساتھیوں کو جانے کی اجازت دیتے ہیں
جب چراغ جلایا جاتا ہے تو سب عہد وفا کرتے ہیں ۔سب موجود ہیں
کیا جان نثاران حسین ہیں!
ہوس زر واقتدار کے شیدائییوں
لوگوں کو خریدنے والو اور بکنے والو
کبھی چراغ جلنے اور بجھنے کی اس لو
میں خود کو دیکھو
اس میزان عمل اور کسوٹی پر خود کو پرکھو، آنکو
زمین کرب وبلا، قیامت خیز گرمی اور تشنہ لب، جاں بہ لب بچے
جن کے آبا ساقی ءآب کوثر ،خود سردار جنت
دعا کرتے تو قدموں تلے چشمے پھوٹ نکلتے۔
مگر کمال، بے مثال ہمت واستقامت اور کمال صبر
سے ہر بلا ہر امتحان ہرصدمہ جھیلا
صبر واستقامت کا کوہ گراں
مشکل میں تعویذ گنڈوں اور صرف دعا
کرانے والو
اس آئینہ جہد وجستجو اور آزمائش کو پیش نظر رکھو
کہ اسلام دین عمل ہے۔میدان الفت ہے
عمل کی کسوٹی پر پورا اترنا ہے
تسلیم ورضا اور بندہ مومن کی راہ سہل نہیں۔
کہ کتاب اللہ میں زبانی دعوے کی پرکاہ برابر حثیت نہیں
امام عالی مقام نے عمل سے یہ پیغام لکھ دیا
دوستو واقعہ کربلا صرف واقعہ شہادت نہیں۔
حسن عمل، اور حکم خداوندی کا ہمہ گیر مدرسہ ہے۔
نماز وقرآن سے غفلت برتنے والو
تلواروں کے ساے میں نماز کی ادا دیکھو، سیکھو
کہ چاروں اطراف سے تیر وبرچھیوں کی بارش ہے۔
زخموں سے چور چور دشمنوں کے نرغے میں
مگر وقت عصر اداے نماز کا خیال ہے
سورہ آل عمران میں نماز خوف کے احکام
میدان کربلا میں ان پر عمل پیرا سجدہ ریز حسین اورتلاوت قرآن
نانا کے دین کا احیا اور تجدید ہے
پھر وہ ایک سجدہ جو بے مثال ہے
تیروں کی بارش میں سجدہ نماز
حالت سجدہ میں شہادت عظمی
کسی شاعر نے کیا خوب کہا
کہ شیخ صاحب پہروں دوگانہ پڑھتے رہیں
تیغ تلے ایک سجدہ ادا کریں تو بات بنے
صبر، عبادت، ریاضت، نانا کے دین کی ہمہ گیریت اور جامعیت کا مظہر حسین
اسوہ حسنہ، اسوہ کامل پر عمل پیراحسین
تجھ پہ لاکھوں سلام
نصرت نسیم 

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

منقبت بحضور عباس علمدار
عباس پسر شیر خدا
بندہ مہر ووفا
بردار حسین
مگر خود کو کہے
غلام حسین
شجاعت میں مثل علی
ییکر مہر ووفا
سکینہ کے عمو جان
بھر لیا مشکیزہ
تو کوئی نہ آیا ڈر کے مارے پاس
گرمی قیامت کی
زمین کرب وبلا
اور کئ دن کی پیاس
پانی کی ہر لہر ایک دعوت
ہر موج ترغیب آب
مشکیزہ پانی سے بھرا
ہر لہر، ہر موج اک ترغیب اک آزمائش
اور بندہ صدق وصفا، مہر ووفا
شہزادی سکینہ کے عمو جان
بے مثال، بے نظیر،
پیکر مہر ووفا
سکینہ سے پہلے اک قطرہ آب
کیسے اترے حلق میں
یہ نہیں شیوہ عشق
محبت، شجاعت، ایثار کی
کر گئے رقم انمٹ داستاں
جس کا قیامت تلک رہے گا بیاں
عشق والوں کے لئے جادہ ء پر نور
آج حاضر ہوں اس کے مرقد پُرنور پر
اک خلق ہے جس کے در پر گریہ کناں
جس کے کلس ہیں طلا نما
شان وشوکت ہے جس سے عیاں
اے خدا، اے خداے رسول کریم
اے خدا، اے خداے کریم
جو بھی ترے عشق میں دے خود کو مٹا تو بنا دے اسے لافنا، پلادے آب بقا
عباس پیکر مہر ووفا، صبر ورضا
تیرا مرقد رہے یونہی پر ضیا
تیرے روضے کی جالی کو پکڑے ہوئے
میرے اظہار محبت عقیدت قبول فرما

اے شیر نیستان حیدر عباس تیرے علم کی ہیبت آج بھی

فرات کے کناروں پر موجود ہے

تیرے کٹے ہوئے بازووں کا ہر فرد مقروض ہے

اے غازی علمدار تو نے حشر تک لے لیئے

مشکیزہ و علم کو ایک ساتھ کر دیا

اے خدائے وفا تیرے روضے کی اس فضا کو سلام 

جس میں میرے سانسیں معطر ہیں
نصرت نسیم
( روضہ عباس علمدار کی جالیوں کے پاس کچھ جذبہ عقیدت کی ترجمانی )

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

ذبح عظیم
وہ اک سجدہ جو کیا اسماعیل نے
جھکایا سر حکم خدا پر
ابراہیم خلیل اللہ جو اترے پورے ہر امتحان میں
سو یہ امتحان بھی ہوا پورا
پٹی اتری تو رہ گئے سلامت اسماعیل
پھر آیا اک پیغمبر اولاد اسماعیل میں
بے نظیر، بے مثال، یکتا اور اعلی
شجاعت، سخاوت، عبادت ریاضت
ہر وصف میں اعلی، ہر ادا بے مثا ل محبوب خدا،
رتبہ ہے جن کا سب سے جدا
سب سے وری
صاحب معراج ہے
محبوب رب العلی
صاحب معراج کے
نور العین ہیں
حسن وحسین ہیں
دوش محمد کے سوار ہیں
فرمان رسول
حسین مجھ سے ہے۔میں حسین سے ہوں
حسین ابن علی
پیکر صبر ورضا
راہ خدا میں سر کٹانے کی انوکھی ادا
پھر اک سجدہ تلواروں کے ساے میں
تکمیل زبح عظیم
کہ ایسی شہادت نہ ہے نہ ہوگی
شجاعت، اطاعت، شہادت
کا اک استعارہ
بے نظیر لاثانی، یکتا
سیدالشہدا کر قبول یہ سلام
تیرے در پر کھڑی
آنسوؤں کی لڑی اور عقیدت ومحبت کا
یہ اظہار

SHARE

LEAVE A REPLY