اُستاد قمر جلالوی اُردو شاعری کا قمر
تمہارے چاند سے رُخ کی قسم میں ہی ہوں قمر
جگر کا داغ دکھا دوں جو اعتبار نہ ہو
شاعری معراجِ بشریت ہے ۔نشرِ فضائل و مصائب اہلیبت علیہم السلام درحقیقت مکارم اخلاق کا بیان اور اقدارِ انسانیت کا اعلان ہے جو خیر و صلاح ،رُشدو ہدایت کی طرف لے جاتا ہے ۔انسانیت کی سب سے بڑی خدمت ہے ۔شعور کی آنکھ شاعری میں کھلی ہے اس لئے ہم دیکھتے ہیں جب عہدِ قدیم میں فلسفہ و دانش کے فعلِ ابجد غیر مفتوح تھے تو شاعری کے قُفل کُھلے ہوئے تھے اور انسانی احساسات و جذبات شعر کی زبان اختیار کر رہے تھے ۔ہم جب ماضی بعید طرف نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں ایسا معلوم ہوتا ہے پہاڑوں کے سلسلے ،صحراؤں کی حدود فراموش وسعتیں ،غاروں کی پُر اسرار تنہائیوں میں انسانوں کی رفاقت اور دوستی کا حق اِن اشعار نے ادا کیا جو جذبات اور طوفانِ تخیل میں سفینہ کی طرح اُبھرے اور موجوں کی طرح پھیل گئے ۔شاعری تو ایک آئینہ ہے جس میں انسانی افکار اور احساسات کی تصویر نظر آتی ہے ۔اُستاد قمر جلالوی صاحب شاعری کی معراج پہ نظر آتے ہیں ۔استاد کی شاعری میں بلا کی شددت اور پکار ہے ۔استا د کو یہ خزانہ کربلا کے درد ہی سے ملا ہے ۔کربلائی شاعری وہ شاعری ہے جو کربلا سے متاثر ہو کر کی جائے۔ کربلا کے واقعہ کے بعد سے ہی ہر زبان میں یہ منفرد شاعری رواج پاتی گئی۔ اس کے تاریخی
حوالے کر بلا کے زمانہ وقوع سے جا ملتے ہیں۔

کربلا محض ایک حدیثِ غم ہی نہیں بلکہ اسرارِ حیات و کائنات کی معرفت سے بھر پور ایک بے مثال اخلاقی و تربیتی مخزن بھی ہے۔ یوں تو اردو ادب کی تمام تخلیقی اصناف کربلا کے ادراک سے لبریز نظر آتی ہیں لیکن استاد قمر جلالوی شاعری کی تاریخ اس موضوع کے بغیر اپنی شناخت ہی مکمل نہیں کر پاتی۔ استاد کربلاسے متاثر ہی نہیں ہوئے بلکہ اُستاد کی شاعری میں ادراک کے انمول خزانے کربلا ہی کی زمین سے چُنے گئے ہیں ۔
اُردو ادب میں کربلا شناسی کا فلسفہ ایک منفرد نظریاتی تحریک کی صورت اختیار کر گیا ہے ۔اُستاد قمر جلالوی بھی اِسی کے اَسیر ہیں ۔

شاعری دراصل لطیف قلبی کیفیات سچےجزبات اور حسین احساسات کا اظہار ہے ایک شاعر جہاں اپنی اندرونی حقیقت اور اپنے باطنی اضطراب کا ترجمان ہوتا ہے وہاں وہ معاشروں اور رویوں کی عکاسی بھی اپنے کلام کے زریعے کرتا ہے گویا ایک سچے اور پختہ شاعر کا ہاتھ معاشرے کی نبض پر ہوتا ہے اور وہ حقیقت میں انسانوں کا ایک فکری طبیب کہلاتا ہے ۔ ایک شاعر معاشرے کی تعمیر و ترقی میں کلیدی کردار کا حامل ہوتا ہے شاعر کا سخن اسکی فکری سچائی کے باعث دلنواز اور روح پرور ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس کا کلام دلوں میں اترتا اور ذہنوں پہ چھا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر زمانے کی اعلی اور دانشمند شخصیات نےاپنی فکر کوعوام الناس میں منتقل کرنے کے لئے شاعری کا مقبول عام زریعہ ہی اختیار کیا ۔ انہی شخصیات میں ایک نابغہ روزگار شخصیت اُستاد قمر جلالوی بھی تھے ۔جو ،تھے نہیں ،بلکہ ،ہیں ۔اور رہیں گے ۔ اُستاد قمر جلالوی ایک بے باک بابصیرت اور دانشور شاعر تھے انہوں نے جہاں مختلف موضوعات اور زندگی کی مختلف پہلووں پر شعر کہے وہاں انکی شاعری کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ انکی شاعری نبی پاک اور انکی آل اطہارؑسے عقیدت و محبت اور ولا و مودت کے جزبوں سے سرشار ہےاُستاد قمر جلالوی نے اہل بیتؑ کے لیے جو جو کلام لکھا اس سے ان کو ایک نئی پہنچان ملی۔
اردو کی نامور غزل گو، مرثیہ گو اور منقبت نگار شاعر جناب قمر جلالوی 19 اگست 1884 میں قصبہ جلالی ضلع علی گڑھ میں پیدا ہوئے۔

آپ کے آباء و اجداد کا سلسلہ مشہور ایرانی شخصیت ’’سید نجیب علی ہمدانی‘‘ سے ملتا ہے۔جن کے نام پر آج بھی نجیب علی کا نگلا نامی گاؤں آباد ہے۔آباء و اجداد کا پیشہ مدتوں سپہ گری رہا۔ جو خدمات کے صلہ میں بعد کو زمین داری میں تبدیل ہو گیا۔ خود استاد کے پاس بھی خاصی زمین تھی لیکن فیاضانہ مزاج و دریا دلی نے انہیں گردش روزگار سے آگاہ کیا۔
جلالی کا ماحول گھر گھر علم و ادب کا چرچا تھا۔ شعر و ادب کی محفلیں اکثر گرم رہا کرتی تھیں۔ استاد کے والد گرامی سید غلام سجاد حسین خود بھی صاحب ذوق تھے۔ اور شعر بھی کہتے تھے لیکن مشاعروں میں بحیثیت شاعر کبھی شرکت نہ کرتے تھے۔ اسی ماحول میں استاد نے آنکھ کھولی۔

