شاید اسی کا نام جمود حیات ہے
اہل ہنر کو فرصت کسب ہنر نہیں
ہمارا بلکہ خطے ہر موجود ہر مخلوق کا اس کائنات سے بہت گہرا تعلق ہے۔۔ ہر ذی روح ایک دوسرے کے لئے نویدِ حیات ہے ۔۔انسان کے معاملہ میں بس اتنا ضرور ہوا کہ خدا نے اس کو اپنا نائب مقرر کیا اور اس لاڈلی مخلوق کو یہ کہہ کر خوش کردیا کہ اس کائنات کی ہر شے تمہارے لئے پیدا کی ہے ۔۔۔
گو کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی مقدس ترین مخلوق ہیں لیکن خداوند تعالیٰ نے اس مقدس ترین مخلوق سے انسان کو سجدہ کرایا کیوں؟ کیونکہ انسان کے پاس انسانیت کا جوہر تھا اور یہ وہ جوہر ہے جس سے فرشتے محروم ہیں۔۔
بدلے میں صرف اتنا چاہا کہ انسانیت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے ۔۔
اس نے کہا کہ آسمانوں کی سیر کرو نئی دنیاوں کو دریافت کرو کہکشاوں کو راہ گزر بناو۔۔تدبر کرو اچھے برے کو پرکھو اور اپنی تربیت کرو ۔۔
اور اس جاننے کی خواہش کو لے کر انسان اس دنیا میں وارد ہوا ۔۔
“آدمی نے بھی پانی کے تالاب میں گری چیونٹی کی طرح ممکن اور ناممکن کی پرواہ کئیے بغیر امکان کی انگلی پکڑ لی تھی”
(شجر حیات)
غرض کے ہر ناممکن کو ممکن کرنے کی دوڑ شروع ہوگئی۔۔
پھر گویا ترقی کی دوڑ میں یوں لگا کہ زندگی ایک ایسی مسابقت ہے جس میں ہر شخص اپنی اپنی صلاحیت، اپنی اپنی قسمت، اپنی اپنی خواہش، اپنی اپنی ہوس کی رفتار سے بھاگا چلا جا رہا ہے۔۔
ایسے ہی مشاہدات ۔۔ناول “شجرِ حیات” میں موجود ہیں
جسے ریاظ احمد صاحب نے عمیق فلسفوں اور لطیف آہنگ سے آراستہ کیا ہے۔۔وہ خود بھی ایک مصور ہیں
اور اس سے انکار ممکن نہیں کہ مصوری ہی اظہار کی قدیم ترین زبان ہے جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ سمجھی جاتی ہیں۔۔ جب مصوری کو اظہار کا ذریعہ کہا جاتا ہے تو مصور کے اطراف کا ماحول زمانہ اس کے دور کے معاشی اور معاشرتی حالات بھی اس کے اظہار میں شامل ہوجاتے
“شجرِ حیات ” ایک نوعمر مصور بہزاد کی کہانی ہے ۔۔
یہ کہانی باغ میں ملنے والے تین مرکزی کرداروں پروفیسر ۔۔۔۔نیلی اور بہزاد کے سچ پر مبنی روداد ہے ۔۔۔
دنیا دار طبقوں کی خود غرضی سے پرے یہ لوگ اپنے سچے نظرئیے پر جیتے ہیں اور لوگوں کی سنہری پیشکش پر بھی اپنے نظریہء حیات کو سمجھوتوں کی نظر نہیں ہونے دیتے۔۔۔
“ہمارے عہد میں خدا بہت زیادہ ہوگئے ہیں انسانوں کی تعداد سے زیادہ چینٹیوں اور مچھروں کی تعدا کے برابر ایک ایک آدمی کے دل میں کئی کئی خدا ہیں۔۔مجھے ڈر لگتا ہے کہیں ان خداواں کے درمیان جنگ نہ ہوجائے”(شجر حیات)
