صبح دم آج
مری نیند بھری آنکھ
گئی شب کے حسیں خواب کی
ہلکی سی جھلک لے
لے کے اٹھی!
دور وادی میں کہیں
ناچتے گاتے بچے
ُپھول چہروں پہ سجی
کھیلتی ہنستی آنکھیں
کھلکھلاتی ہوئی شاموں میں
جوانی کی مہک
رقص کرتی ہوئی
راتوں میں حنا کے صد رنگ
لہلہاتے ہوئے کھیتوں میں
نئی فصل کی بھینی خوشبو!
زندگی رنگِ شفق
رنگ ِ صدا
رنگِ بہار!
کانپتے ہاتھ مرے
ایک دعا کو اٹھے
اے خدا!
آج مرے خواب کی
تعبیر ملے یا نہ ملے
معجزے ہوں کہ نہ ہوں
پھر بشارت نئی صبحوں کی
ملے یا نہ ملے!
اے خدا!
آج کوئی اچھی خبر
شہرِآشوب سے
اس شہرِبتاں تک پہنچے













