ہم جنگل کے جوگی ہم کو ایک جگہ آرام کہاں
آج یہاں کل اور نگر میں صبح کہاںاور شام کہاں
ہم سے بھی پیت کی بات کرو کچھ، ہم سے بھی لوگو پیار کرو
تم تو پشیمان ہو بھی سکو گے ہم کو یہاں پہ دوام کہاں
سانجھ سمے کچھ تارے نکلے پل بھر چمکے ڈوب گئے
انبر ابنر ڈھونڈ رہا ہے اب انہیں ماہ تمام کہاں
دل پہ جو بیتے سہ لیتے ہیں اپنی زباں میںکہ لیتے ہیں
انشاء جی ہم لوگ کہاں اور میر کا رنگ کلام کہاں
ابن انشا