آدمی اپنی طبیعت میں موجود تجسس کے بل بوتے پر کائنات کے راز جانتا چلا گیا یہاں تک کہ خود سب کچھ جان لینے کی برتری کے غرور میں مبتلا ہوگیا۔ بناء یہ سوچے سمجھے کہ خدا نے اسے احسنِ تقویم کیوں کہا تھا بہترین صورت میں پیدا کیوں کیا تھا ۔۔؟
بہزاد بھی کائنات کے اسی سچ کی تلاش میں کئی جید عالموں سے رابطہ کرتا ہے۔۔مگر ہر جانب سے تسلی بخش جواب نہیں پاتا مگر
ایک مزدور کی زبان سے سنے اِن کلمات میں اپنی کھوج کا راز پا لیتا ہے
“محنت کرنا انسان کا سب سے اعلی وصف ہے محنت کرنے سے انسان کا نفس اس کے قابو میں رہتا ہے وہ خود سر نہیں ہوتا ۔۔فارغ آدمی کو طرح طرح کی بیماریاں لگ جاتی ہیں کام کرنے سے صحت اور روح دونوں خوش رہتے ہیں
کام کرنے سے بندہ چھوٹا نہیں ہوتا، چھوٹا تو اسے تکبر کردیتا ہے تکبر چھوڑ دیں ۔۔نفس سکون میں آجائے گا۔۔”
(شجرحیات )
ریاظ احمد صاحب کے لکھے جملے شاعری سے کسی صورت کم نہیں ان میں عجیب ہی آہنگ و ردھم پائی جاتی ہے ۔۔
جیسے خواب میں نیلی کی ماں کے کہے یہ جملے۔۔
“میرے ساتھ آؤ اور چاند کے ٹکڑے اٹھاوء۔۔رات کی سیاہی بڑھ رہی ہے وقت کی خاک چاند کی روشنی نگل لے گی ہمیں چاند کے ٹکڑوں کو رات ختم ہونے سے پہلے سمندر کے سپرد کرنا ہے ورنہ سمندر بھی صحرا بن جائے گا۔۔آو چاند اور زمین کی محبت بچانے میں میری مدد کرو “(شجرحیات)
مختصرا” اس ناول کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ مرکزی کردار بہزاد جو ایک مصور ہے نوعمری میں ایک ٹریفک حادثے میں والدین کو کھو دیتا ہے خود بھی موت سے زندگی کی جانب ایک معجزے کے باعث پلٹتا ہے۔ اسکا دعوہ ہے کہ یسوح مسیح نے اسے دوبارہ حیات بخشی ہے۔۔۔۔
کہانی باغ جانا قدرت کا مشاہدہ کرنا اور وہاں اپنی پینٹنگز بنانا اس کا ہمیشہ سے معمول ہوتا ہے ۔۔وہیں ایک درویش صفت شخص یعنی پروفیسر سے اس کی ملاقات ہوتی ہے جو اپنی زندگی کے تجربات بہزاد کو سناتا ہے اور انکے نتائج کی سچائی سے بہزاد بھی متاثر ہوتا ہے ۔ نیلی بھی کہانی باغ کی سیر کو آنے والے لوگوں میں شامل تھی۔ وہاں ایک مصور کو رنگوں کی دنیا میں مگن پا کر وہ اس میں دلچسپی لینے لگتی ہے۔۔ نیلی کے والد کی فرمائش پر چرچ کے لئے مسیح کی تصویر بہزاد نے بنائی تھی۔ تصویری نمائش میں آرٹ کے کسی مداح نے اس کی اس پینٹنگ کو سراہتے ہوئے اسں انکشاف سے اسے چونکا دیا تھا ۔
