معروف اُردو صحافی، بچوں کے مشہور جریدے
’گل بٗوٹے‘
کے مدیر فاروق سیّد کا انتقال
ممبئی:(ندیم صدیقی) اُردو کے معروف صحافی بچوں کے مشہور جریدے ’گل بٗوٹے‘ کے مدیر(58 سالہ) فاروق سیّد گزشتہ منگل(19 مئی ) کو ممبئی کے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں انتقال کرگئے۔
فاروق سید5 ستمبر1968 کوسولا پور(مہاراشٹر) میں پیدا ہوئے تھے ، انہوں نے سولا پور ہی کے’دی پروگریسیو اُردو ہائی اسکول‘ سے 1984 میں ایس ایس سی کے امتحان میں کامیابی حاصل کی اور پھر ایم اے پانگل اینگلو اُردو جونئیر کالج سے بارہویں جماعت تک پڑھا، ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ مہاراشٹر کالج(ممبئی) سے انہوں نے گریجویشن بھی کیا تھا۔
فاروق سیّد نے ممبئی کے مشہور’ مکتبہ جامعہ‘میں بک سیلر کے طور پر اپنی عملی زندگی شروع کی ، جیسا کہ سب کو پتہ ہے کہ ممبئی کا’ مکتبہ جامعہ‘ ابتدا ہی سے شعرا وادبا اور اُردو صحافیوں کا ایک مرکز رہا ہے، سو مکتبہ جامعہ ہی میں ممتاز افسانہ نگار اور صحافی ساجد رشید سے اُن کی ملاقات ہوئی اور پھر فاروق سید روزنامہ اُردو ٹائمز سے منسلک ہو گئے اوراسی روزنامے سے اُن پر صحافتی زندگی کے سنہرے دَر کھلنا شروع ہوئے، فاروق سیّد کا شمار اُن لوگوں میں ہوگا جو نچلی سطح سے چھلانگ لگا کر کسی بلندی پر نہیں پہنچے بلکہ بتدریج انہوں نےجدوجہد کی اورآہستہ آہستہ ترقی کی منازل طے کیں وہ اپنے دَور میں بچوں کے ایک جریدے’ گُل بوٹے‘ کے بانی مدیر بن گئے اس طرح فاروق سیّد ایک منتظم اور سماجی درد رکھنے والے معزز تشخص تک پہنچے، کسی زمانے میں روزنامہ اُردو ٹائمز(ممبئی) کے بچوں کا صفحہ اُس دَور کے ممتاز شخص ایم اے حجازی مرتب کیا کرتے تھے اور پھر اسی روزنامے کا صفحۂ اطفال’ گُل بوٹے‘ فاروق سید نے ایڈیٹ کیا، سچ تو یہ ہے کہ بچوں کا یہ صفحہ اُن کی پہچان بنانے میں بنیاد بن گیا، وہ جب اُردو ٹائمز سے الگ ہوئے تو انہوں نے’گل بوٹے‘ ہی کے نام سے اپنا جریدہ جاری کیا اورپورے انہماک اور پوری توجہ انہوں نے اس جریدے پر مرکوز کی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ممبئی ہی میں نہیں بلکہ مہاراشٹر سے نکل کر ملک بھر میں’ گُل بوٹے‘ مشہور ہی نہیں مقبول بھی ہوگیا۔
جیسا کہ اوپر کی سطروں میں لکھا گیا ہے کہ فاروق سید منتظم کے طور پر بھی اپنا ایک تشخص رکھتے تھے، انہوں نے سولا پورمیں سہ روزہ’اُردو میلے‘ کا 1999 ع میں اہتمام کیا،جس میں علی سردار جعفری اور کالیداس گپتا رضا جیسے اپنے وقت میں اُردو کے اکابر نے خصوصی طور پر شرکت کی تھی، سولاپور کے مشہور شاعر میر افضل نے فاروق سیّد کو یاد کرتے ہوئے یہ بھی بتایاکہ ہمارے شہر کے اُردو والے اس سہ روزہ اُردو میلے میں اُردو کی جو سرگرمیاں ہوئیں، انھیں فراموش نہیں کر سکتے اور ہمارے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ فرزند ِ سولا پور فاروق سید کی مساعی اس میلے کی اساس بنیں، نہایت معمولی سطح سے فاروق سید نے اپنی زندگی کا سفر شروع کیا اور اپنے اخلاق و کردار، لگا تار کوششو ں سے ایک بَلندی تک پہنچے، فاروق سید کو ڈرامے سے بھی شغف تھا اور سولا پورکے معروف ڈرامٹسٹ اقبال سید کو اسٹیج پر متعارف کرانے میں مرحوم کی کوششیں بھی یاد رکھی جائیں گی۔