شاعری کی ابتداء: استاد کو شاعری وراثت میں ملی تھی۔ اس پر ماحول نے گویا جلا کر دی نتیجہ میں ابھی ان کی عمر آٹھ سال کی ہی تھی کہ اشعار موزوں کرنے لگے۔ آواز میں غضب کا درد رفتہ رفتہ مشق سخن کے ساتھ ساتھ ان کی شہرت قصبہ جلالی کی حدود میں سے نکل گئی۔ اسی زمانے میں استاد کا ایک قطعہ بہت مشہور ہوا تھا۔ فرماتے ہیں؛

جیسا کہ مجھ کو عشق ہے اس گل بدن کے ساتھ
بلبل کو بھی نہ ہو گا وہ شاید چمن کے ساتھ
جان اب کے بچ گئی تو قمر عہد بھی ہے یہ

آپ کے علاقے میں اسکول و کالج نہ ہونے کی وجہ سے عربی، فارسی اور اردو کی ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی۔ آپ نے آٹھ سال کی عمر ہی میں موزوں اشعار کہنا شروع کر دئیے تھے۔ آواز میں غضب کا درد تھا۔ رفتہ رفتہ مشق سخن کے ساتھ ساتھ ان کی شہرت قصبہ جلالی کی حدود سے نکل کر علی گڑھ اور گرد و نواح میں پھیل گئی۔ صرف بائیس سال کی عمر میں آپ کو استاد کا درجہ حاصل ہو گیا تھا۔ جلالی اور علی گڑھ کے اکثر نوجوان اور جوان شعرأ انہیں اپنا کلام دکھانے لگے تھے لیکن وہ خود تشنگی سی محسوس کرتے تھے اور اسی لگن نے انہیں اس وقت کے مشہور استاد اور پختہ کار شاعر امیر مینائی سے وابستہ کر دیا۔ آپ کی شادی ۱۹۲۹ء میں محترمہ کنیزہ سیدہ سے ہوئی جن سے صرف ایک صاحبزادی کنیز فاطمہ ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد آپ ۱۱، ستمبر1947
ء کو پاکستان تشریف لے آئے۔

جانے کسی کی لگن کس کی دھن میں مگن
ہم کو جاتے ہوۓ مڑ کے دیکھا نہیں
ہم نے آواز پر تم کو آواز دی
پھر بھی کہتے ہو ہم نے پکارا نہیں

ازدواجی زندگی: ۱۹۲۹ میں محترمہ کنیز فاطمہ سے شادی ہوئی جن سے کوئی اولاد نرینہ نہیں ہے۔ صرف ایک صاحب زادی ہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ ابھی ان کی عمر ۲۴ سال ہی تھی کہ جلالی اور علی گڑھ کے اکثر نوجوان اور جوان شعراء انہیں اپنا کلام دکھانے لگے تھے۔ لیکن وہ خود شرمندگی محسوس کرتے تھے اور اسی لگن نے انہیں اس وقت کے مشہور استاد اور پختہ کار شاعر حضرت مینائی سے وابستہ کر دیا تھا۔ روایت ہے کہ انہوں نے حضرت امیر مینائی کی شان میں زانوئے ادب تہہ کرتے وقت یہ قطعہ بھی ان کی نذر کیا تھا۔

ازل سے معتقد حضرت امیر ہوں میں
اسی لکیر پہ اب تو قمر فقیر ہوں میں
زر قلیل نہیں ہوں کہ دیکھ لے دنیا
جو دفن رہتی ہے وہ دولت کثیر ہوں میں

شہرت و اعزاز: استاد قمر جلالوی کو بہت جلد برصغیر میں وہ شہرت حاصل ہو گئی جس کے لیے لوگ تمنا کرتے ہیں۔ جب تک ہندوستان میں رہے وہاں بھی اور پاکستان آنے کے بعد یہاں بھی کوئی اہم اور قابلِ ذکر مشاعرہ ایسا نہ ہتھا جس میں وہ شریک نہ ہوئے ہوں۔

مزاج: استاد بہت سا دہ لو اور سادہ طبیعت کے مالک تھے۔ اتنی قدرو منزلت کے باوجود غرور اور تمکنت کا نام نہ تھا۔ محفل میں جہاں جگہ ملتی بیٹھ جاتے۔ وہ بڑے خوش فکر، خوش طبع، اور دل کے غنی تھے۔ کسی کی تکلیف نہ دیکھ سکتے تھے۔ ضرورت مند کو جو کچھ موجود ہوتا دے دیتے تھے۔ بچوں میں بچے اور بڑوں میں بڑے تھے۔ تحریر بہت پختہ تھی کسی کام میں عار نہ تھا۔ معاش کے لیے بہت جتن کیے لیکن گردشِ روزگار نے چین سے نہ بیٹھنے دیا یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں دردِ دل کے ساتھ غم روزگار کی تصویر بھی جگہ جگہ ملتی ہے۔

معروف شاگرد: برصغیر میں یوں تو استاد کے بے شمار شاگرد ہیں بہت سے ایسے بھی ہیں جو اب منکر ہو چکے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو کسی اور کے شاگرد ہونے کے باوجود اصلاح لیتے رہے۔ بہرحال معروف شاگردوں میں جناب شبیر۔ خورشید علی، خورشید، جناب سجاد حسین ہدف، سری کشنپر شاد بہار، سری راج بہادر اوج، سری راج نرائن ساجد، ٹھاکر کرن سنگھ کرن، اور پاکستان میں مسٹر دہلوی، جناب ایاز بجنوری، جناب حافظ بریلوی، ، جناب مخمور بھوپالی، جناب عطاء اللہ بخاری، جناب اعجاز رحمانی، جناب پرنم الہ آبادی، جناب سرور کانپوری ۔

سونی پڑی ہے محفل، محفل میں جا کے بیٹھو
آتے نہیں پتنگے بے شمع انجمن میں
دیدار آخری پر روئے قمر وہ کیا کیا
یاد آئیں گی وفائیں منہ دیکھ کر کفن میں

قیام پاکستان کے بعد استاد قمر جلالوی نے کراچی میں رہائش اختیار کی اور بہت جلد ہر مشاعرے کا جزو لازمی بن گئے۔ وہ اپنے مخصوص ترنم اور سلاست کلام کی وجہ سے ہر مشاعرہ لوٹ لیا کرتے تھے۔ ان کے کلام میں دہلی اور لکھنو دونوں مکاتب شاعری کی چاشنی، شوخی اور لطافت نظر آتی تھی۔ غزلیات کے علاوہ وہ مرثیے، سلام، منقبت اور رباعیات بھی کہتے تھے اور ان میں بھی ان کے کلام کے سبھی خوبیاں موجود ہوتی تھیں۔ ان کے کلام کے مجموعے اوج قمر، رشک قمر، غم جاوداں اور عقیدت جاوداں کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے۔

بس آپ دیکھ جایئے صورت مریض کی
نبضوں کا حال دردِ جگر کچھ نہ پوچھیے
جب چاندنی میں آ کے ہوئے تو وہ میہماں
تاروں بھری وہ رات قمر کچھ نہ پوچھیے

کم عمری میں ہی قمر مشاعروں میں شرکت کرنے لگے ان کی شہرت جلال سے نکل کر علی گڑھ پہنچی اور علی گڑھ سے ملک کے دوسرے حصوں میں۔ وہ جلال سے نکل کر میرٹھ چلے گئے اور ایک سائیکل مرمت کی دکان میں میں کام کرنے لگے۔

خوف دل سے نہ گیا صبح کے ہونے کا قمرؔ
وصل کی رات گزاری ہے شب غم کی طرح

کم عمری میں ہی قمر مشاعروں میں شرکت کرنے لگے ان کی شہرت جلال سے نکل کر علی گڑھ پہنچی اور علی گڑھ سے ملک کے دوسرے حصوں میں۔ وہ جلال سے نکل کر میرٹھ چلے گئے اور ایک سائیکل مرمت کی دکان میں میں کام کرنے لگے۔ 24 سال کی عمر میں ہی انہوں نے بہت سے نوخیز شعرا کو اصلاح دینی شروع کر دی تھی۔ تقسیمِ ملک کے بعد وہ پاکستان چلے گئے لیکن وہاں بھی ان کے معاشی حالات ویسے ہی رہے البتہ جب علامہ رشید ترابی کو پتا چلا کہ قمر جلالوی جیسا باکمال شاعر کراچی کی ایک سائیکل کی دکان پر پنکچر لگاتا ہے تو انہوں نے ان کو بلا کر اپنے پاس رکھا اور پاکستانی حکومت سے ان کا وظیفہ مقرر کروایا۔
شام ہوتے ہی اصلاح لینے والے شاگرد جمع ہوجاتے یا کسی مشاعرے کے منتظمین کی بھیجی گاڑی آجاتی اور سب مشاعرے کو چل دیتے۔ مخصوص ترنم اور سلاستِ زبان کی حامل شاعری سے مشاعرے لوٹ لیتے۔

قمرجلالوی کو زبان پر بلا کی دسترس حاصل تھی۔ اسی لیے ان کے یہاں فکر کی شدت کم ہے اور زبان کا ذائقہ بہت زیادہ۔ ان کے اشعار سہل ہیں جن میں کسی قسم کی پیچیدگی نہیں ہے اور سامع کو سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔ اسی سادگی کی وجہ سے قمر کے کلام کو ایسی زبردست مقبولیت حاصل ہوئی کہ ہندو پاک کا شاید ہی کوئی ا یسا نامور گلوکار اور گلوکارہ ہو جس نے ان کے کلام کو اپنی آواز نہ دی ہو۔

وہ اِس بات سے بھی غافل نہیں رہتے کہ بات زبان اور محاورے کے خلاف نہ ہوقمرجلالوی ایک عہد ساز شاعر ہیں لغت کے دائرے سے نکل کر ایک وسیع دنیا بنائے ہوئے ہیں ۔اُن کے یہاں الفاظ استعارات کے معنی اور اُس کے تخلیقی استعمال سے معتین ہوتے ہیں ۔اُردو میں میر اور غالب کے اشعار اور اپنے خیال کی وسعت اور لا محدود معنویت کی بہترین مثالیں ہیں ۔اِسی طرح قمر کے یہاں لفظ کے تخلیقی استعمال نے شعر میں بیدل کے شکستہ شیشے کی طرح ان گنت رنگ بھر دئے ہیں ۔اور نہ جانے کتنی جہتیں پیدا کر دی ہیں عام الفاظ سے ترتیب پایا ہوا شعر اپنی معنوی تہہ داری کی وجہہ سے لطف کا حامل بن گئے ہیں ۔قمر جلالوی کے کلام کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ مختلف نفسیاتی اور جذباتی کیفیتوں میں ایک نئی چمک کے ساتھ زمانے ،تاریخ اور جغرافیائی حدود سے نکل کر بھی اپنی اہمیت باقی رکھے ہوئے ہے ۔اور یہی خوبی شاعر کو آفاقیت عطا کرتی ہے ۔محشر لکھنوی نے جو سخن بھی رقم کئے اور اُن کے لئے جن الفا ظ کا استعمال کیا اُن کی معنوی وسعت اور تہہ داری سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ۔قمر جلالوی نئی تراکیب و تشبہات گڑھنے کے بجائے بالعموم عام روایتی اور مروجہ تراکیب و تشبہات اور علامتوں کو استعمال کرتے ہیں ۔اِن میں بیشتر وہ تراکیب اور تشبہات ہیں جو استعمال کی یکسانیت کی وجہہ سے اپنا کیف،تاثر اور اہمیت کھو چکی تھیں ۔قمر جلالوی نے اِن تمام الفاظ و تراکیب اور تشبہات کا منظر نامہ ہی بد ل دیا ۔یعنی الفاظ تو وہی رہے لیکن قمر جلالوی کے یہاں وہ ایک نئے معنی اور نئی حیت کی نشان دہی کرتے ہیں ۔

مجھ سے جو چاہیں لحد میں پوچھیں اب مُنکر نکیر
آگئے مولا مرے مشکل کشائی کے لئے
کس کے گھر اُترے ستارہ عرش سے دیکھو قمر
یہ نشاں ہے فاطمہ کی کتخدائی کے لئے
کربلا جانے کو دِل بیتاب رہتا ہے قمر
جس طرح تڑپے کوئی طائر رہائی کے لئے

قمر جلالوی کی غزل ہو یا نوحہ ایک اِیسا لہجہ چھپا ہے جس کی تقلید ہمارے عہد کے شاعروں نے کی ہے ۔واقعہ کربلا میں جو الفاظ قمر نے استعمال کئے وہ امر ہوگئے ہیں ۔غزل میں رچاؤ محبت چاشنی کا استعمال قمر جلالوی نے جو کیا وہ منفرد اور لا زوال ہے ۔جمالیاتی شاعری کے لئے اُنہوں نے زبان کو بھی رومانی پیکر میں ڈھالا ۔قمر جلالوی کا نام اُردو زبان سے واقفیت رکھنے والوں کے لئے اجنبی نہیں ۔

اِس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ قمر جلالوی ایک قادرالکلام شاعر ہیں ۔اُردو شاعری کی مقبول و معروف اصناف میں سے شائدہی کوئی اِیسی صنف اِیسی ہوگی جس میں قمر جلالوی نے طبع آزمائی نہیں کی ہے۔

اے قمر حالِ شبِ فرقت نہ ہم سے چھپ سکا
داغِ دِل سارے زمانے میں نمایاں کر چلے
قمر جلالوی کے یہاں نازک رشتوں اور احساسات کا کھلا ہوا اظہار ملتا ہے ۔جو اِس سے پہلے کسی اور شاعر میں نہیں ملتا ۔اُنہوں نے اپنی شاعر ی میں عشق کا پاکیزہ تصور پیش کیا ہے ۔اور اپنے جذبات کی صداقت کو عشق کی پاکیزگی اور شگفتگی میں تلاش کرتے ہیں ۔وہ جمالیاتی تخیل کے زبردست محرک ہیں ۔
آئے ہیں اصغر کو لیکر بخششِ اُمت کو شاہ
بے زباں کے خون کی شاید ضرورت ہوگئی
خون میں ڈوبے ہوئے اصغر ہیں شہہ کی گود میں
اے قمر کیا چاند سی صورت کی صورت ہوگئی
قمر جلالوی کی عظمت کی پہچان اور مقبولیت کا کرشمہ بھی کر بلا کا درد ہے ۔
ہم نے اک خواب میں اِیسے بھی شرف پائے ہیں
مجھ کو مجلس کے لئے لوگ بلا لائے ہیں
اے قمر مجھ سے یہ فرماتے ہیں چودہ معصوم
ہم تیرا مرثیہ سننے کے لئے آئے ہیں

مرثیہ گوئی کو فن شاعری کا سب سے حساس اور کٹھن عمل قرار دیا گیا ہے۔ باریک بین افراد جانتے ہیں کہ کئی اصنافِ سخن پر فنی گرفت رکھے بغیر ایک فکر انگیز اور جاندار مرثیہ نہیں کہا جا سکتا۔ شعر پر فنی گرفت کے ہمراہ جتنی فصاحتِ کلام، بلاغت ، حسّاسیت اور علمی وفکری مواد پر دسترس کی ایک کامیاب مرثیہ نگارکو ضرورت ہوتی ہے اتنی سعی ٔ نقد کسی اور صنفِ سخن میں مطلوب نہیں ہوتی۔اُستاد قمر جلالوی نے تشبیہات اور استعارات کے نہایت دلکش نقش و نگار بنائے ہیں اور عجب خوشنما رنگ بھرے ہیں ۔اُستاد قمر جلالوی کے ہاں مرثیوں میں قصیدے کی شان و شوکت، غزل کا تغزل ، مثنوی کا تسلسل ، واقعہ اور منظر نگاری اور رباعی کی بلاغت سب کچھ موجود ہے۔

استاد قمر جلالوی کو وہ مقام نہیں ملا جو فیض یا احمد فراز کو ملا۔حالانکہ ان کے کلام میں کہیں بھی کوئی خامی نہیں ۔عروض سے ناواقفیت بھی نہیں۔مہمل اشعار یا تک بندی کا شائبہ تک نہیں۔لیکن ایک پنکچر لگانے والے کو کوئی مقام کیسے دیا جائے۔

اے قمر حالِ شبِ فرقت نہ ہم سے چھپ سکا
داغِ دِل سارے زمانے میں نمایاں کر چلے

اپنی قادر الکلامی کے سبب وہ 30 برس کی عمر میں ہی استاد قمر جلالوی کہے جانے لگے تھے۔ یہاں تک کہ یہ لفظ ان کے نام کا جزو بن گیا۔ انہوں نے بہت سے شعرا کے کلام پر اصلاح دی لیکن اپنے کلام کی اشاعت سے بے نیاز رہے۔ وہ بہت خوددار طبیعت کے مالک تھے اس لیے کبھی انہو ں نے کسی کے سامنے دامنِ طلب دراز نہیں کیا اور شاید یہی وجہ رہی کہ ان کی زندگی میں ان کے مجموعہٴ کلام کی اشاعت تک نہیں ہو سکی۔ بعد میں ان کی صاحبزادی کنیز جلالوی نے جو کلام انہیں مل سکا اسے جمع کر کے شائع کروا دیا۔ جو ’رشک قمر‘، ’اوجِ قمر‘ اور ’تجلیاتِ قمر‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ لیکن یہ مکمل کلام نہیں ہے کیوں کہ استاد قمر جلالوی کی غزلیں ان کے مداحوں اور شاگردوں نے اڑا لی تھیں۔ جو اپنے نام سے مشاعروں میں پڑھتے تھے اور بہت سا کلام دوسرے شعرا کے نام سے شائع بھی ہو گیا۔ استاد قمر جلالوی کو مرثیہ نگاری میں بھی کمال حاصل تھا انہوں نے خاصی تعداد میں نوحے اور مراثی لکھے ہیں۔ جنہیں ”غم جاوداں“ کے عنوان سے شائع کیا گیا ہے۔

