جب کوئی آہ پہاڑوں کو ھلا دیتی ھے۔شاہین اشرف علی

0
257

دوہزار پانچ کے زلزلے کے وقت لکھی گئی ایک نظم

جب کوئی آہ پہاڑوں کو ھلا دیتی ھے
حال کو وحشت ماضی میں چھپا دیتی ھے

خاک اور خون میں ھر خواب ملا دیتی ھے
اور چمکتے ھوے سورج کو بجھا دیتی ھے

ان گنت زندہ جوانوں کی مٹا کر ھستی
زندگی قصہ پارینہ بنا دیتی ھے۔

چوڑیاں توڑ کے نس نس میں چبا دیتی ھے
نو جوانی کو بڑھاپے میں کھپا دیتی ھے

ماوں کی کوکھ سے بچوں کو جھپٹ لیتی ھے
طفل معصوم کو معذور بنا دیتی۔ ھے

سائباں چھین کے خیموں میں بٹھا دیتی ھے
چادریں خاک کی ان سب کو اوڑھا دیتی ھے

راکھ ھر مانگ میں چپکے سے سجا دیتی ھے
سر سے دستار فضیلت کو گرا دیتی ھے

لو محبت کے چراغوں کی بجھا کر ایک دم
ھر جگہ لاشوں کے انبار لگا دیتی ھے

وصل کو دائمی فرقت میں بدل کر شاھین
چشم سے سرمئہ خواہش کو مٹا دیتی ھے
شاھین اشرف علی

SHARE

LEAVE A REPLY