افسانہ ؛ ‘ ککروندے کے پھول
تحریر ؛ جونی سکفٹسوِک (Joni Skiftesvik) ، فِن لینڈ
ترجمہ : غلام حسین غازی ، شیخوپورہ ، پاکستان ۔
ایسی ویسی سردی ہے ۔۔
نیلی نیلی برف پر مغرب سے یخ بستہ ہوا آئیں اور اونی لباس کو چھیدتی جلد تک جا پہنچیں ۔ کپکپی کی لہریں ریڑھ کی ہڈی میں اوپر سے نیچے دوڑتیں اور کندھوں کی کپکپاہٹ ختم ہی نہ ہوتی ۔ افق پر جہاں گہرے بادل تھے ، عین اس کے نیچے برف کاٹنے والی مشین نے نے ساحل تک برف کاٹ کر راستہ صاف کر دیا تھا ۔ وہیں پیلی سی روشنی کا ایک دھبا تھا ۔ ۔ ۔ سورج تھا یا اس کا متبادل ۔ وہ حرارت کی بجائے مزید ٹھنڈ کا احساس پیدا کر رہا تھا ۔’ لینو ‘ کے دانت بج رہے تھے ۔وہ ھوا روکنے والی جیکٹ میں ملبوس تھا جس کےبٹن اوپر تک بند تھے ۔ اس نے نیچے سے اونی قمیض بھی پہن رکھی تھی اس کے باوجود وہ سردی سے کچھ زیادہ محفوظ نہ تھا ۔ وہ ‘ گونار’ سے دو قدم ہی دور کھڑا تھا ۔وہ سب مچھلی پکڑنے کے سامان سے بھرے گودام کے باہر کھڑے تھے اور ان کے چہرے سردی سے نیلے پڑ رھے تھے ۔ وہ برفیلی دھند کے پار ٹکٹکی باندھے ہوئے تھے ۔ سب کی روحیں غم کے کہرے میں لپٹی ہوئیں تھیں ۔
جزیرے کے ایک جانب ، جہاں دریا بل کھا کر بہتا تھا اورجمی ہوئی برف میں کرسمس کے دنوں تک سیال پانی پھینکتا تھا ؛ وہیں اب تین آدمی کھڑے تھے۔
لینو جھکے کندھوں کے ساتھ ، اپنے باپ کی شبیہ نظر آتا ، کشتی کھینے کے چَپو سے برف میں سوراخ بنا رہا تھا ۔ وہاں باقاعدہ برف کی تہہ تو نہیں تھی بلکہ پانی پر بہتے برفانی تودوں کا سست بہائو تھا ۔ ساحل پر کھڑے ہو کر دیکھنے سے وہاں ایک سیاہ سا دھبا نظر آتا تھا ۔
وہ ‘ کُرتی’ کی قبر تھی ۔
لینو ، جب ، ابھی بچہ ہی تھا تو کُرتی نامی ایک جہازی مزدور عین کرسمس کے دن وہاں گر کر مر گر گیا تھا ۔
اب ، لوگ کُرتی کی قبر سے خائف رہتے تھے ۔
جب انھیں کالی دلدلوں کی طرف چیڑ کی شاخیں یا جھاڑیاں لینے جانا ہوتا تو سکیئنگ یا سلیجنگ کرتے ہوئے وہ اس جگہ سے دور ہو کر گزرتے جہاں اس کی موت واقع ہوءی تھی حالانکہ ان دنوں وہاں سوائے برف کی موٹی تہہ کے کچھ بھی نہ ہوتا تھا ۔کچھ لوگوں نے دعوٰی کیا تھا کہ انھیں اس جگہ سے کئی بار دھواں اٹھتا بھی دکھائی دیا تھا لیکن لینو نے کبھی بھی ایسا کچھ نہ دیکھا تھا ۔ اس کے ابا کہتے تھے ، ” گرم پانی کی بھاپ برف کی تہہ توڑ کر اوپر آتی ہے ۔ اس کے سوا کچھ بھی نہیں ۔ “سردیوں میں لوگ ‘ فر’ کے درخت کی شاخیں توڑ کر وہاں گاڑ دیتے تاکہ قبر کی نشانی برقرار رہے ۔ لینو جب بھی ساحل پر کھڑے اس قبر والی جگہ پر ان گڑی شاخوں کو دیکھتا تو اسے یہ دور سے بھوت محسوس ہوتیں لیکن اب تو وہاں فر کی شاخیں بھی نہیں تھیں ۔
ان میں سب سے چھوٹے قد آور فربہ جسم والا مرد ‘ سیمو سومیلا ‘ تھا ، جس کا عرف ‘ فِن لینڈیا ‘ تھا ۔ لینو اکثر اس کا نام لے کر ہنستا تھا لیکن اس روزوہ ایسا نہیں کر رہا تھا ۔
اس سے اگلا بندہ تھا ‘جیری میجیف’جوایک پُلسیا تھا ۔ والد صاحب اسے ‘پٹساموں’ میں رہائش کے دنوں سے جانتے تھے ۔ پہلے وہ ‘ کلوسیکانی ‘ میں چمنی کی تعمیر پر راج گیری کیا کرتا تھا؛ وہ چمنی جس کے متعلق ابا کہتے تھے، وہ اگر پوری دنیا میں نہیں تو پورے یورپ میں بلند ترین چمنی تھی ۔جرمی جیف لوہے کا لمبا لٹھ اٹھائے کھڑا تھا جس کے ساتھ مختلف لمبائیوں کے کنڈیاں اور کنڈے لٹک رہے تھے ۔ وہ لٹھ اٹھائے تنگ راستے پر بائیسکل چلاتا وہاں پہنچا تھا ۔ والد صاحب نے مچھلی سٹور کا سامان اتھل پتھل کر مضبوط رسے کا ایک لچھا ڈھونڈ لیا تھا ، جس کا ایک سرا انھوں نے اس کنڈیوں والی لٹھ سے باندھ دیا ۔
رسہ باندھتے ہوئے ابا نے پوچھا ، ” یہ کنڈیوں والی لٹھ کسی کی ہے؟ ”
جرمی جیف نے ہنستے ہوئے اسے برف پر رکھ دیا اور بولا ، ”حکومت کی ہے ۔”
اب وہ اس ریاستی لٹھ کو برف میں بنے سوراخ میں پانی کے اندر اتارتا جا رہا تھا۔ جبکہ ابا کشتی کے آنکس سے برف کے ٹکڑوں کو بہتے پانی میں دھکیلتے جا رہے تھے۔ فن لینڈیا کسی بات کی وضاحت کر رہا تھا اور جرمی جیف رسے کو مہارت سے ہلا رہا تھا ۔
اچانک وہ رک گیا اور رسے کو اوپر کھینچنے لگ گیا ۔ لینو کو پہلے سے بھی زیادہ ٹھنڈ محسوس ہونے لگی ۔ وہ اپنے آپ میں بڑبڑایا ، ” کنڈیوں کے ساتھ کچھ بھی نہیں آنے والا۔ ” لیکن وہ چونکا اور ایک طرف دیکھتے ہوے سوچنے لگا اگر ماں نے یہ سن لیا ہو تو ؟
ماں اپنے سر پر فر کا بنا بڑا کنٹوپ چڑھاے ہوئے تھی جس کے کانوں کو ڈھانپنے والے پٹے مضحکہ خیز انداز میں اوپر اٹھے ہوے تھے ۔ وہ بالکل بیلچوں جیسے لگ رہے تھے ۔ یہ اس کے ابا کا کنٹوپ تھا ۔ وہ سختی سے ہونٹ بھینچے درد کی تصویر بنی کھڑی تھی ۔ اس کی ناک کے باہر پانی کا ایک قطرہ چمک رہا تھا ۔ وہ کانپتی ہوئی آواز میں بولی ، ” کیا کوئی چیز اوپر آ ریی ہے؟ ”
جب وہ کنڈیوں والی لٹھ بالکل خالی برآمد ہوئی تو وہ بے قراری سے بولیں ، ” کچھ بھی نہیں ۔ ۔ ۔ شاید نیچے کچھ بھی نہیں ہے ۔” ، وہ اپنے چپٹے دستانوں میں اضطراب میں اپنی انگلیاں کبھی کھول اور کبھی ملا رہی تھیں ۔
ماں کے ساتھ انیتا بھی کھڑی تھی ۔ وہ بھاری کوٹ اور پیلی لمبوتری ٹوپی پہنے ہوئے تھی ، ” وہ یہیں ہیں کیوںکہ ان کے پیروں کے نشان برف پر نمایاں ہیں ۔”
ماں نے رونا شروع کر دیا ۔
