شاہین آباد نقوی سے عالمی اخبار کیلئےخواتین میں روایتی سوز خوانی پر روما رضوی کی گفتگو

6
2541

اس بات سے تو تقریبا” سب ہی آگاہ ہیں کہ برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کی آمد کے ساتھ ہی تعلیم و تعلّم کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ اور جن گھروانوں میں علوم و فنون میں مردوں کی دلچسپی تھی انہی کی خواتین ان علوم میں برابر دلچسپی لیتی تھیں۔
علم و حکمت کا یہ سنہری دور 9 سو سال پر مشتمل ہے۔ اس دور میں بڑی بڑی ادیبائیں، مصنفائیں اور شاعرائیں گزری ہیں۔ یہاں تک کہ امراء و روساء کے خاندانوں کی بیویاں اور بیٹیاں بھی پڑھنے لکھنے اور فنون سیکھنے کا اعلیٰ ذوق رکھتی تھیں۔ جن گھروں میں باقاعدگی سے مردانے میں محافل یا نشستیں ہوتیں تھیں وہیں خواتین اپنے حلقے میں ان علوم پر تبادلہ خیال یا فن کا مظاہرہ کرتی تھیں ۔۔بعض خواتین اپنی دلچسپی اور مشق کی بنا پر کچھ معاملات میں مردوں سے بڑھ کر مہارت حاصل کرلیتی تھیں ۔۔
مجالس و محافل ذکر آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی معاملہ کچھ مختلف نہیں رہا۔۔
خواتین کی مجالس کا آغاز ہندوستان میں ہوا مختلف شہروں یعنی آگرہ، امروہا ، حیدر آباد دکن اور دیگر علاقوں کی خواتین کی طرح آج بھی اردو بولنے والے گھرانوں میں انہی علاقوں کی پرانی طرزوں پر ہی سوزخوانی کی جارہی ہے۔۔ جن میں بظاہر زیادہ تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے۔۔کجن بیگم کا نام سوز خوانی میں اولین حثیت رکھتا۔۔ اسی طرح ایک زمانے میں صابرہ کاظمی کا نام سامنے آیا ۔ ۔۔
سوز خوان گھرانوں کی خواتین راگ اور سرگم سے واقفیت رکھنے کی بنا پر سب میں سبقت لے گئیں ۔۔
آج عالمی اخبار کی مہمان جناب آباد نقوی کی صاحبزادی محترمہ شاہین آباد نقوی ہیں

آباد نقوی صاحب پاکستان کے نامور سوز خوانوں میں سے ایک ہیں۔۔ جو انجمن سوز خوانان کے سرپرست اعلی رہے ہیں۔۔ یہ انجمن علامہ رشید ترابی صاحب کی ذاتی دلچسپی کے باعث اس وقت کے مشہور سوز خوان حضرات کی معیت میں قائم ہوئی جن میں آغا مقصود مرزا ، اختر وصی علی خان صاحب ، استاد معشوق علی اور جناب آفتاب کاظمی وغیرہ شامل تھے۔۔
یہ انجمن سوز خوانی کی مجالس بھی برپا کرتی رہی ۔۔ جناب آباد نقوی کا تعلق امروہا سے تھا ۔مگر انہوں نے دیگر دبستانوں کے انداز کو بھی اپنایا ۔۔
انہیں موسیقی سے دلچسپی ضرور تھی مگر انہوں نے سوز خوانی کے لئے راگ کو غنائیت سے پاک رکھا
ان کا کہنا تھا کہ
“عزاداری میں ہر رسم کی ادائیگی کے لیئے یکساں احترام شرط ہے ”
اپنے تعارف میں شاہین آباد نقوی نے بتایا

ہم لوگ پانچ بہنیں اور دو بھائی سب ہی  ماشاءاللہ سے سوز خوانی کرتے ہیں ۔۔
اب  میری بیٹی بھی ساتھ ہوتی ہے نوشین کامران کے نام سے کراچی میں خاصی پہچانی جاتی ہیں ۔۔
بھانجیاں بھی الگ الگ سب ہی سوز خوانی کر رہی ہیں. تو مطلب میری پانچوں بہنیں میں ناہید اور شاہین میں خود ہوں. نگین سیدہ, ماہ لقہ اور میری بیٹی نوشین کامران سبھی  اکیلے بھی پڑھتے ہیں اور  ایک دوسرے کا بازو بن کے بھی ساتھ پڑھتے ہیں ۔۔
ہم سب کے ہی اپنے اپنے بستے ہیں ۔۔ بعض اوقات ایک ہی وقت میں ہم تین بہنیں صاحب بیاض بن کے  الگ الگ گروپس کی صورت میں بھی مجالس پڑھ سکتے ہیں ۔۔
چھوٹی بہن میری ماشاءاللہ صاحب بیاض ہیں مہ لقا بانو اور میری بیٹی  نوشین بھی صاحب بیاض ہے. یہ اپنی دیورانیوں کے ساتھ بھی پڑھتی ہے. اور میرے ساتھ بھی پڑھتی ہیں. اور میری باقی بہنیں میرے ساتھ ہوتی ہیں ۔۔

میری پوتی ماشاءاللہ جو ابھی صرف نو سال کی ہیں علیہا نقوی انکا ابھی  نائنٹی ٹو ملٹی میڈیا والوں  کی  رباب کاظمی نے باقاعدہ پروگرام ریکارڈ کیا .
جس میں انہوں نے نوحے منقبت سب ہی پڑھے ہیں  اکیس منٹ کا پروگرام
دوسری پوتی بھی میری ماشاءاللہ سے  سات سال کی ہیں مگر جیسے بڑے کہتے تھے کہ پوت کے پاؤں پالنے میں نظر آتے ہیں تو ماشاءاللہ ہی اچھا سر میں پڑھتی ہیں ۔۔
ماشاءاللہ میرے تینوں بیٹے سوز خوانی کرتے ہیں محمد  جنید رضا،  محمد نوید رضا۔  محمد جمشید رضا.
ہوسٹن میں میرے بڑے بھائی سید آباد اصغر نقوی
اور  میرے چھوٹے بھائی سید  محمد ضامن نقوی بھی بہت عمدہ سوز خوانی کرتے ہیں.

شاہین آباد نقوی صاحبہ سوز خوانی کے جداگانہ انداز کے باعث مجالس کے حلقوں میں ملک بھر میں پہچانی جاتی ہیں ۔۔

سوال 1
شاہین باجی آپکا تعلق ایک سوز خوان گھرانے سے ہے ۔ماشا اللہ آپکو سوز خوانی کرتے ہوئے پچاس سے زائد برس گزر چکے ہیں آپ اپنا استاد کس کو سمجھتی ہیں عموما” ذہن میں ایسا ہی آتا ہے کہ یہ فن آپ نے اپنی والدہ سے پڑھنا سیکھا ؟
جواب –

 ہماری والدہ نے اس طرح کبھی سوز نہیں پڑھا وہ ایک گھریلو خاتون تھیں ۔ ہاں گھر کی مجالس کی حد تک پڑھا کرتی تھی. مگر میرے والد آباد نقوی صاحب جو زائر تخلص کیا کرتے تھے انجمن سوز خوانان کے سرپرست اعلی تھے. ہمارے گھر شہر بھر کے سوز خوانوں کی آمدورفت رہتی تھی. ہر اتوار جیسے پہلے چھٹی ہوا کرتی تھی. تو اکثر ہفتے کی رات یا اتوار کو سوز خوانی کی نشستیں ہوا کرتی تھی. جن میں استاد معشوق علی خان, جناب اختر وصی علی, آفتاب کاظمی, آغا مقصود مرزا وغیرہ سب ہی آیا کرتے تھے. (اختر وصی علی صاحب کجن بیگم کے شوہر تھے.) یہ سب حضرات اپنی اپنی کمپوزیشن/ بندشوں کے سوز سنایا کرتے تھے. بابا صاحب شاعر بھی تھے. تو اکثر وہ اپنے ہی لکھے ہوئے اشعار اپنی ہی بندش میں تیار کیے ہوئے سوز پڑھتے تھے. ان سب کو دیکھ کر ہماری امی کو بھی بہت شوق ہوتا تھا کہ وہ ہم بہن بھائیوں کو بھی سکھائیں. مگر بابا صاحب کو اپنے دوستوں اور محفلوں سے ہی وقت نہیں ملتا تھا. ہماری اماں بہت خوشامد کرتی تھیں. حتی کہ اپنے ہاتھ سے بھر بھر کے حقے دیا کرتی تھیں ۔۔ مگر وہ تیار نہیں ہوتے تھے ۔۔
اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ بابا صاحب کا تبادلہ چٹاگام ہو گیا. یعنی ایسٹ پاکستان میں شہرچٹا گام میں ان کا تبادلہ ہوا. تب ہی وہ ہمیں وہاں میسر آگئے. اور یہ سمجھو کہ پھر انہوں نے ہمیں وقت دیا صحیح معنوں میں ہماری تربیت کی ۔۔ پہلا سوز میں نے اس وقت سیکھا کہ جب مجھے اردو حروف کی پہچان بھی نہیں تھی. شاید نو سال کی عمر رہی ہوگی۔۔

یہ وہ دور تھا کہ جب مارٹن روڈ کی امام بارگاہ شیعوں کا مرکز ہوا کرتی تھی. وہاں بہت شیعہ لوگ رہا کرتے تھے. اسی امام بارگاہ میں آغا مقصود مرزا کی بیٹیاں مجلس پڑھتی تھیں. برجیس دلہن پڑھتی تھی. اور فہمیدہ عباس جیسی مشہور سوز خوان خواتین پڑھا کرتی تھی. ہماری امی ان کو سنتی تھیں تب انکی بڑی دلی خواہش تھی کہ ان کی طرح ہماری بیٹیاں بھی مجلسوں میں پڑھیں. پھر جیسے کہ آپ سے تذکرہ کیا کہ جب چٹاگام ایسٹ پاکستان میں بابا صاحب کا تبادلہ ہوا. تو بھئی وہ تو ہمارے ہاتھ آگئے. تو جیسے کہ میں بتایا چٹاگام میں ہمیں بابا صاحب کیساتھ خوب وقت ملا ۔۔ وہاں ہی ہم نے خوب سیکھا وہیں سوز خوانی کا آغاز یوں سب سے پہلے سوز پڑھنے کا آغاز ایسٹ پاکستان میں میرے خیال سے ہم نے ہی کیا۔۔

سوال 2 –
_ مجالس کا یہ طریقہ کار کب سے رائج ہوا جس میں سوز خوانی(پیش خوانی) مرثیہ خوانی کو طرز سے پڑھا جانے لگا ۔۔؟

جواب – ایک زمانہ تھا کہ میراثی یا گانے والے ہی سوز و نوحہ پیش کیا کرتے تھے۔۔
نوابین نے اسی طبقے سے اس فن کو مخصوص کر رکھا تھا. مگر پھر ہمارے ہاں تعلیم یافتہ اور اچھے گھرانوں نے اس فن کو اسی لیے اپنایا کہ ایسے ہی پڑھیں کہ اگر لوگوں کے کان ایسی ہی آوازوں سے محظوظ ہوتے ہیں تو اس فن کو اپنے انداز سے سیکھیں اور پھر اس کو محفلوں میں پڑھیں. اگر پردرد آواز ہے تو بابا صاحب کہتے تھے کہ بس ایک تار برابر کا فرق ہے کہ ایک طرف سوز ہے تو دوسری طرف ساز ہے.
لیکن اس راگ کو سوز خوانی میں سوز و غم کی پاکیزگی سے دھویا جاتا ہے. جب وہ اس قابل ہوتا ہے کہ اس میں فضائل اور مصائب آل محمد کا بیان کیا جائے. تو راگوں میں جیسے میں کہہ رہی تھی ۔۔ کچھ ایسے پردرد راگ بھی ہیں کہ اگر کوئی گنگناۓ تو سننے والا رو پڑے. تو ایسے ہی راگ کو اگر اچھے الفاظ مل جائیں. پڑھنے والا کلام کا اچھا انتخاب کر لے تو پھر کیا ہی کہنے. دوسری بات جو اہم ہے وہ ہے الفاظ کی ادائیگی بالکل درست الفاظ ادا کیے جائیں. تو جب دنیا کی زبانیں ہم سیکھ سکتے ہیں تو پھر اردو اپنی زبان کے سیکھنے میں کیا تعامل ہے۔۔

خصوصا” ہمارا کنبہ تو ایسا ہے کہ والد صاحب نے زندگی بھر اس فن کے لیے مخصوص کر دی وقف کر دی اور تاکید بھی ہمیں خاص طور سے یہی کی کہ کبھی گلے کی کمائی مت کھانا. راگ جاننے والے کو اگر کمائی کا چسکا لگ جائے تو سمجھو کہ وہ واقعی گانے بھی گانے لگتا ہے. ظاہر ہے آواز اچھی ہے سر تال سے واقفیت ہے. جبکہ ہمارے گھرانوں میں پڑھنے والے سوز خوانی کرنے پر کبھی کوئی تحفہ تک قبول نہیں کیا کرتے تھے۔۔. والدہ کی تاکید تھی کہ اس بات سے آزاد رہا جائے. جبکہ اب لوگ اجرت بھی لیتے ہیں خیر ان لوگوں کے لئے ہرگز معیوب بھی نہیں کہ جن کے آمدنی کے اور ذرائع نہ ہوں ۔۔ جن لوگوں کو ضرورت ہے وہ لے سکتے ہیں پابندی نہیں کہ نہ لیا جائے. لیکن کراچی میں ایسے بھی بہت بڑے بڑے ذاکرین ہیں ذاکر خواتین ہیں جیسے شائستہ زیدی صاحبہ ہیں. اور بھی اس طرح کی کئی خواتین ہیں جن کے میں نام نہیں لے رہی تو وہ پڑھنے کی کوئی  اجرت کوئی فیس نہیں لیتی. وہ خالصتا” محبت آل محمد میں پڑھتی ہیں.۔

سوال 3-

کیا آپکے خیال میں پیش خوانی کرنے والوں کے لئے سر و راگ سے واقفیت ہونی لازمی ہے؟

جواب –
راگ جیسے میں نے کہا کہ بہت ہی دل لگانے والی چیز ہے. اور پڑھنے والے کے لیے یہ جاننا کہ کہاں تک ٹیپ / عنترہ جائے گا وہ کہاں تک اپنے سوز کو سنبھال سکیں گے ۔ تو یہ والی صلاحیت جاننا بہت ضروری ہے. آپ چونکہ خود سوز خوان خاندان سے تعلق رکھتی ہیں تو اس بات کو بہتر سمجھ سکتی ہیں. ورنہ عام لوگوں کو یہ بتایا جائے تو وہ غلط سمت میں نکل سکتے ہیں کہ بھئی یہ کیا کہ موسیقی کو سرگم کو اہمیت دے رہی ہیں۔۔
میرے والد مرحوم یہی کہا کرتے تھے کہ بغیر راگ کے آپ کا لہجہ بھی نہیں بنتا. گفتگو بھی دراصل ایک راگ میں ہی ہوتی ہے. ایک ٹون میں ایک لے میں ہوتی ہے. اگر آپ کا لہجہ بدلتا ہے تو باقاعدہ جیسے منہ میں کرکراہٹ آنے لگے کچھ ایسا ہو جاتا ہے. اسی طرح سے طرز اگر بگڑ جائے یا ایک دم پڑھتے پڑھتے۔۔۔ پڑھنے والا اپنا لہجہ بدل لے تو سامعین پہ گراں گزرتا ہے. بابا صاحب کہتے تھے کہ یہ جو راگ ہیں جیسے ایمن ہے راگ بھوپالی ہے دیس ہے. بھرویں ہے. تو بعض راگ شام کے ہیں اور بعض راگ صبح کے ہیں. جو سنیں تو آپ کا ذہن بھی روشن ہو جاتا ہے. یعنی جگانے والی کیفیت ان راگوں میں پائی جاتی ہے. بابا صاحب تو یہاں تک کہتے تھے آذان تک میں راگ بھیرویں شامل ہے. ج تلاوت سر کے۔ غیر ناممکن ہے لحن داود علیہ السلام کا بار بار تذکرہ ہوتا ہے۔
پہلے ایسے ہی پر تاثیر لحن ہوتے تھے ۔۔
زمانے سے سنتے آئے ہیں نا کہ پہلے پڑھنے والوں میں ایسے پڑھنے والے بھی تھے کہ اگر وہ پڑھتے تو شیشہ ٹوٹ جاتا. تو ہم جو بات کرتے ہیں ۔۔ سرگم کی ردھم کی تو بنا لہجے کے آواز نکالنا ممکن نہیں ۔۔
سوال 4 –
کیا آپکی طرح گھر کے دیگر بچوں میں یہ شوق موجود ہے ؟

جواب- ہمارے بابا صاحب شوقین آدمی تھے انہوں نے مختلف جگہوں کی کتابیں جمع کر رکھی تھیں جن میں مختلف شعرا کے بہت اچھے کلام پڑھا کرتے تھے وہ خود بھی بہت عمدہ شعر کہتے تھے اور زائر تخلص کرتے تھے.

