اسلام آباد,655 سرکاری افسران نے دہری شہریت کا اعتراف کرلیا،665 افسران کی بیگمات کی دہری شہریت،شہریت چھپانے پر 65افسران نے معافی مانگ لی، عدالت عظمی میںʼʼ گریڈ 17 سے اوپرکے افسران اور اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی دوہری شہریت ʼʼسے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے واضح کیاہے کہ دہری شہریت سے متعلق تحقیقات کامقصد کسی کو تکلیف دینایاخوفزدہ کرنانہیں، بلکہ صرف اورصرف اس حوالے سے ڈیٹا اکٹھاکرناہے ،دوہری شہریت کے حامل افراد کے حوالے سے ابھی تک کوئی قانون بھی موجود نہیں، اس حوالے سے معلومات کی فراہمی کے حوالے سے بہت کم لوگوں نے سپریم کورٹ پر اعتماد کیا ہے،دنیا نے ایمانداری کو اپناکرہی ترقی کی ہے، متعدد قومیں ہمارے دین کے اصولوں اورضوابط کو اپنا کر آگے نکل گئی ہیں، ہم اس کام کو جلد مکمل کریں گے، کچھ ججز بھی دہری شہریت رکھتے ہیں ان کو نہیں نکالاگیاہے ،چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے جمعرات کے روز از خود نوٹس کیس کی سماعت کی تو کمرہ عدالت

میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی ،ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 152سرکاری افسران کی دہری شہریت چھپانے کا انکشاف ہوا ہے665 افسران کی بیگمات بھی دہری شہریت کی حامل ہیں،18مارچ تک دومراحل میں موصول ڈیٹاکاجائزہ لیاگیا،پہلے مرحلے میں ایک لاکھ 82ہزار 90افسران کاڈیٹا اکٹھا ہوادوسرے مرحلے میں36ہزار افسران کا ڈیٹا اکھٹاکیا گیا،ان میں سے ایک لاکھ 50ہزار 933افسران کےڈیٹاکاجائزہ لیا گیا ،655افسران نے خود دہری شہریت کا اعتراف کیاہے ،کمرہ عدالت میں رش کے پیش نظر چیف جسٹس نے شام چار بجے کیس کی سپریم کورٹ کے آڈیٹوریم میں سماعت کرنے کا حکم جاری کیا ،جب دوبارہ سماعت ہوئی تو شہریت چھپانے والے65 افسران نے معافی کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے کے توسط سے دوبارہ ڈیٹا طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی۔

SHARE

LEAVE A REPLY