لینو ناراض ہو گیا ۔ وہ جانتا تھا کہ لڑکے برف کے نیچے پانی میں تھے ۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ انیتا اس طرح سے لوگوں کو پریشان کرے ۔ وہ اس وقت بہت سفاک اور سرد مزاج لگ رہا تھا ۔
وہ کل سے اِدھر اُدھر بھاگ رہے تھے۔ وہ ہلکی برف سے ڈھکے جنگل میں آوازیں دے دے کر تھک گیے تھے لیکن ان جڑواں بچوں کا کوئی سراغ نہ حاصل کر سکے تھے ۔
اس صبح ہی انہیں ساحل کے کنارے کنارے برف پر دو بچوں کے قدموں کے نشان ملے تھے ۔ ابا نے جب ٹارچ کی روشنی پھینکی تو وہ دیکھ سکتے تھے کہ قدموں کے وہ نشان سیدھے کُرتی کی قبر کی طرف جا رہے تھے ۔ ابا ایک لمبی لکڑی کی صلیب اٹھائے اس قبر کے سوراخ تک گئے اور جب وہ واپس مڑے تو لینو ان کے گالوں پر آنسو دیکھ سکتا تھا لیکن ابا تو وہ انسان تھا جو کبھی روتا نہ تھا ۔ ھاں! ممکن ہے ان کے گالوں پر برف جم گئی ہو ۔ انھوں نے آواز دی ، “جرمی جیف کو بلا لائو ۔” ۔ یہ سُن کر انیتا مچھلی سامان کے سٹور کی طرف بھاگی ۔
جرمی جیف رُک گیا ۔ کنڈیوں والی لٹھ کسی چیز میں اٹک گئی تھی ۔ لینو نے دیکھا ماں کی آنکھیں رو رو کر سوج چکی تھیں اور اب اُبل کر باہر آنے کو تھیں ۔ اسے لمحے لینو کو لگا کہ شاید وہ ابل کر گالوں پر ہی آ لٹکیں تھیں ۔
ماں نے درد و یاس میں بھیگی آواز میں چلا کر کہا ، “مجھے یقین ہے یہ کوئی لکڑی وغیرہ ہی ہوگی ۔”
جب جرمی جیف رسہ کھینچ رہا تھا تو کنڈی سے اٹکا وزن محسوس ہو رہا تھا ۔ ابا اس کی مدد کے لئے آگے بڑھا ۔ ابا رسے کا لچھا لپیٹ نہیں رہا تھا بلکہ وہ اسے یونہی برف پر ڈالتا جاتا ۔ جرمی جیف جھک گیا تاکہ کانٹے کے ساتھ اٹکی چیز کو پکڑ سکے ۔
“جب آپ بڑے ہو جائو گے تو کیا بننا پسند کرو گے؟ ” ، وِلی باچھیں پھاڑ کر ہنسا تھا ۔ اس کے بچکانہ دانت سچے موتیوں جیسے دکھ ریے تھے ۔ ” میں آسمانوں کو ٹھیک کرنے والا بنوں گا ۔”
لینو نے ماں سے پوچھا , ” اس کا کیا مطلب ہے؟ یہ بار بار مجھے ایک ہی بات کہے جا رہا ہے ۔ ”
ماں سر ہلائے جا رہی تھی۔ ” وہ یہ بات کہہ رہا ہے کہ وہ آسمان کا مکینک بنے گا ۔ ”
لینو لڑکے کو دیکھ رہا تھا ۔ اس پانچ سال کے بچے کا ہنس مکھ چہرہ دمک رہا تھا ۔ فن لینڈیا اسے یہی کہتا ۔ ” لو جی! آ گیا ہنس مکھ بچہ ۔” ۔ وِلی جب بھی بھاگتا ہوا گھر میں داخل ہوتا تو کھیتوں کے پار اپنے ڈیرے کے مختلف واقعات سناتا ۔
ایک بار ، وِلی ، ہلجا سومیلا سے کہہ دیا تھا ، “میری امی کہتی ہیں کہ میں تمھیں بتا دوں تمھارے گھر کے پردے بہت بد نما ہیں ۔” ہلجا کئی روز تک خاموش رہی اور اسے یقین نہیں آتا تھا کہ کسی نے بھی وِلی کو یہ بات کہنے کے لئے بولا تھا یا نہیں ۔ اس نے خود سے ہی وہ بات بنا لی ہو گی ۔ فن لینڈیا وہ سن کر بہت ہنسا تھا ۔ وہ وِلی کو خوب سمجھتا تھا لیکن ہلجا نے اس بات کو بہت سنجیدگی سے لے لیا تھا ۔