وہ بہت خوددار طبیعت کے مالک تھے اس لیے کبھی انہو ں نے کسی کے سامنے دامنِ طلب دراز نہیں کیا اور شاید یہی وجہ رہی کہ ان کی زندگی میں ان کے مجموعہٴ کلام کی اشاعت تک نہیں ہو سکی۔ بعد میں ان کی صاحبزادی کنیز جلالوی نے جو کلام انہیں مل سکا اسے جمع کر کے شائع کروا دیا۔ جو ’رشک قمر‘، ’اوجِ قمر‘ اور ’تجلیاتِ قمر‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ لیکن یہ مکمل کلام نہیں ہے کیوںکہ استاد قمر جلالوی کی غزلیں ان کے مداحوں اور شاگردوں نے اڑا لی تھیں۔ جو اپنے نام سے مشاعروں میں پڑھتے تھے اور بہت سا کلام دوسرے شعرا کے نام سے شائع بھی ہو گیا۔
وہ نہیں تو اے قمر ان کی نشانی ہی سہی
داغِ فرقت کو لگائے پھر رہے ہیں دل سے ہم

قمرجلالوی کو زبان پر بلا کی دسترس حاصل تھی۔ اسی لیے ان کے یہاں فکر کی شدت کم ہے اور زبان کا ذائقہ بہت زیادہ۔ ان کے اشعار سہل ہیں جن میں کسی قسم کی پیچیدگی نہیں ہے اور سامع کو سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔ اسی سادگی کی وجہ سے قمر کے کلام کو ایسی زبردست مقبولیت حاصل ہوئی کہ ہندو پاک کا شاید ہی کوئی ا یسا نامور گلوکار اور گلوکارہ ہو جس نے ان کے کلام کو اپنی آواز نہ دی ہو۔

ایسے ادیب اور شاعر جو زندگی میں اپنا کلام چھپوانے کی استطاعت نہیں رکھتے، مرنے کے بعد خوب چاہے اور سراہے جاتے ہیں اور مختلف ادارے ادبی خدمت کے نام پر ان کی کتابیں چھپوانے کی تگ و دو میں لگ جاتے ہیں، لیکن یہ نیک کام بھی کتابوں کی خرید و فروخت سے ہی جڑا ہوتا ہے، جس سے نہ تو مرنے والے کے خاندان کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے اور نہ ہی یہ مرحوم کے کسی کام آتا ہے۔ استاد قمر جلالوی کی مثال سب کے سامنے ہے، جن کی غربت اور بے چارگی کا یہ عالم تھا کہ دن بھر سائیکلوں کو پنکچر لگا کر زندگی کی گاڑی کو رواں دواں رکھتے تھے اور رات کو
جیسی ناقابل فراموش غزلیں سنا کر ہر دوسرا مشاعرہ لوٹ لیتے تھے۔ دنیا سے رخصت ہونے کے کئی سال بعد امیر مینائی اور داغ دہلوی کی روایت سے جڑے اس فقیر منش شاعر کی چار کتابیں چھپ کر جب بازار میں آئیں تو خرید و فروخت کا وہ بازار گرم ہوا کہ سب دیکھتے رہ گئے، لیکن تب تک استاد قمر جلالوی اپنی غربت کا کفن لپیٹے تمام جھمیلوں سے بہت دور جا چکے تھے۔

کب میرا نشیمن اہل چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں
غنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیں

شکیب جلالی، میرا جی، مجید امجد، عبدالحمید عدم، منٹو اور ساغر صدیقی جیسے کئی اہم ادیبوں اور شاعروں کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا جو استاد قمر جلالوی کے ساتھ ہوا اور تب تک ہوتا رہے گا جب تک حکومتی سطح پر قائم علمی اور ادبی ادارے غریب اور مستند لکھاریوں کی کتابیں ان کی زندگی میں چھپوانے کاانتظام نہیں کرتے۔ ثروت مند لکھاری اگر مہنگی کتابیں چھپوا کر فائیو اسٹار ہوٹلز میں تقریبات منعقد کرواتے ہیں یا اپنی کتابیں مفت تقسیم کرتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے۔
سارا دن سائیکلوں کو پنکچر لگاتے، درمیان میں کوئی شعر ہوجاتا تو کاغذ پر لکھہ کر دیوار پر لگے سائیکل ہی کے تار میں پرو دیتے۔شام ہوتے ہی اصلاح لینے والے شاگرد جمع ہوجاتے یا کسی مشاعرے کے منتظمین کی بھیجی گاڑی آجاتی اور سب مشاعرے کو چل دیتے۔ مخصوص ترنم اور سلاستِ زبان کی حامل شاعری سے مشاعرے لوٹ لیتے۔

استاد قمر جلالوی کے کلام میں بیان کی برجستگی، اسلوب کی سلاست، ایک چبھتی ہوئی بات کہنے کا انداز اور اس کے ساتھ ساتھ ایک مخصوص قسم کی ڈرامائیت پائی جاتی ہے۔ وہ اپنے مخصوص ترنم اور سلاست کی وجہ سے مشاعرہ لوٹ لیا کرتے تھے۔ ان کے کلام میں دہلی اور لکھنو کی چاشنی، شوخی اور لطافت نظر آتی ہے۔ غزل کے علاوہ مرثیہ، سلام، منقبت اور رباعی میں ایک خاص مقام رکھتے تھے۔

دے کر عروج اختر ِ قسمت کو اے قمر
مالک بنادیا مجھے شب کی بہار کا
میرثانی سید محمد حسین مرحوم ، استاد قمر جلالوی کے نام سے اردو کی دنیا میں مشہور تھے اور اپنے کلام کی ندرت اور سلاست اور سادگی اور خیالات کی انتہای سادہ انداز میں ترجمانی کے باعث ادب کی تاریخ میں اعلی مقام حاصل کرچکے ہیں۔ انکے کلام میں دقیق الفاظ کی نمایش ہر گزنہیں تھی وہ بالکل سادہ انداز میں ایسی بات کہتے تھے کہ و ہ سننے والوں کے دل میں اتر جاتی تھی۔استاد چائے بڑے شوق سے پیتے تھے اور اشعار سنانے سے پہلے ‘لونگ‘ منہ میں رکھ لیتے تھے۔شاعری کے اچھے تاریخ گو بھی تھے۔

اب نزع کا عالم ہے مجھ پر، تم اپنی محبت واپس لو
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں
آزادی کے بعد کراچی آئے تو ذریعہ روزگار وہی سائیکلوں کی دکان اور مشاعروں کا اعزازیہ بنا۔ حکومتِ پاکستان کی طرف سے 1959 میں ڈیڑھ سو روپے وظیفہ مقرر ہوا جو تا حیات ملتا رہا۔ البتہ منی بیگم نے ان کے کلام سے لاکھوں کمائے ۔

