ایران میں تمام مساجد عارضی طور پر کھولنے کا فیصلہ

0
783

کرونا وائرس سے متاثرہ ملک ایران میں لاک ڈاؤن اور دیگر پابندیوں میں نرمی کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں پہلی مرتبہ لگ بھگ دو ماہ بعد تمام مساجد کو عارضی طور پر کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

ایران نے یہ فیصلہ ایسے موقع پر کیا ہے جب ملک بھر میں کرونا وائرس کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ‘آئی آر آئی بی’ کے مطابق اسلامک ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر محمد قومی کا کہنا ہے کہ تمام مساجد کو کھولنے کا فیصلہ وزاتِ صحت کی مشاورت سے کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل قومی نے پیر کو کہا تھا کہ رمضان کے مقدس مہینے میں تین روز کے لیے مساجد کو کھولا جائے گا۔

ایران کی ہی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ مساجد کھلیں گی یا نہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ جمعے ایران کے 180 سے زائد شہروں اور قصبوں میں دو ماہ بعد نمازِ جمعہ کے اجتماعات کا انعقاد کیا گیا تھا۔ تاہم دارالحکومت تہران اور دیگر اہم شہروں میں جمعے کے اجتماعات پر پابندی ہے۔

ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوب مغربی علاقوں میں لاک ڈاؤن بدستور جاری ہے جب کہ خوزستان کے گورنر کے مطابق اُن کے صوبے میں کرونا وائرس کے نئے کیسز کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

یاد رہے کہ ایران پہلے ہی شہروں کے اندر نقل و حرکت اور شاپنگ مالز پر عائد پابندی اٹھا چکا ہے جب کہ صدر حسن روحانی اتوار کو اعلان کر چکے ہیں کہ آئندہ ہفتے سے اسکول کھول دیے جائیں گے۔

ایران مشرق وسطیٰ کا کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے جہاں اب تک چھ ہزار سے زائد افراد ہلاک اور ایک لاکھ سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

ایران کے صحت کے حکام خبردار کر چکے ہیں کہ پابندیوں میں نرمی کی صورت میں نئے مریضوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY