دوہزار پانچ کے زلزلے کے وقت لکھی گئی ایک نظم
جب کوئی آہ پہاڑوں کو ھلا دیتی ھے
حال کو وحشت ماضی میں چھپا دیتی ھے
خاک اور خون میں ھر خواب ملا دیتی ھے
اور چمکتے ھوے سورج کو بجھا دیتی ھے
ان گنت زندہ جوانوں کی مٹا کر ھستی
زندگی قصہ پارینہ بنا دیتی ھے۔
چوڑیاں توڑ کے نس نس میں چبا دیتی ھے
نو جوانی کو بڑھاپے میں کھپا دیتی ھے
ماوں کی کوکھ سے بچوں کو جھپٹ لیتی ھے
طفل معصوم کو معذور بنا دیتی۔ ھے
سائباں چھین کے خیموں میں بٹھا دیتی ھے
چادریں خاک کی ان سب کو اوڑھا دیتی ھے
راکھ ھر مانگ میں چپکے سے سجا دیتی ھے
سر سے دستار فضیلت کو گرا دیتی ھے
لو محبت کے چراغوں کی بجھا کر ایک دم
ھر جگہ لاشوں کے انبار لگا دیتی ھے
وصل کو دائمی فرقت میں بدل کر شاھین
چشم سے سرمئہ خواہش کو مٹا دیتی ھے
شاھین اشرف علی