لینو اپنی امی سے پوچھتا ، ” کہ یہ کس بات کی علامت ہے کیا کوئی ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ آسمانوں کی درستگی کر سکے؟ ”
ماں نے جواب دیا تھا کہ کوئی بھی اس بچے کی باتوں کو نہیں سمجھ سکتا ۔
وِلی سر سبز صحن سے بھاگتا ہوا پچھواڑے میں بنے لکڑی کے شیڈ کے میں چلا جاتا ۔ اس نے اور ‘ ایسکو’ نے مل کر وہاں گتے کے ڈبوں کو جوڑ کر ایک جھونپڑی سی بنائی ہوئی تھی ۔ وہ اسے اپنا ‘ کھیل گھر’ کہتے ۔
ماں گہری سوچ میں بولی ، ” شاید وِلی کو یہ لگتا ہو کہ آسمانوں کو بھی کسی مرمت کی ضرورت ہے ۔”
لینو کو خیال آیا کہ وِلی اسی لئے جلدی چلا گیا کہ وہ اوپر جا کر آسمانوں کی مرمت کر سکے ۔
جرمی جیف کے ہاتھوں میں ایک بڑا سیاہ سا گٹھڑ تھا جو اس نے احتیاط سے برف پر رکھ دیا ۔
ابا نے ایک بار پھر کنڈیوں سے بھری لٹھ کو سوراخ میں گرا دیا جس سے چھپک کی آواز آئی ۔
ماں کا منہ کھلا ہوا تھا۔ درد و حزن کی ایک چیخ ان کے منہ سے برآمد ہوئی جو یخ برف پر دور تک پھسلتی چلی گئ ۔ ” خدارا! مجھے بتائو وہ کیا ہے؟ ”
ابا مڑے ، ” ہمیں ویلی مل گیا ہے۔ دوسرا بھی ساتھ ہی تھا لیکن وہ کنڈی سے چھوٹ گیا ہے ۔ ‘ ایسکو ‘ کو بھی جلد ہی اوپر لے آتے ہیں ۔”
ماں اس طرح گھٹنوں کے بل برف پر گری جیسے کسی نے ان کے سر میں چولہے میں جلانے والی ایک موٹی لکڑی دے ماری ہو ۔ وہ قریب ہی ٹھٹھری ہوئی کانٹوں بھری جھاڑی پر جا گریں ۔ انھوں نے اپنے دونوں ہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھ لیے ۔ ان کی ٹوپی کے کن پٹے ہوا میں پھڑ پھڑا رہے تھے اس لئے کوئی بھی یہ نہ دیکھ سکا کہ وہ آنکھوں پر اپنی مُکیاں رکھے ہوئے تھیں یا ہتھیلیاں ۔ ان کے منہ سے ماتمی الفاظ کا ایک سیلِ رواں بہہ رہا تھا ۔ چاروں جانب برف کی یخ بستگی تھی ۔
یہ کیسا گرنا تھا ؛
لینو کو یاد آیا کہ پچھلی گرمیوں میں اسے کیا کہا گیا تھا ۔ جب وہ مچھلی پکڑ ریے تھے اور مچھلی چارہ تو کتر لیتی لیکن کانٹے میں لگ نہیں رہی تھی ۔
وِلی کو تو نکال لیا گیا مگر ایسکو کنڈے میں نہ اٹک سکا اور نیچے گر پڑا ۔
ابا رسہ کھینچ رہے تھے جب کہ جرمی جیف اور فن لینڈیا اس سے آگے ہی کچھ کر رہے تھے۔
ایک اور سیاہ گٹھڑ برف کے سوراخ سے نمودار ہوا ۔
اچھا ! ایسکو ہمیشہ پھولوں اور پرندوں کے متعلق پوچھتا رہتا تھا ۔ وہ صحن کے درمیان کھڑا ہو جاتا ۔ سر پیچھے پھینک کر محو پرواز بگلوں کی قطاروں کو دیکھتا رہتا ۔ تب تو اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہ ہوتا جب دیسی کھاد کے ڈھیروں پر مچھلیوں کی بالٹیاں الٹ دی جاتیں اور بگلوں کے غول در غول نیچے اترنا شروع کر دیتے ۔ تب وہ تالیاں بجاتا ہوا صحن میں دوڑنا شروع کر دیتا اور بسا اوقات وہ سڑک تک دوڑتا جاتا ۔ ڈاک کے ڈبے کے پاس سے گزر جاتا ۔ لمبی گردن کئے غول کے پیچھے پیچھے بھاگتا جاتا ۔