میرے شوہر کے چچا حیات امروہی امروہے کے بہت مشہور شاعر تھے ان کی کئی بہت  مشہور غزلیں بھی ہیں
“زندگی کا ساز بھی کیا ساز ہے
بج رہا ہے اور بے آواز ہے۔۔
اور یہ جگر مراد آبادی کا دور تھا جب حیات امروہوی ان کے ہم عصر تھے

ایسے ماحول میں میرے شوہر نے پرورش پائی اور وہ بھی شعر کہنے لگے۔میرے شوہر عنبر نقوی تخلص کرتے تھے.
انکے ماشاءاللہ دیوان بھی ہیں جن میں  رزق سخن غزلیات پر مشتمل ہے۔۔
جو انہوں نے 2002 میں شائع کیا تھا. پھر اس کے بعد ان کا مرثیوں کا  مجموعہ ذکر نور کے نام سے شایع ہوا ہے.
میرے شوہر جو  بنیادی شاعر تھے ماشاءاللہ  اور انکی غزلیات اور کافی غیر مطبوعہ کلام ابھی  میرے پاس رکھا ہوا ہے. 2017 میں انکے انتقال کے باعث جو چھپنے سے رہ گیا ۔۔
ان کہے سلام اور  کئی منقبتیں بھی کتابیں شکل میں جلد میں چھپاوں گی ۔

تو گھر میں ہمیشہ سے ایسا ماحول دیکھا تھا کہ لگتا ہے کہ زندگی ہی اس میں گزر گئی. اب تو میرے اپنے بچے یعنی بیٹی نوشین کامران ایک اپنے گروپ کے ساتھ پڑھتی ہیں. اور میرا بیٹا جنید رضا پڑھتا ہے ۔ بھائی ہیں ہوسٹن میں وہ وہاں اپنے شہر میں پڑھتے ہیں. اب میری پوتی علیہا فاطمہ نقوی بہت پیارا پڑھتی ہیں ان کو میں ہی سکھاتی ہوں ۔۔ یوں سمجھ لو کہ ہمارا پورا خاندان ہی اس فن میں یعنی سوز خوانی میں ضم ہو چکا ہے.۔