وہ تصویر مسیح سے زیادہ بہزاد کی اپنی شبہیہ محسوس لگتی ہے مگر بہزاد کا دعوہ یہی تھا کہ جس نورانی شخصیت نے اسے زندگی بخشی ہے وہ ایسے ہی شکل و شمائل رکھتی تھی۔
اس موقع پر مجھے ماہتما بدھ کا یہ قول یاد آگیا۔۔ جیسے انہوں نے کہا تھا کہ
” ہمیں ہمارے علاوہ کوئی نہیں بچاسکتا ہمیں اپنے بچاؤ کے لئے خود راہوں کو کھوجنا پڑتا ہے ۔”
۔۔ باقی کہانی جاننے کے لئے قاری کو اس کتاب سے ہی رجوع کرنا پڑے گا۔۔۔
اس کتاب کی متاثر کن بات اس میں لکھے دانائی سے پْر مکالمے ہیں جو بہت ہی لطیف انداز سے انسان کی داخلی کیفیت بیان کرتے ہیں۔۔ کہ ذہن روشن ہوجائے مثلا”
“ایثار کسی بھی تعلق کی بڑی خوبی ہوتا ہے”
(شجر حیات)
اور ایک یہ بھی ۔۔۔
“تم نے کہا تھا کہ دیکھنا بھی ایک ہنر ہے دیکھنا آجانا ایسا ہی ہے جیسے جینا آجائے۔”
(شجر حیات)
یعنی کسی بھی انسان کا پرکھنے کا نظریہ اس کو ممتاز بنا دیتا ۔جیسے کسی کی چشمِ بینا وا ہوجائے۔
“میں جان گئی ہوں کہ اگر دیکھنا نہ آئے تو آدمی ایک پھول تک کا پورا حْسن نہیں دیکھ سکتا ۔۔یہ عمل مجھے اپنے عہد کا سب سے بڑا گناہ لگتا ہے۔۔ہمیں صرف خود کو دیکھنا سکھایا جاتا ہے ،جو اندھا پن ہے میں یہ بھول گئی تھی کہ چھونا ، سونگھنا ،چکھنا، سوچنا بھی تو دیکھنا ہی ہے ” (شجر حیات )
“ہم انسان ہیں اور انسانوں کو جاننے میں ہم سے بھول ہوجاتی ہے ہم سچائی سے دور ہوجاتے ہیں ۔سچ خوشبو اور جھوٹ کی بدبو کا امتیاز کھو دیتے ہیں ۔ہم پانی میں موجود کنول کے حسن کی گواہی تک نظر انداز کردیتے ہیں ”
(شجر حیات)
ریاظ احمد صاحب ایک مصور ہیں۔ انعام یافتہ مصنّف ہیں، ڈرامہ نویس ہیں اور تاحال اپنی ادبی سرگرمیوں میں منفرد نام و مقام رکھتے ہیں۔ انہیں رنگوں کیساتھ الفاظ و خیالات کو بھی بخوبی برتنا آتا ہے۔۔ان کی تحریر سے لگتا ہے کے وہ عام لوگوں کی نسبت فطرت سے زیادہ قربت رکھتے ہیں ۔۔انکا مشاہدہ غیر معمولی ہے۔۔اور انکی انتہائی ملنسار اور منکسرالمزاج شخصیت نے ہمیشہ مجھے متاثر کیا ہے ۔۔
انکی اس کتاب میں کسی بڑی شخصیت نے کوئی تعریفی کلمات نہیں لکھے ہیں ۔۔مگر پڑھنے والے قاری کا آغاز ہی جب خوبصورت جملوں سے ہوتا ہے تو کتاب خود ہی اپنے آپ کو منوانے میں ایک سند بن جاتی ہے ۔۔
“شعور کے بادبان ہواوں کو گھوڑے بنا کر آگے بڑھتے رہیں گے۔۔
اسباقِ محبت کے گم گشتہ باب دریافت ہوتے رہیں گے۔۔
اور وہ ممکن کو ناممکن سے بے پرواہ امکان کی انگلی پکڑے ہمیشہ مسکرانے پر اصرار کرتی رہے گی۔۔”
(شجر حیات )
روما رضوی