“یہ ککروندے کی بوٹی ہے ۔” ، ایسکو نے دعوٰی کیا ۔
وہ اپنی پیلاہٹ کھو چکا سفیدی مائل ککروندا تھا ۔ اس کے نازک ترین روئیں گچھے مدہم ترین ہوا میں بھی تھرتھرا اٹھتے ۔
لینو نے نہایت احتیاط سے ایک پھول اٹھایا ، ” کیا میں اسے پھونک ماروں؟ ”
وہ بے صبری سے بولا ، ” ہاں ہاں ! اس پر پھونک مارو! ”
لینو نے خوب منہ بھر کے اس پر پھونک ماری ۔ سبھی ریشے اپنی جڑوں سے اکھڑ اکھڑ کر شاندار انداز میں ہوا میں تیرتے چلے گئے ۔
ایسکو ان کے پیچھے بھاگا اور اپنی انگلیوں سے انھیں اُچکنے لگا ۔ بار بار اس کا منا سا جسم اچھلتا اور وہ دونوں ہاتھوں کو بھینچتا جیسے تالی بجانا چاہتا ہو۔ وہ تصور کرتا کہ ریشوں سے اٹکے ننھے ننھے بیج اس کی چھوٹی چھوٹی ہتھیلیوں میں آ رہے تھے ۔
اس پھول کے روئیں بھی اڑ کر وہیں چلے گئے جہاں سبھی جاتے ہیں ۔
بچہ اداسی سے انھیں غائب ہوتے دیکھتا رہتا ۔
پھر اس کی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھ گئیں ۔ اس کا چہرہ پھر خوشی سے دمک پڑا۔
لینو بھی وہ سب دیکھ رہا تھا ۔
وہ بہت بڑے پروں والا پرندہ تھا ۔ وہ اوپر ہی اوپر اٹھتا جا رہا تھا ۔ اس کے پر بالکل ساکت تھے پھر بھی وہ اوپر ہی اوپر اٹھ رہا تھا ۔ وہ چھوٹے سے چھوٹا ہوتا جا رہا تھا اورآخر کار وہ وہاں نہیں تھا ۔ وہ غائب ہو چکا تھا ۔ اوپر بس نیلا آسمان تھا ۔
ایسکو پھر بھی آسمان کو دیکھتا رہتا ۔ لینو حیران تھا کہ کیا بچے کو واقعی وہ پرندہ اب بھی نظر آ رہا تھا ۔ ہرگز نہیں! کوئی بھی اتنا تیز نگاہ نہیں ہو سکتا تھا ۔
فن لینڈیا نے سلیج کو اس منحوس سوراخ کے قریب لا کر تیار کر دیا ۔
وہ ایک بہت اعلیٰ سلیج تھی ، جسے ‘ کوسیکو’ شہر کے ‘جینی’ نے بنایا تھا ۔ ابا کہتے تھے وہ پیندے والی سلیج بنانے والا دنیا بھر میں سب سے اعلی کاریگر تھا ۔ والد صاحب کا کہنا تھا کہ اس کی بنائی سلیج میں پانی کے دو ٹب بھی بھر کر رکھ دو مجال ہے کہ چوں چاں کی ایک بھی آواز آ جائے ۔ البتہ ہماری سلیج کا درمیانی شہتیر تھوڑا کھسک چکا تھا کیوں کہ وِلی اور ایسکو اس سے ‘ کینونے پہاڑ’ کی عمودی ترین ڈھلان پر سلیجنگ کرتے ہوے گرے تھے ، جس وجہ سے وہ زمین سے آ ٹکرائی تھی اور اس کا اِنجر پِنجر کچھ ڈھیلا پڑ گیا تھا ۔ لینو کو یقین تھا سلیج ابھی بھی کمزور نہیں تھی ۔ دنیا کی کوئی بھی سلیج اس طرح کی مار نہیں کھا سکتی تھئ ۔
