زندگی میں کوئی عیسی نہیں ہے
مرے رونے کو اب کاندھا نہیں ہے
سارے تعویذ بہا دوں اس میں
دل سمندر سے تو گہرا نہیں ہے ؟
ڈوب جاتے ھیں مرے خواب کئی
گرچہ آنکھوں میں اب دریا نہیں ھے
کون رہتا ہے کہاں یاد رہے
ایسا ہوتا نہیں ہوتا نہیں ہے
حسن کا تذکرہ ھے شعروں میں
گرچہ اب حسن یوسف سا نہیں ہے
دل نہ دھڑکے نہ دھڑکنا چاہے
اب تو اس کا مجھے دھڑکا نہیں ہے
عشق بڑھتا ہے جدائی میں سدا
دل مگر میرا یہ سمجھا نہیں ہے
شام کا سایہ جو پیڑوں پر تھا
ابھی کمرے تلک آیا نہیں ہے
کوئ بھی بات بھلی لگتی نہیں۔
اس لئیے میرا دل لگتا نہیں ھے
گھر تھے چھوٹے جہاں رہتے سب تھے
گھر بڑے ہیں کوئی رہتا نہیں ہے
دلشاد نسیم