سوال 5-
آپ کن اساتذہ کے بستوں کا کلام پڑھتی ہیں؟

آپ نے پوچھا کہ ہم کن بستوں سے پڑھتے ہیں اور کس کی طرزیں منتخب کرتے ہیں تو ہم نے جیسے پہلے بھی بتایا کہ ہمارا خاندان امروہا سادات سے ہے امروہا میں محلے داری بہت زیادہ ہے. یعنی کوئی محلہ بگلہ ہے کوئی محلہ قاضی زادہ ہے ہر ایک کے بستے الگ الگ ہیں. اور اب مزے کی بات یہ ہے کہ کوئی کسی کے بستے کا کلام نہیں پڑھتا.. اچھا میرے پاس جو بستہ آیا وہ دو محلوں سے ماخوذ ہے. ایک میری دادی کے ننھیال سے ہے. اور دوسرا دادا کا محلہ قاضی زادہ سے متعلق ہے
. تو ہم لوگوں کو ان دونوں بستوں سے انتخاب کر کے کلام پڑھنے کا موقع ملا. ساتھ ساتھ کمپوزیشن اور بھی ہوتی چلی گئی ہیں اس کے بعد جیسے آج کل کے دور میں نئی نئے سوز بھی لکھے گئے اور نئی کمپوزیشن بھی ہوئی. چند مرثیہ ہمارے مخصوص ہیں جو دادا کے زمانے کے ہیں. اب تک بہت پسند کیے جاتے ہیں
ان میں جیسے ایک یہ
“فرزند پیغمبر کا مدینے سے سفر ہے”
یا ایک اور مرثیہ ہے
“یا رب کوئی بچپن میں نہ آوارہ وطن ہو”
تو کلام کا انتخاب چنندہ کلام جو بابا صاحب کے اپنے ہی پسند کے ہیں. وہ انیس اور دبیر کا کلام بہت شوق سے پڑھتے تھے یا نسیم امرووی اور شمیم امروہی جیسے شعراء کے کلام میں سے بھی دو سو تین سو بند کے مرثیوں میں سے وہ بند چھانٹ کر مرثیہ مرتب کرتے تھے. جس کا مضمون بھی واضح ہو اور تسلسل برقرار رہے. یعنی بہت محنت طلب کام ہے لیکن وہ بہت دلچسپی سے کیا کرتے تھے۔
. نسیم امرووی صاحب بھی بابا صاحب کے ماموں لگتے تھے تو وہ ڈھاکہ میں ہمارے گھر بہت آتے جاتے تھے تب انہوں نے باقاعدہ دس دس بارہ بارہ بند کے ٹکڑے مرثیے کےدس کے لکھ کر دیئے کہ انہیں سوز خوانی میں پڑھنا. انکی کتاب چشم غم کے نام سے مشہور ہے اب ان کے صاحبزادے قسیم امروہی بھی شعر کہتے ہیں.۔

سوال 6- ان سوز اور مرثیوں پر اتنی محنت کی جاتی ہے آپکا دل نہیں چاہتا کہ انہیں محفوظ کیا جائے؟
اور انہیں شوق رکھنے والوں کو سکھایا جائے ؟

جواب –
ہاں دل تو چاہتا ہے کہ یہ نایاب مرثیے محفوظ کرنے چاہیے تاکہ نسل ان سے سیکھ سکے۔ ظاہر ہے کہ یہ الیکٹرانک میڈیا ہے مجھے اندازہ نہیں کس طرح کرنے ہیں. کچھ مداحوں نے یوٹیوب پہ ڈالے بھی ہیں. خود میرا بھی جی چاہتا ہے کہ اب جیسے جیسے عمر بڑھ رہی ہے تو خواہش ہوتی ہے کہ میرے پڑھے ہوئے مرثیوں کو محفوظ کیا جائے. میری طرف سے تو سب کو میں نے اجازت بھی دے رکھی ہے کہ جو چاہے ہمارے تیار کئے ہوئے سوز پڑھے اگر سیکھنا پوچھنا ہو تو ہم سے پوچھے.۔۔
ہم نے سامعین پہ کوئی پابندی نہیں لگائی. بہت سے پوچھنے والے ایسے بھی ہیں جو ذاتی طور پہ شوق رکھتے ہیں اور بعض بچیاں تو بہت عمدہ سیکھ کر کاپی کرتی ہیں کہ دل خوش ہو جاتا ہے. ہم نے بھی جب جب پڑھا تو اچھے سامع ملے۔۔ میں بڑا بول نہیں بولوں گی مگر یہ سچ ہے کہ اکثر کجن بیگم کی بیٹی مہناز تک مجھے باب العلم امام بارگاہ میں سننے آیا کرتی تھیں. اور ملاقات کر کے بتا کر جاتی تھی کہ میں آپ کا پڑھنا بہت پسند کرتی ہوں اور صرف آپ کو سننے آتی ہوں. کجن بیگم اختر وصی علی خان صاحب کی بیوی تھیں جو ہمارے بابا صاحب کے دور میں نشستوں میں آیا کرتے تھے. ایک آفتاب کاظمی ہیں جن کے بیٹے نے ایک سوز خوانی کی ویب سائٹ بنائی ہے. ان کے والد صاحب بھی بابا صاحب کے پاس نشستوں میں آیا کرتے تھے.۔

سوال 7 –
نیا سننے والا سوز سلام و مرثیے میں کیسے فرق کرسکتا ہے ۔جبکہ تینوں میں کلام کا انداز ایک ہی طرح کا محسوس ہوتا ہے؟

