سرد آندھیاں ہیں اور ہم جنوں میں جلتے ہیں, سہیل ملک

0
116

سرد آندھیاں ہیں اور ہم جنوں میں جلتے ہیں
ظاہرا نہیں لیکن اندروں پگھلتے ہیں

بھینٹ لے کے قرنوں کی اک طلسم ٹُوٹا تھا
ساحرانِ دنیا پھر کیوں فسوں بدلتے ہیں

ہوش آ گیا ہے کیا آپ منزلوں کو تو
کل تلک نہ جاتے تھے آج کیوں نکلتے ہیں

گو رموزِ فطرت کو کچھ سمجھ رہا ہے دل
واہموں کا میں لیکن کیا کروں جو پلتے ہیں

کاروانِ وحشت میں ہمسفر ملے کیسے
گر چلوں تو رک جائیں گر رکوں تو چلتے ہیں

سیر کیوں نہیں ہوتا پیاس کیوں نہیں بجھتی
چشمہ ہائے فطرت تو جب تکوں ابلتے ہیں

جو یقینِ کامل کی سان پر چڑھیں وہ ہی
خام حوصلے آخر کو جنوں میں ڈھلتے ہیں

منظرِ گلستاں پر دھند چھا گئی کیسی
چین کھو گیا ہے ہم بے سکوں مچلتے ہیں

SHARE

LEAVE A REPLY