ابا اور جرمی جیف نے مل کر پہلا گٹھڑ ، پھر دوسرا گٹھڑ اٹھا کر سلیج پر رکھا ۔
ابا نے کھینچنا شروع کیا ۔ انھوں نے رسہ کھینچ کر اپنے کندھے کے اوپر سے سینے کے سامنے کیا پھر اسے اپنی کمر کے گرد کس کر لپیٹ لیا ۔ فن لینڈیا سلیج کے پیچھے خاص پھٹی پر ایک پائوں رکھ کر کھڑا ہو گیا اور ایک پیر زمین پر ٹکا ٹکا کر اسے دھکا دینے لگ گیا ۔ جرمی جیف کنڈیوں سے بھرے لٹھ کو کندھے پر جما کر ساتھ ساتھ چلنے لگ گیا ۔ اس نے بھورے چمڑے کا لمبا کوٹ اور اونی پاجامہ پہن رکھا تھا ۔ اس کے جوتے ربڑ کے تھے ۔ ان پر پٹیاں ایک طرف سلی ہوئی تھیں اور دوسری طرف لوہے کے بکسووں میں بند تھیں ۔ البتہ ایک بوٹ کی ایک پٹی کا بکسوا ٹوٹ چکا تھا ۔ اس لئے جونہی وہ قدم اٹھاتا تو وہ پٹی ہوا میں لہراتی ۔ اس کی مونچھوں میں کہرا جم چکا تھا ۔ فن لینڈیا کی بھی مونچھیں تھیں لیکن یہ جرمی جیف جتنی بڑی اور گھنی نہیں تھیں ۔ لینو کو یاد آیا کبھی ابا کی بھی بڑی اور گھنی مونچھیں ہوا کرتی تھیں ۔ امی اکثر انھیں کھینچ کر مذاق اڑایا کرتی تھیں ۔ پھر ابا کا جی بھر گیا اور انھوں نے مونچھیں صاف کروا دیں ۔
وہ ، جب ، کشتی گھاٹ تک پہنچے تو لینو نے دیکھا والد صاحب کا سانس پھول چکا تھا ، بھلے سلیج کھینچنا ان کے لئے مشکل نہ تھا ۔ ان کے نتھنوں سے ویسے ہی لمبی لمبی ھوا خارج ہو رہی تھی جیسے کے منجمد کر دینے والی سردی میں لکڑیاں گھسیٹنے والوں کے نتھنوں سے ۔
اب وہ برف سے اتر کر کوری زمین پر آ گئے تھے ۔ لوہے کی پٹیاں چرچرائیں جب سلیج ساحلی زمین پر چڑھی ۔
سٹور کے ایک کونے پر جہاں باقی سب کھڑے تھے، والد صاحب نے رسہ اتار پھینکا تو سلیج اپنے وزن سے ہی گھسٹتی ہوئی ان تک جا پہنچی ۔
لڑکے پشت کے بل ایک دوسرے کے ساتھ لیٹے ہوئے تھے ۔
ان میں سے کسی کے سر پر ٹوپی نہ تھی ۔ سرکاری کنڈی نے وِلی کا ایک گال پھاڑ دیا تھا ۔ کنڈی سے بننے والے گھائو سے اس کا ایک سفید دانت دکھائی دے رہا تھا ۔
ان کی آنکھوں میں برف کا چورا سا بھرا ہوا تھا ۔ ایسکو کھلی آنکھوں سے آسمان کو دیکھے جا رہا تھا ۔ لینو نے اوپردیکھا۔ اسے کوئی پرندہ نظر نہ آیا ۔ لینو نے سوچا ، شاید ایسکو اسے دیکھ سکتا تھا ۔
ماں سلیج کے ساتھ سر ٹکائے گھٹنوں پر بیٹھ گئی ۔ وہ لڑکوں کو تھپتھپانے لگ گئی ۔ ان کے کپڑوں پر انگلیاں پھیرنے لگی ۔ وہ وِلی کی جیکٹ کسنے لگ گئی جسے اسے ٹھنڈ سے بچانا چاہ رہی ہو۔ وہ ان کی دیکھ ریکھ کر رہی تھی ۔ اس کے دستانے ایک بچے سے دوسرے بچے پر پھسل رہے تھے ۔
ابا نے سلیج کی طرف اشارہ کر کے کہا ، ” لینو ترپال تو پکڑو! ”