جواب – نہیں یہ ایک جیسے بالکل نہیں سوز سلام اور مرثیہ تینوں میں بہت فرق ہے.
کیونکہ سوز میں سر اور راگ کا عمل دخل بہت زیادہ ہے. اس لیے اسے واقعی بہت توجہ سے سیکھنا پڑتا ہے ۔ سر کو عمدگی سے سنبھالنا پڑتا ہے. اس میں اتار چڑھاؤ ہیں جو ریاضت کے بعد ہی گلے میں بیٹھتے ہیں.
جبکہ سلام کی مخصوص طرزیں ہیں ۔۔اکثر نئے سلام کے اشعار پر بھی لگا کر پڑھی جا سکتی ہیں. اکثر میں نے خود بھی مناجات لکھیں اکثر میاں کے کہے ہوئے کلام کو ایسے ہی پڑھا اپنے بابا صاحب کے کلام کو بھی انہی مخصوص طرزوں سے پڑھا ہے. ۔

اور مرثیے کے مخصوص طرزیں بحر کے حساب سے تیار کی گئی ہیں ۔۔ عرصہ دراز سے وہی پڑھی جاتی ہیں. امروہے کے محلے در محلے طرزیں الگ الگ ہوا کرتی تھیں. لکھنؤ اور امروہا. ہندوستان کے دو ایسے بڑے شہر ہیں جو علوم و فنون کا گڑھ یعنی مرکز سمجھے جاتے تھے. سوز خوانی نوحہ اور مرثیہ بھی یہاں سے ہی پروان چڑھے ہیں ۔
بعض مرثیوں کی طرزوں میں ایسا درد ہوتا ہے کہ ان میں ہم تبدیلی نہیں کرسکتے۔۔ تیرہ چودہ طرزیں تو میں خود بھی پڑھتی ہوں. تاریخ وار مرثیوں کی مخصوص طرزیں ہیں جو ان کے وقت آنے سے پہلے کہیں نہیں پڑھتی . وہ اپنی مخصوص تاریخوں میں خاص طرزوں پر ہی پڑھے جاتے ہیں.
اسی وجہ سے بابا صاحب نے ہمیں کبھی نوحہ پڑھنے نہیں دیا کہ کہیں آواز کی نرمی نہ ختم ہو جائے. اور آواز میں سوز وگداز نہ رہے۔۔
سوز مخصوص فن ہے ۔۔اور اب بھی بہت سے اچھے پڑھنے والے موجود ہیں.

سوال 8 –
کیا اس فن کو ہر سننے والا سمجھ سکتا ہے یا اب بھی ۔مخصوص لوگ دلچسپی سے سنتے ہیں ؟

جواب _ شہر کراچی میں واقعی اب تک بہت اچھے پڑھنے والے ہیں اور اب تک روایتی انداز سے ہی سوز خوانی کیا کرتے ہیں. بہت سے بچے بھی ہیں ایسے جو شوق رکھتے ہیں اور سیکھ رہے ہیں. میں نے بھی شوہر کے تبادلے کی بنا پر کئی دفعہ اسلام آباد میں پشاور میں اور کوئٹہ وغیرہ میں پڑھا. وہاں لوگوں نے اس طرز کی سوز کو کبھی نہیں سنا تھا. پہلے بھی لوگ پڑھا کرتے تھے مگر حقیقت یہی ہے کہ سوز کی کیفیت بالکل جدا ہے. سوز کی طرز مخصوص ہوتی ہیں جن میں رباعی میں فضائل اور مصائب درات انداز سے تبلیغ کی جاتی ہے.
مجالس کے لیے ہمیشہ ایسا کلام منتخب کرنا چاہیے جو لوگوں کو منتشر کرنے کے بجائے آپس میں اتفاق اور اکھٹا کرنے کی صورت حال کو پیدا کریں. اہل تشیع کے علاوہ بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو سوز خوانی کو بہت عقیدت اور دلچسپی سے سنتے ہیں.ایک بار خان آف قلات کے ہاں جب میں میلاد پڑھنے گئی تھی تو وہاں جب تک پڑھتی رہی تو لوگ سن کر روتے رہے۔۔میرے ساتھ جانے والی قمر استانی جو لاہور کی ذاکرہ ہیں میرے ساتھ تھیں تو وہ یہ کہتی ہیں کہ اگر کوئی پوچھے تو میرا دل یہی چاہتا ہے کہ یہ جواب دوں کہ
یہ سوز و درد غم حسین کا عطیہ ہے. جو ہم میں موجود ہے.۔