فاروق سید کے تعلق سے یہ کہنا صداقت پر مبنی ہے کہ انہوں نے اُردو ہی سے اپنا تشخص بنایا تو اُردو ہی کےلیے وہ تاحیات سرگرم ہی نہیں رہے بلکہ ادب ِ اطفال جیسے شعبے میں اپنی تمامتر صلاحیتیں لگا دیں ، جس کا روشن نتیجہ ان کا
جریدہ’ گل بوٹے ‘بن گیا۔ وہ گزشتہ رمضان میں عمرے کےلیےحجازگئے تھے اور مکہ مکرمہ ہی میں ان کی طبیعت خراب ہوئی، ممبئی لوٹنے کے بعد طبی معائنے پر یہ کھلا کہ انھیں برین ہیمریج ہوا ہے، ممبئی میں اُن کے مضروب دماغ کا علاج بھی کیا گیا اور دِل کی جراحی بھی ہوئی مگر پیچیدگی تھی کہ بڑھتی چلی گئی، پیر کی شام کو ان کے محبی اور مشہور شاعرقاسم امام نے بتایا کہ فاروق کی حالت غیر ہوتی جا رہی ہے اور انھیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا ہے کسی بھی حساس اور باخبر آدمی کےلیے یہ اطلاع ایک خدشے کا سبب بن جاتی ہے اور وہی ہوا کہ منگل(19 مئی) کو جب مغرب کی اذان ہو رہی ہوگی یا ہو چکی تھی تواُدھر فاروق سیّد کی زندگی کے گُل بوٹے مرجھانے کی خبرآن کی آن ممبئی سے لے کر دوحہ قطر تک عام ہوگئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
کچھ لوگ لمبی عمر جیتے ہیں اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ عمر تو اُن کی طویل نہیں ہوتی مگر انھیں عمر کے نام پر جو مہلت ملتی ہے، وہ اپنی جستجو اور
جہد ِ مسلسل سے اسے زندگی بنا دیتے ہیں، فاروق سیّد انہی اشخاص میں شمار کیے جانے کے قابل ہیں۔
فاروق سید کے بارے میں مشہورمحقق اور شاعر و ادیب کالیداس گپتا رضاؔ کا یہ جملہ کسی سَنَد سے کم نہیں:
’’
مَیں نے بابائے اُردو مولوی عبد الحق کو تو نہیں دیکھا
لیکن اُردو کے ایک فرزند( فاروق سیّد) کو دیکھ رہا ہوں۔
‘‘
فاروق سید کا کسی سے لڑنا، ناممکن تھا مگر قضا و قدر کی بھی کیسی کیسی صورتیں ہوتی ہیں، گزشتہ دنوں جب ممبئی میونسپل کارپوریشن کا الیکشن ہوا تو فاروق کے دل میں نجانے کیا سمائی کہ وہ الیکشن کے اکھاڑے میں کود پڑے، جو شخص کسی سے تیز آواز میں بات تک نہ کرنا نہ جانتا ہو وہ دورِ حاضر کی سیاست کے اکھاڑے میں کیسے ٹِک سکتا تھا، لہٰذا فاروق الیکشن ہار گئے مگر اپنے اخلاق اور حسنِ کردار سے انہوں نے جو محاذ جیتے ہیں وہ اظہر من الشمس ہیں۔ فاروق سید جیسے لوگ ہر زمانے میں اپنی قسمت آزمانے ممبئی جیسے شہر میں آتے رہے ہیں، فاروق دیر سے آئے، ان سے پہلے آنے والےلوگ انھیں دیکھ رہے تھے کہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ اپنے پیش رؤوں سے آگے نکل گئے، اللہ جس کا اقبال بلند کر دے مگر وہ سب کو تو مقبول نہیں کرتا، اس کی عطا و کرم کے پیمانوں کے اصول وہی جانتا ہے۔
بدھ 20 مئی کوبعد نمازِ ظہر ممبئی کے ناریل واڑی قبرستان میں فاروق سیّد کے جسدِ خاکی کو جب سپردِ لحد کیا جارہا تھا تو اُردو کے تمام حلقوں کے نمائندہ افراد و اشخاص کی کثیر تعداد موجود تھی، جن میں سے بعض مالیگاؤں سے تو بعض سولا پور سے بھی’صاحبِ گُل بوٹے‘ کو مِٹّی دینے کےلیے آئے تھے اور سب کی زبان اُن کے حق میں مغفرت کی دُعا کر رہی تھی۔ فاروق سیدکے پسماندگان میں بیوہ کے ساتھ ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔














ندیم صدیقی صاحب
بحت بہت شکریہ۔ اللّٰہ والد صاحب کی مغفرت فرمائے اور جنت میں درجات بلند کرے۔