ہہ عنایت مرے حسین کی ہے۔
دل میں الفت مرے حسین کی ہے
ہے تھکانہ یزید کا دوزخ
کیوں کہ جنت مرے حسین کی ہے
جس نے بھی منقبت کہی ان کی
اس پہ شفت مرے حسین کی ہے
اک حوالہ ہے جو عزیمت کا
ہاں وہ سیرت مرے حسین کی ہے
وہ نواسے ہیں شاہ بطحا کے
کیا نجابت مرے حسین کی ہے
جس کی کوئی مثال ملتی نہیں
وہ شہادت مرے حسین کی ہے
کربلا کیوں نہ ہو عزیز مجھے
اس میں تربت مرے حسین کی ہے
جس پہ شاہد ہے آیہ تطھیر
وہ طھارت مرے حسین کی ہے
سب شہیدان راہ الفت میں
خاص عظمت مرے حسین کی ہے
باغ جنت میں ساتھ شبر کے
ہاں حکومت مرے حسین کی ہے
دین و دینا میں اے بلال حزیں
مجھ پہ شفقت مرے حسین کی ہے
بلال رشید












