گھر بڑے ہیں کوئی رہتا نہیں ہے، دلشاد نسیم

0
782

زندگی میں کوئی عیسی نہیں ہے
مرے رونے کو اب کاندھا نہیں ہے

سارے تعویذ بہا دوں اس میں
دل سمندر سے تو گہرا نہیں ہے ؟

ڈوب جاتے ھیں مرے خواب کئی
گرچہ آنکھوں میں اب دریا نہیں ھے

کون رہتا ہے کہاں یاد رہے
ایسا ہوتا نہیں ہوتا نہیں ہے

حسن کا تذکرہ ھے شعروں میں
گرچہ اب حسن یوسف سا نہیں ہے

دل نہ دھڑکے نہ دھڑکنا چاہے
اب تو اس کا مجھے دھڑکا نہیں ہے

عشق بڑھتا ہے جدائی میں سدا
دل مگر میرا یہ سمجھا نہیں ہے

شام کا سایہ جو پیڑوں پر تھا
ابھی کمرے تلک آیا نہیں ہے

کوئ بھی بات بھلی لگتی نہیں۔
اس لئیے میرا دل لگتا نہیں ھے

گھر تھے چھوٹے جہاں رہتے سب تھے
گھر بڑے ہیں کوئی رہتا نہیں ہے
دلشاد نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY