قسط 67
حضرت جابر ابن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالےٰ عنہ
رحمت العالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے
تو دیکھتے ہیں
کہ
آپ ص نے امام حسن (ع) اور امام حسین (ع) کو
اپنی پشت مبارک پر بٹھایا ہوا ہے
اور آپ اپنے دونوں مبارک ہاتھوں اور دونوں مبارک گھٹنوں پر چل رہے ہیں
یہ دیکھ کر انہوں نے بے اختیار کہا
’’ سواری کتنی اچھی ہے
اس پر
حضور اکرم (ص) نے فرمایا
سوار بھی تو دیکھو کتنے اچھے ہیں
ایک اور مقام پر
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
کہ
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز ادا فرما رہے تھے
کہ
اتنے میں
حسن (ع) و حسین (ع) تشریف لائے
اس وقت آپ سجدے میں تھے
آپ (حسنین) دونوں آپ (ص) کی پشت مبارک پر سوار ہوگئے
لوگوں نے چاہا
کہ
ان کو منع کریں
جب آپ نے سلام پھیرا
تو آپ نے فرمایا
“ یہ میرے بیٹے ہیں
جس نے
ان دونوں کو محبوب رکھا
اس نے مجھے محبوب رکھا ”
اسی حدیث مبارک کے تسلسل میں
تاریخی کتب میں درج ہے
کہ
سجدے میں تاخیر کے سبب صحابہ نے سر اُٹھا کر دیکھا
کہ
کہیں نبی اکرم (ص) کے ساتھ کوئی حادثہ یا مشکل تو پیش نہیں آگئی
بعض صحابہ کہتے ہیں
کہ
ہم نے ارادہ کر لیا
کہ
حسنین (ع) کو نبی (ص) کی پشت سے اتار دیں
لیکن ایسا نہ کرسکے
جب یہ دونوں شہزادے اپنی خواہش سے اترے
تو نبی اکرم (ص) نے سجدہ ختم کیا
نماز کے سجدے اور عبادت کو طول دیا
لیکن
نہ نماز توڑی اور نہ ہی نواسوں کو اتارا
حضرت زید بن زیاد فرماتے ہیں
کہ
ایک روز
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
سیدہ فاطمہ الزہرا سلام اللہ علہیا کے گھر کے دروازے پر تھے
آپ نے امام حسین ع کے رونے کی آواز سنی
تو
آپ نے فرمایا
“ بیٹی اس کو رونے نہ دیا کرو “
کیا تمہیں معلوم نہیں
کہ
اس کے رونے سے مجھے تکلیف اور ایذا ہوتی ہے”
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالےٰ عنہ فرماتے ہیں
کہ
میں نے ایک روز دوپہر کے وقت خواب میں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا
کہ
آپ کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور گرد آلود ہیں
دست مبارک میں خون کی بھری ہوئی شیشی ہے
میں نے عرض کی
میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں
یہ کیا ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
یہ حسین (ع) اور اس کے رفیقوں کا خون ہے
جسے
آج صبح سے اٹھاتا رہا ہوں
ابن عباس فرماتے ہیں
کہ
میں نے اس وقت اور تاریخ کو یاد رکھا
جب خبر آئی تو معلوم ہوا
کہ
حضرت حسین اسی وقت شہید کئے گئے تھے
جو وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بتایا تھا
ام المومنین حضرت سلمیٰ سلام اللہ علہیا فرماتی ہیں
کہ
حضور اکرم (ص) نے اپنی رحلت سے قبل
واقعہ کربلا کے بارے میں واضح بتا دیا تھا
حضرت انس رضی اللہ سے روایت ہے
کہ
”امام حسین (ع)
اپنے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہت زیادہ مشابہت رکھتے تھے
امام حسین کا سراپا اپنے نانا رسول (ص) کے ساتھ مشابہہ تھا
نبی اکرم (ص) کی رحلت کے بعد
نبی (ص) کے ساتھ قلبی اور گہری وابستگی رکھنے والے اصحاب
اس نیت سے
حضرت امام حسین (ع) کی زیارت اور دیدار کرتے
جیسے نبی (ص) کا دیدار ہو جائے
میدان ِکربلا میں
امام حسین (ع)
جب اپنے نانا کا لباس اور دستار اور تلوار زیب تن فرما کر تشریف لائے
تو
لشکر ِ یزید کو لگا تھا
جیسے
کہیں سے خود رسول اکرم (ص) آگئے ہوں
مدینے سے کربلا تک کے سفر میں
جاری ہے