سوال 9 _
نئے پڑھنے والوں کے لئے کیا خاص پیغام دیں گی ؟

جواب- اپنے بچوں کے لیے سننے اور پڑھنے والوں سب کے لیے ایک یہی پیغام ہے کہ جب آپ پڑھنا شروع کریں تو یاد رکھیں کہ
یہ ذکر کس ہستی کا ہے جو آپ کر رہے ہیں. اس میں دل کا شامل ہونا بہت ضروری ہے. جو الفاظ ادا کر رہے ہیں ان مخں آپکا احساس شاملہونا بہت ضروری ہے.
یہاں تاثیر بناوٹ میں نہیں کلا کاری دکھانے میں نہیں ہے. یہ سب تو وقت اور ریاضت کے ساتھ ساتھ پیدا ہو ہی جاتی ہے.
مگر سب کچھ اس وقت ضرور پیدا ہوجائے گا کہ جب آپ لکھے ہوئے کلام کو عقیدت اور دل سے ادا کریں گے.۔”

شاہین آباد نقوی صاحبہ بہت پرخلوص ذاکر اور شفیق استاد ہیں ۔ انہوں نے اپنے والد کی روایت کی دل و جان سے آبیاری کی ہے ۔ان کے اس ورثے کو اپنے خاندان کے بچوں میں منتقل کیا ہے ۔۔ سچ ہے کہ یہ برکتیں بھی نسلوں میں جاری رہتی ہیں ۔آباد نقوی صاحب کا نام سوز خوانی کے حوالے سے ہمیشہ زندہ رہے گا ۔۔

عالمی اخبار اس گفتگو کے لیئے شکرگزار ہے

روما رضوی

SHARE

6 COMMENTS

  1. روما جی سوز سلام اور مرثیہ خوانی کے حوالے سے عصر حاضر کی منفرد سوزخواں سے ایک بلند علمی فنی اورادبی مکالمہ قارئین کے لۓ نعمت سے کم نہیں۔آپ کی محبت اھل بیت علیہم السلام جابجا آشکار و جلوہ فگن ھے۔ سلامت رہیں۔۔۔اور یہ نیک کام جاری رکھیں مولا علی کی امان ھو آمین

  2. تہہ دل سے ممنون ہوں باقر بھائی آپ ان مضامین کو باقاعدگی سے پڑھ رہے ہیں ۔۔ یہ لوگ قوم کا سرمایہ ہیں فرش عزا کے حوالے سے انکی خدمات ہیں ان کا تذکرہ ہم کیا کریں گے یہ بڑی بارگاہوں میں بھی مقبول ہیں

  3. اِس تحریر سے بہت کچھ سمجھ آیا اور معلومات حاصل ہویٔں۔ ٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔبہت مُفید ۔

  4. شکریہ سیماب
    اس سلسلے کی تمام تحریریں وقت نکال کر ضرور پڑھئے گا ۔۔
    مجالس اور ذاکری چاہے وہ سوز خوانی ہو خطابت ہو یا تحت اللفظ مرثیہ خوانی یا شاعری کی صورت عقیدت کا اظہار ۔۔
    یہ بابرکت روایت کس طرح ہم تک پہنچی ہیں اور کس قدر وقت اور قربانی اس سلسلے میں دی گئی انشا اللہ جان سکیں گی۔

  5. شاہین آباد نقوی صاحبہ کا یہ انٹرویو بہت معلوماتی ہے اور نوآموز خواتین سوزخوانوں کے لیے رہنما بھی، تاہم ریکارڈ کی درستی کے لیے یہ بتانا ضروری ہے کہ نامور سوزخواں، جناب اختر وصی علی صاحب نہ تو خود اپنے نام کے ساتھ خاں صاحب لگاتے تھے اور نہ ہی انھیں خاں صاحب کے نام سے جانا جاتا تھا۔ وہ صرف اختر وصی علی کہلاتے تھے۔ جبکہ خاں صاحب، جناب معشوق علی خاں کو کہا جاتا تھا۔ جناب معشوق علی خاں صاحب ایک موسیقار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور اعلیٰ پائے کے سوزخوان بھی تھے۔

LEAVE A REPLY