اغباں کو لہوکی ضرورت پڑی سب سے پہلے یہ گردن ہماری کٹی
پھر بھی کہتے ہیں ہم سے یہ اہلِ چمن یہ چمن ہے ہمارا تمہارا نہیں

قمرجلالوی کلاسیکی اردو غزل کے بہتریں کلاسیکل شاعروں میں شمار کیا جاتا ہے. ان کی غزل شاعری اظہار اور حسیت کے منفرد شاعر ہیں ۔آٹھ سال کی عمر میں اشعار کہنا شروع کئے۔ بیس (٢٠) سال کی عمر میں ان کی شاعری کی دھوم مچ چکی تھی اور وہ ایک مقبول شاعر بن گے۔.۔ 24 سال کی عمر میں ہی انہوں نے بہت سے نوخیز شعرا کو اصلاح دینی شروع کر دی تھی۔ یہیں سے لفظ استاد ان کے نام کا سابقہ بن گیا اور کیا چھوٹے کیا بڑے‘ سبھی انہیں استاد کہنے لگے۔جلالی اور علی گڑھ کے اکثر نوجوان اور شعرا انہیں اپنا کلام دکھانے لگے تھے لیکن وہ خود تشنگی سی محسوس کرتے تھے اور اسی لگن نے انہیں اس وقت کے مشہور استاد اور پختہ کار شاعر امیر مینائی اور سیماب اکبر آبادی سے وابستہ کر دیا۔ قمر جلالوی کا نکاح ۱۹۲۹ء میں محترمہ کنیزہ سیدہ سے ہوا جنکے بطن سے ان کی صرف ایک بیٹی کنیز فاطمہ ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد آپ ۱۱، ستمبر ۱۹۴۷ء کو پاکستان تشریف لے آئے۔بہت جلد ہر مشاعرے کا جزو لازمی بن گئے۔ وہ اپنے مخصوص ترنم اور سلاست کلام کی وجہ سے ہر مشاعرہ لوٹ لیا کرتے تھے۔ ان کے کلام میں دہلی اور لکھنو دونوں مکاتب شاعری کی چاشنی، شوخی اور لطافت نظر آتی تھی۔ غزلیات کے علاوہ وہ مرثیے، سلام، منقبت اور رباعیات بھی کہتے تھے اور ان میں بھی ان کے کلام کے سبھی خوبیاں موجود ہوتی تھیں۔استاد قمرؔ جلالوی اپنے وقت کی عہد آفرین شخصیت رہے… حبِ اہلِ بیت علیہما السلام میں ڈوبی آپ کی اردو شاعری رہتی دنیا تک آ پکا نام زندہ رکھے گی

استاد قمر ؔ کے جانشین فضاؔ جلالوی مرحوم نے اپنی کتاب ’’رشک قمر‘‘ کے دیباچے میں استاد قمرؔ کے مشہور اور شاگردانِ خاص میں پرنمؔ الہ آبادی کا نام بھی تحریر فرمایا ہے۔ پرنمؔ الہ آبادی کہا کرتے تھے کہ یہ میرے لئے بہت بڑا اعزاز ہے۔

استاد قمر جلالوی کے کلام میں بیان کی برجستگی، اسلوب کی سلاست، ایک چبھتی ہوئی بات کہنے کا انداز اور اس کے ساتھ ساتھ ایک مخصوص قسم کی ڈرامائیت پائی جاتی ہے
استاد قمر جلالوی کی متعدد غزلیں مختلف گلوکاروں نے بہت خوبصورت انداز میں گائی ہیں۔ نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی ان کا کلام بہت شوق سے سنا جاتا ہے۔

خطیبِ شامِ غریباں حضرتِ مفتی علامہ نصیر الاجتہادی نے قمر جلالوی کی شاعری پر کیا شاندار تبصرہ کیا کہ
استاد قمر جلالوی کی شاعری “مرگ ِ پسر پر کس طرح صبر ہوتا ہے” اور “محراب ِ خنجر کے نیچے کس طرح شکر ہوتا ہے” کی تفسیر ہے ۔
مرتضی’ کو خانہ زاد ِ رب ِ اکبر دیکھ کر
بیاہ دی بیٹی پیمّبرۖ نے بڑا گھر دیکھ کر
جب بھی اٹھے گا نبی ۖ کی جانشینی کا سوال
فیصلہ ہوگا شب ِ ہجرت کا بستر دیکھ کر
وہ تو یوں کہیے کہ آپہنچے مدینے سے علی
ورنہ لوٹ آۓ بہت سے باب ِ خیبر دیکھ کر
ہوتے ہوں گے ُکنج ِ مرقد میں فرشتوں کے سوال
ہم سے تو کچھ بھی نہ پوچھا شکل ِ حیدر دیکھ کر
زوج ِ زہرا کا پتا معلوم تھا ورنہ قمر
عرش سے آتا ستارہ سینکڑوں گھر دیکھ کر

قمر جلالوی تا حیات مالی مشکلات میں مبتلا رھے اور ایک عرصے تک کراچی میں زولوجیکل گارڈن (سابقہ گاندھی گارڈن) کے قریب سائیکلون کی مرمت اور پنچر زدہ پہیوں کو درست کرکے پیوند لگایا کرتے تھے۔ جب اس صورتحال کا پتہ رشید ترابی صاحب کو ھوا تو انھوں نے قمر جلالوی کا اپنے گھر واقع جمشید روڑ کراچی میں اپنے گھر میں رکھا۔ اور حکومت کی جانب سے ان کے لیے وظیفہ بھی جاری کروایا۔ استاد قمر جلالوی کو مرثیہ نگاری میں بھی کمال حاصل تھا انہوں نے خاصی تعداد میں نوحے اور مراثی لکھے ان کلام کو کئی گلوکاروں نے گایا۔ اور ان کا یہ کلام عوام میں مقبول بھی ھوا جیسے ۔۔۔

۔۔۔کب میرا نشیمن اہلِ چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں ۔۔۔ حبیب ولی محمد، منی بیگم
مریضِ محبت انھی کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے ۔۔۔ منی بیگم
میرا خاموش رہ کر بھی انھیں سب کچھ سنا دینا ۔۔۔ عابدہ پروین
کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو ۔۔۔ نورجہاں
آئے ہیں وہ مزار پہ ۔۔۔ صابری برادران

حفیظ ہوشیار پوری اور راغب مراد آبادی نے ان کی تاریخ وفات ’’استاد قمر جلالوی کا ماتم‘‘ سے نکالی‘ اس مصرعے کے اعداد کا مجموعہ 1388 بنتا ہے جو استاد قمر جلالوی کا ہجری سن وفات ہے۔

استاد قمر جلالوی کے چار (٤) شعری مجموعے ہیں :
١۔ رشک قمر
٢۔ اوج قمر
٣ِ۔ تجلیات قمر
٤۔ غم جاودان
نمونہ کلام اُستاد قمر جلالوی
مجھ کو اُس مٹی سے خالق نے بنایا ہے قمر
رہ گئی تھی جو ازل کے دن جفا کے واسطے

اے قمر بعد میرے یہ بھی کسی سے نہ ہوا
چار پھول آ کے جو تربت پہ چڑھاتا کوئی

محشر پہ رکھے دیتے ہو دیدار کا وعدہ
صورت بھی قمر کی نہ تمھیں یاد رہے گی

مرؔ ذرا بھی نہیں تم کو خوف رسوائی
چلے ہو چاندنی شب میں انہیں منانے کو

آپ تو کیا ہیں فرشتوں کے جگر ہل جائیں گے
جب قمرؔ محشر میں آئے گا دہائی کے لیے

سیر فلک کو بام پہ آئے وہ جو قمر
تاروں نے آسماں کو چراغاں بنا دیا

چاندنی دیکھ کے یاد آتے ہیں کیا کیا وہ مجھے
چاند جب شب کو قمر جلوہ نما ہوتا ہے

۱ُستاد کی زندگی میں اُنکا دیوان منظرِ عام پہ آنہ سکا اور نہ ہی اُستاد نے کسی سے سفارش کی کہ میرا دیوان چھاپ دوبعد مرنے کے کتابیں منظرِ عام پر آئیں ۔جو نوحے لکھے جو سلام اور مرثیے لکھے وہ لاجواب درد میں ڈوبے لکھے جنہوں نے یہ کلام پڑھا اُنہے شہرت کی بلندیاں ملیں ۔

نمونہ کلام اُستاد قمر جلالوی
کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو
نہ جانے کیسے خبر ہو گئی زمانے کو
دعا بہار کی مانگی تو اتنے پھول کھلے
کہیں جگہ نہ رہی میرے آشیانے کو
چمن مین جانا تو صیّاد دیکھ بھال آنا
اکیلا چھوڑ کے آیا ہوں آشیانے کو
چمن میں برق نہیں چھوڑتی کسی صورت
طرح طرح سے بناتا ہوں آشیانے کو
مری لحد پہ پتنگوں کا خون ہوتا ہے
حضور شمع نہ لا یا کریں جلانے کو
سنا ہے غیر کی محفل میں تم نہ جاؤ گے
کہو تو آج سجا لوں غریب خانے کو
دبا کے قبر میں سب چل دئے دعا نہ سلام
ذرا سی دیر میں کیا ہو گیا زمانے کو
اب آگے اس میں تمہار ابھی نام آئے گا
جو حکم ہو تو یہیں چھوڑ دوں فسانے کو
قمر ذرا بھی نہیں تم کو خوف رسوائی
چلے ہو چاندنی شب میں انہیں منانے کو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چاندنی دیکھ کے یاد آتے ہیں کیا کیا وہ مجھے
چاند جب شب کو قمر جلوہ نما ہوتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قمر اک دن سفر میں خود ہلالِ عید بن جاؤں
اگر قبضے میں میرے گردشِ ایام آجائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چاندنی کی سیر ان کے ساتھ یہ حسرتِ فضول
اے قمر نفرت ہے ان کو چاند کی تنویر سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے قمر صبح ہوئی اب تو اٹھو محفل سے
شمع گل ہو گئی رخصت ہوئے پروانے تک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیر فلک کو بام پہ آئے وہ جو قمر
تاروں نے آسماں کو چراغاں بنا دیا
تاروں کی بہاروں میں بھی قمر تم افسردہ سے رہتے ہو
پھولوں کو تو دیکھو کانٹوں میں ہنس ہنس کے گزارا کرتے ہیں

اُستاد قمر جلالوی پیدائیشی شاعر تھے ۔اکتسابی جزو کم تھا بڑا بانکا شعر کہتے تھے ۔شعریت اُن کے کلام میں کوٹ کوٹ کے بھری ہوئی تھی ۔الگ رنگ تھا بہت پرانی شاعری تھی مگر بڑی مزہ دار ،کراچی کے مشاعروں کی جان تھے ۔آدمیت کے اعتبار سے بڑے ملنسار ،خلیق،وضعدار ،ناداری میں خوددار،آسائیش میں حیاء دار نہ کسی کو رنجیدہ کیا نہ کسی سے کبیدہ خاطر ہوئے کس کس نے قمر کے در سے فیض پائی فہرست طویل ہے اور کچھ پردہ نشینوں کے نام بھی ہیں ۔ایک اعجاز رحمانی دوسرے فضا جلالوی لفظ اُستاد قمر کے ساتھ جزو ہوگیا تھا بچہ بوڑھا جوان سب کا استاد قمر جلالوی ہی تھا ۔مرثیہ ایک مشکل صنف ہے استاد قمر جلالوی صاحب اس صنف میں اپنا منفرد مقام رکھتے تھے ۔پرانے رنگ کا مرثیہ کہتے تھے مگر اِس میں نئی بات بھی پیدا کر دیتے تھے ۔صبح کے منظر میں مصرع کہتے ہیں “کرنوں کے جال ڈال دئے آفتاب نے “یا گرمی کا نقشہ کھینچتے کھینچتے یہاں تک آتے ہیں مصرع “تارے تمام رات نہائے فرات میں”یہ جدلیات قمر کے مرثیے میں آپ کو جا بجا ملیں گے ۔

اے قمر شام کا وعدہ ہے وہ آتے ہوں گے
شام کہلاتی ہے تاروں کے نکل آنے تک

اُستاد الشعراء اُستاد قمر جلالوی نے جو قابلِ رشک مقام شاعری میں حاصل کیا وہ ہر سخن سنج وسخن پر واضع ہے محاسنِ شعری پوری تفصیل و تکمیل کے ساتھ اُستادقمر جلالوی کی شاعری پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے ۔سہلِ ممتنع کا تصور جس طرح قمر کی شاعری میں حقیقت بنا ہوا ہے اُس کی مثال دوسری جگہ نظر نہیں آتی ۔اُن کی شاعری میں الفاظ کی سلاست ،فکر کی گہرائی ،حسین بندشیں اور تراکیب ،تسلسل اورارتقاء جذبات کے زیرو بم کے ساتھ الفاظ کا پیچ و خم ،مناظر میں جذب ہوکر جلوہ کشی ،واردات قلبی کی عکاسی کاشرف انسانیت خطِ مستقیم متمکن ہوکر شعریت کو مدرسہ کی عبوست سے بچا کر لطافت و حسن ادا کی وادی گلفروش کی طرف لے جانے کی سعیِ مشکور شاعری میں شعریت ،عقیدت میں حقیقت ،الفاظ کے جمال میں حُسن استدلال ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نطق حکمت کی وادی میں بہہ رہا ہے ۔اور شاعری ساحری پُر اسرار جزیروں پر اپنے لافانی شعریت کی تقدیس کا لباس پہنا رہی ہو ۔
حرس تو دیکھ فلک بھی مجھ پہ کرتا ہے ظلم
کوئی پوچھے تو بھی کیا ان کے برابر ہو گیا
سوختہ دل میں نہ ملتا تیر کا خوں اے قمر
یہ بھی کچھ مہماں کی قسمت سے میسر ہو گیا

نوحے ،حمد ،نعت ،مسدس ،ربائی ،مرثیہ ،سلام عہدِ قدیم سے شاعروں نے اِس پر اپنے نطق و فکر کے دریا بہا دئے ہیں ۔اور حقیقت یہ ہے کہ ہر شاعر نے اِس کا حق ادا کیا ہے لیکن استاد قمر جلالوی صاحب نے اِن منزلوں میں پوری انفرادیت کے ساتھ جلوہ افروز ہوئے ہیں ۔اور اپنے اسلوبِ خاص و طرز کو منفرد مقام دیا ہے ۔

استاد قمرؔ جلالوی اپنے وقت کی عہد آفرین شخصیت رہے… حبِ اہلِ بیت علیہما السلام میں ڈوبی آپ کی اردو شاعری رہتی دنیا تک آ پکا نام زندہ رکھے گی
اﷲاُنکی روحِ مقدس پر شبنم افشانی کرے وہ زندگی میں قمر تھے اور اب چاندنی جو ساری کائنات میں پھیل رہی ہے حقیقت کے ہاتھ میں عقیدت کے پھول ہیں اور نذرِ آلِ رسول ہیں عنداﷲقبول اور عندالناس مقبول ہیں ۔
اُستاد کا حضرت عباس پر کلام
علی کے لال تھے شاہِ انام ہوجاتے
شریک آلِ نبی لا کلام ہوجاتے
وقارِ حضرت عباس کم نہیں تھا قمر
پلاتی دودھ جو زہرا امام ہوجاتے

امام حُسین کی عظمت کی نذر
تنہا پسر کی لاش پہ ہیں شاہِ بحر و بر
سر پر ہے دھوپ پیاس سے لب خشک آنکھ تر
حیرت میں ہیں ملائکہ صبرِ حُسین پر
طاعت گذاراِیسا نہ ہوگا کوئی قمر

سلام
غریب و بیکس و مظلوم و تشنہ کام سلام
علی کے چاند نبی کے مہہ تمام سلام
اثر ہے یہ تیرے اک کربلا کے سجدے کا
نماز ہوگئی قائم میرے امام سلام
قصیدہ پڑھنے جو بیٹھا میں بزم ساقی میں
تو میکشوں میں اُٹھا غل قمر سلام سلام
امامِ حُسین پر مرثیے میں اُستاد قمر جلالوی صاحب کچھ اِسطرح بیان کرتے ہیں ۔
اے امتحان والے مرا امتحان دیکھ
دو دن کے بھوکے پیاسے شہیدوں کی شان دیکھ
تجھ پر نثار ہو گیا کڑیل جوان دیکھ
قربان ہو کے رہ گئی ننھی سی جان دیکھ
یہ بے زباں ہے اور وہ شبیہِ رسول ہے
اب اِن میں کون سا تجھے فدیہ قبول ہے
بندہ ہوں تیرا مجھ کو ہے تیری رضا سے کام
جو کچھ تھا تیرا حکم وہ تعمیل کی تمام
قربانیوں کا سلسلہ ٹوٹا نہ تا بہ شام
جُز صبر و شکر تو نے سنا اور کچھ کلام؟
غلطاں ہے رن میں لاشۂ اکبر زمین پر
مالک مرے، شکن تو نہیں ہے جبین پر

استاد قمر جلالوی جن کے بغیر شہر کی ہر محفلِ مشاعرہ پھیکی سی لگتی تھی۔ پھر ایک دن انہوں نے چپکے سے آنکھیں موند لیں تو اسی سڑک پہ آغا مرتضیٰ پویا کے والد نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی جس میں علامہ رشید ترابی اور بہت سے شعرا نے شرکت کی۔

۔ 4 اکتوبر 1968ء کو 91 سال کی عمر میں کراچی ہوا۔ بعارضہ یرقان ۔ اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے۔
استاد قمرؔ جلالوی اپنے وقت کی عہد آفرین شخصیت رہے… حبِ اہلِ بیت علیہما السلام میں ڈوبی آپ کی اردو شاعری رہتی دنیا تک آ پکا نام زندہ رکھے گی

استاد قمر جلالوی‘ کراچی میں علی باغ کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔ ان کی لوح مزار پر انہی کا یہ شعر کندہ ہے
ابھی باقی ہیں پتوں پر جلے تنکوں کی تحریریں
یہ وہ تاریخ ہے، بجلی گری تھی جب گلستاں پر

تحریر آفتاب احمد

SHARE

LEAVE A REPLY