یہ عید کے دن جب آتے ہیں ، عزیر رشید

0
2007

یہ عید کے دن جب آتے ہیں
سب مل کر خوشی مناتے ہیں
کچھ لوگوں سے ہم ملتے ہیں
کچھ ہم سے ملنے آتے ہیں
لیکن وہ لوگ نہیں آتے
جو رستے میں کھو جاتے ہیں
جو ہم سے جدا ہوجاتے ہیں
جو مٹی میں سو جاتے ہیں
ہم جن کو دفن کر آتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ عید کے دن جب آتے ہیں
وہ چہرے بہت ستاتے ہیں
وہ لوگ بہت یاد آتے ہیں
جو آنکھوں میں بس جاتے ہیں
جو خوشبو سی بن جاتے ہیں
ہم بھول نہیں سکتے اُن کو
جو ہم کو بھول ہی جاتے ہیں
——————————
یہ عید کے دن جب آتے ہیں
اپنوں کی یاد دلاتے ہیں
جانے وہ کون سی دنیا ہے
جس دنیا میں وہ جاتے ہیں
ہم لاکھ اُنہیں آوازیں دیں
نہ ہم کو گلے لگاتے ہیں
نہ لوٹ کے واپس آتے ہیں
نہ چہرہ ہی دکھلاتے ہیں
وہ ہم سے جدا ہوجاتے ہیں
اور مٹی میں سو جاتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ عید کے دن جب آتے ہیں
اس دل پر چھری چلاتے ہیں
ایسی یہ قیامت ڈھاتے ہیں
ہم لاکھ چھپانا چاہیں پر
آنسو آنکھوں میں آتے ہیں
ہم لاکھ بھلانا چاہیں پر
وہ لوگ بہت یاد آتے ہیں
ہم اُن سے جدا ہوکر یارو
دوری کا سوگ مناتے ہیں
ہر عید یونہی دہراتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ عید کے دن جب آتے ہیں
وہ لوگ بہت یاد آتے ہیں
وہ چہرے بہت ستاتے ہیں
جو آنکھوں میں بس جاتے ہیں
جو خوشبو سی بن جاتے ہیں

عزیر رشید

SHARE

LEAVE A REPLY