ترپال اس سٹور کی پشت پر مچھلی پکڑنے والے جال کے ساتھ پڑی تھی ۔ وہ گندی اور پھٹی ہوئی تھی ۔ موسم بہار میں ملاح اسے کشتی کے تختوں پر پھیلا دیتے تھے تاکہ لکڑیاں دھوپ سے تڑخ نہ جائیں ۔ ترپال پر کمپنی کا نام چھپا ہوا تھا ۔ لینو دیکھ سکتا تھا کہ ابا کو پسند نہیں تھا کمپنی کا ترپال بچوں کے مردہ جسموں پر ڈالے ۔
ابا اور امی نے بے حد محبت سے ان پر ترپال ڈالی ۔ فن لینڈیا نے ان کی مدد کی ۔ انہیں ایسکو کو اٹھا کر تھوڑا درمیان میں کرنا پڑا ۔ لینو اپنی امی کو اب پُرسکون دیکھ کر بے حد حیران تھا ۔
ابا نے سلیج کھینچتے ہوئے کہا ، ” چلو اب چلتے ہیں ۔ ہمیں لڑکوں کو سوانا غسل دینا ہے اور پھر کفنوں کا آرڈر بھی دینا ھے ۔ ”
ماں بس سر ہلاتی رہی ۔
فن لینڈیا نے ماں کو سلیج کو دھکا لگانے کے لئے جگہ دی ۔ وہ بچوں کو گھر لے جانے کے لئے ابا کی مشقت میں ہاتھ بٹانا چاہتی تھیں ۔ وہ سلیج کو تنگ راستے پر کھینچتے چلے گئے ۔
لینو اور باقی لوگ سلیج کے پیچھے پیچھے چل پڑے ۔ جرمی جیف اپنے بائیسکل گھسیٹتا رہا ۔ لوہے کے سرکاری لٹھ پر کنڈیاں آپس میں ٹکرا کر ایسے آوازیں پیدا کر رہی تھیں جیسے چھوٹی چھوٹی گھنٹیاں بج رہی ہوں ۔
فنس مصنف کا تعارف

جونی سکفٹسوِک (Joni Skiftesvik) ’ ہوکیپوڈس ‘ میں 26 جولائی 1948ء کو پیدا ہوا ۔ اس کا والد بحری جہاز راں تھا ۔ جونی نے ’ ہوکیپوڈس ‘ یونیورسٹی سے ہی صحافت کی تعلیم حاصل کی ۔ وہ 1988ء تک صحافت سے ہی وابستہ رہا لیکن پھر اس نے کُلی طور پر ادب کا میدان منتخب کرتے ہوئے افسانے ، ناول اور ڈرامے لکھنے شروع کر دئیے ۔ اس کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’ Puhalluskukkapoika ja taivaankorjaaja‘ (The blow-flower boy and the heaven-fixer) تھا جو 1983 ء میں شائع ہوا تھا ۔ اب تک اس کے افسانوں کے گیارہ مجموعے ، پندرہ سے زائد ناول اورلگ بھگ بیس ڈرامے شائع ہو چکے ہیں ۔ ان کے علاوہ اس کی نان فکشن نثری تحاریر کی بھی دو کتابیں چھپ چکی ہیں ۔ اس نے ریڈیو ، فلموں اور ٹیلی فلموں کے لئے بھی کئی سکرپٹ لکھے ہیں اور کچھ فلموں میں اداکاری بھی کی ہے ۔ اس کی تحریروں میں باپ اور بیٹے کی رشتے کے علاوہ ایسے کرداربھی ہیں جن کا زیادہ تر تعلق سمندر سے نسبت رکھنے والے پیشوں سے ہے ۔ ان میں شمالی یورپ کی زندگی کا عکس بھی اپنے پھرپور انداز میں نظر آتا ہے ۔ وہ ارنسٹ ہیمنگوئے اور گیبرئیل گارشیا مارکوئیر اور جرمن ادب سے متاثر ہے ۔ وہ اب تک فِن لینڈ میں کئی انعام حاصل کر چکا ہے اور اس کی کتابیں ای ۔ بکس کی شکل میں ڈھلنے کے علاوہ کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں ۔
ترجمہ : غلام حسین غازی













