پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیپلزپارٹی کی شیری رحمان نے کہا گورنرراج اور ایمرجنسی نافذکرنے سے پہلے مذاکرات کو ترجیح دی، بیرسٹر گوہر مذاکرات میں سنجیدہ تھے
اپوزیشن اپنے بیشتر مطالبات منوا چکی تھی، لانگ مارچ اور احتجاجی سیاست مسائل کا حل نہیں، اپوزیشن مذاکراتی عمل سے خود الگ ہوئی، بیرونی اثر و رسوخ سے مذاکراتی عمل متاثر ہوا، سوچیں آپ معاہدہ کیےبغیرکس بند گلی میں چلےگئےہیں، معاہدے پردستخط ہوتے تو بانی کو تمام سہولتیں یقینی بنانےمیں ہم ساتھ دیتے۔













