مقبوضہ وادی میں کرفیو کو 21 روز ہوگئے

0
533

مقبوضہ وادی میں کرفیو کو آج 21 روز ہوگئے، تمام تر پابندیوں کے باوجود کشمیر میں زبردست احتجاج جبکہ سری نگر سورہ میں بھارتی فوج کے خلاف مظاہرہ ہوا، گھر میں شیلنگ سے ایک خاتون شہید ہوگئی۔

کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سخت محاصرے کے باعث کشمیریوں کو اس وقت بچوں کی غذا اور زندگی بچانے والی ادویات سمیت بنیادی اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سا منا ہے اور مقبوضہ وادی بڑے انسانی المیے کا منظر پیش کررہی ہے۔ لاکھوں لوگ محصور ہو کر رہ گئے ہیں اور جموں وکشمیر اس کے باشندوں کیلئے بڑی جیل میں تبدیل ہو چکا ہے۔ قابض انتظامیہ نے 5 اگست سے جب مودی کی حکومت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا اعلان کیا تو اس وقت سے وادی میں سخت کرفیو نافذ کر رکھا ہے۔

وادی میں بھارتی فوج کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا گیا، کشمیری نوجوانوں نے سر پر کفن باندھ لیا۔ خواتین بھی احتجاج میں شریک ہوئیں، بھارتی فوج کی فائرنگ اور پیلٹ گن سے درجنوں کشمیری زخمی ہوگئے۔ ظالم بھارتی فوج نے گھروں میں محصور لوگوں کو بھی نہ چھوڑا، گھروں میں آنسو گیس فائر کئے جس سے کشمیری خاتون شہید ہوگئی۔

شہید خاتون کے شوہر کا کہنا ہے کہ کشمیر میں کچھ بھی نارمل نہیں ہے، یہ ان کا میڈیا ہے وہ کچھ بھی کہہ رہے ہیں، وہ جو ہمارے ارد گرد ہو رہا ہے نہیں دکھا سکتے، وہ یہاں سب نارمل دکھا رہے ہیں لیکن کشمیر میں کچھ بھی معمول پر نہیں، میرے بچے روز مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ماما کیوں چلی گئیں، یہ بہت تکلیف دہ ہے۔

پیلٹ گن سے زخمی کشمیریوں نے ٹھیک ہوتے ہی دوبارہ احتجاج میں شرکت کا اعلان کیا ہے۔ قابض فوج نے ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو گھروں سے گرفتار کرلیا۔ مائیں گرفتار بچوں کی خیر خبر جاننے کے لیے بے قرار ہیں۔ حریت رہنماؤں نے کشمیریوں کو تمام تر پابندیوں کو توڑنے اور چٹان کی طرح قابض فوج کے سامنے ڈٹ جانے کی اپیل کی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY