سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ‘ٹوئٹر’ نے 2017ء کے آخری تین ماہ کے دوران جعلی اور مشتبہ اکاؤنٹس کے خلاف اپنے کریک ڈاؤن میں لگ بھگ چھ کروڑ اکاؤنٹس معطل کیے۔

امریکی خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اسے ملنے والی معلومات کے مطابق ‘ٹوئٹر’ کی انتظامیہ نے اکتوبر سے دسمبر 2017ء کے دوران دنیا بھر میں پانچ کروڑ 80 لاکھ سے زائد مشتبہ اکاؤنٹ بند کیے۔

گزشتہ ہفتے ‘ٹوئٹر’ کی انتظامیہ نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو بتایا تھا کہ اس نے رواں سال مئی اور جون کے مہینوں کے دوران سات کروڑ مشتبہ اکاؤنٹس بند کیے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بند کیے جانے والے بیشتر اکاؤنٹس ‘ٹوئٹر’ کی ‘فائرہوز’ سروس کے ہیں جو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ماہرینِ تعلیم اور اساتذہ، کمپنیوں اور دیگر خواہش مندوں کو پیسوں کے عوض فراہم کرتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ‘ٹوئٹر’ کی جانب سے اتنی بڑی تعداد میں اکاؤنٹس کی بندش سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی انتظامیہ اپنے پلیٹ فارم پر دستیاب معلومات کا معیار بہتر بنانے اور غلط اکاؤنٹس سے پھیلائی جانےو الی جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈے کے توڑ کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہیں۔

امریکہ میں 2016ء کے صدارتی انتخابات کے دوران ٹوئٹر، فیس بک اور سماجی رابطوں کی دیگر ویب سائٹس پر موجود مشتبہ اکاؤنٹس کے ذریعے جعلی اور غلط اطلاعات پھیلائی گئی تھیں جن کا مقصد امریکی حکام کے مطابق امریکی ووٹروں کی رائے پر اثر انداز ہونا تھا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ الیکشن کے دوران سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلا کر انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کی بیشتر کوششوں میں ‘انٹرنیٹ ریسرچ ایجنسی’ نامی ایک روسی کمپنی ملوث تھی جسے اب بند کردیا گیا ہے۔

حکام اب تک کئی ملزمان پر انتخابات کے دوران سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے جعلی خبریں پھیلانے کے الزام میں فردِ جرم عائد کرچکے ہیں جب کہ ان واقعات کے سامنے آنے کے بعد امریکی ارکانِ کانگریس اور دیگر حلقوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز خصوصاً فیس بک اور ٹوئٹر سے جعلی اکاؤنٹس اور افواہوں کے سدِ باب کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

‘ٹوئٹر’ کی انتظامیہ نے سامنے آنے والے نئے اعداد و شمار پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ لیکن کمپنی کی انتظامیہ کا موقف رہا ہے کہ پلیٹ فارم کی صفائی کرنا ان کی ترجیح ہے اور انہیں ادراک ہے کہ اس صفائی کے نتیجے میں ان کے صارفین کی تعداد میں کمی آئے گی۔

رواں سال اپریل میں ‘ٹوئٹر’ انتظامیہ نے بتایا تھا کہ اس کے پلیٹ فارم پر اوسطاً ماہانہ 33 کروڑ 60 لاکھ ‘ایکٹو یوزرز’ ہوتے ہیں۔

‘ٹوئٹر’ انتظامیہ ‘ایکٹو یوزر’ ایسے صارف کو کہتی ہے جو گزشتہ 30 روز کے دوران کم از کم ایک بار اپنے اکاؤنٹ پر ‘لاگ اِن’ ہوا ہو۔

امکان ہے کہ بند کیے جانے والے اکاؤنٹس سے ٹوئٹر کے ‘ایکٹو یوزرز’ کی تعداد میں کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا کیوں کہ ٹوئٹر انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بند کیے جانے والے بیشتر اکاؤنٹس ایک ماہ سےزائد عرصے سے غیر موثر تھے اور اسی لیے انہیں ‘ایکٹو یوزرز’ میں شمار ہی نہیں کیا گیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY