نصیر ترابی اردو ادب کا گوہرِنایاب,علامہ ڈاکٹر سید عباس نقوی علیگ

0
1055

نصؔیر ترابی عظیم علمی،ادبی،تہذیبی اور مذہبی ورثے کے امین

نصیر ترابی اردو ادب کا گوہرِنایاب

 علامہ ڈاکٹر سید عباس نقوی علیگ ,دہلی۔ بھارت 

نصؔیر ترابی صاحب کے انتقال سے اردو ادب کا بہت بڑا اور ناقابلِ تلافی نقصان ہوا ہے،
نصیر ترابی صاحب بےشک عظیم بین الاقوامی شخصیت علامہ رشؔید ترابی صاحب مرحوم کے فرڑندِارجمند تھے،علامہ رشید ترابی ہردلعزیز اور عظیم مزہبی اسکالر اور بے مثل خطیب تھے اور ان کے خطابات و اردو تقاریر پوری دنیا میں انتہائی ذوق و شوق اور عقیدت و احترام سے سنی جاتی تھیں ، نصیر ترابی صاحب کو اردو زبان و بیان پر مکمل اور بھرپور دسترس و عبور اور اعلیٰ فکر ورثہ کے طور پر اپنے والد مرحوم سے بھی حاصل ہوئیں اور ان کی اپنی ذاتی صلاحیتوں کوششوں اور کاوشوں نے ان کو اردو ادب کا گوہر نایاب بنا دیا۔
گو کہ وہ پیشہ کے اعتبار سے براہ راست اردو کے کسی ادارے سے منسلک نہ تھے، انہوں نے تعلقات عامہ میں ایم اے کیا تھا اور وہ اسی مناسبت سے ایک انشورنس کمپنی میں آفیسر تھے، لیکن اردو کے لیے انہوں نے وہ خدمات انجام دیں کہ جو اردو کی خدمت کے نام پر قائم شدہ اردو کے بڑے بڑے اور مشہور اداروں سے بھاری بھرکم تنخواہیں اور نذرانے وصول‌ کرنے ‌والے بہت سے نام نہاد خادم بھی نہیں کر پائے۔
انہوں نے اپنے انتہائی خوبصورت شعری نذرانہ قارئین کی خدمت میں پیش کیے، جس سے ان کی صلاحیتوں کو لوگوں نے جانا۔۔۔۔۔۔۔۔ 1962ءمیں انہوں نے شعر گوئی مطلب کہ مشقِسخن کا آغاز کیا اور اس کے بعد انہوں نے پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھا، ادب نوازوں نے انہیں خوب سراہا، ان کی خوب پزیرائی ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی شہرت ،مقبولیت اور ہر دلعزیزی مقامی سے صوبائی اور قومی اور بہت قلیل مدت میں بین الاقوامی اور عالمی ہوتے ہوئے دیکھی گئی۔
عکس فریادی ان کی غزلیات کا مجموعہ ہے اور لا ریب ان کے رثائی کلام کا مجموعہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آدمی کی فکر جب بلند ہوتی ہے تو چاہے وہ غزل کا میدان ہو یا نعت کا ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ بلندی اس سک ہر جگہ قائم رہتی ہے۔
ان دونوں مجموعوں میں آپ اس کا مشاہدہ کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔ وہ غزل ہو یا نعت جب آپ پہلا شعر پڑھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ شاعر نے بہت اونچی پرواز کی ہے، اب اس سے بلند پرواز ممکن نہیں، مگر جب آپ دوسرا شعر پڑھتے ہیں تو آپ کو لگتا ہےکہ دراصل یہی وہ شعر ھے جہاں شاعر کے طائر فکر نے اپنی سب سے بلند پرواز بھری ہے، لیکن اگلے شعر پر آپ کا یہی تاثر اس شعر کے لیے ہو جاتا ہے، یہ سب اس لیے کہ ان کی بلند فکری اور الفاظ کے چناٶ اور انتخاب کے ساتھ ان کا اٹر انگیزی کے ساتھ استعمال ان کو سب سے بالکل الگ کر دیتا ہے۔

نصؔیر ترابی کا انتقال بہر حال ایک بہت بڑا اور ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ اس عظیم المرتبت اور یگانہء روزگار شخصیت تخلیقکار کی اچانک اور بے وقت رحلت سے نہ صرف بھارت اور پاکستان بلکہ پوری ادبی دنیا سوگوار نظر آتی ہےلیکن وہ اپنے شاندار کلاموں کے توسط سے ہمیشہ ہمارے درمیان رہیں گے۔

ممتاز اور قادرالکلام شاعر جناب نؔصیر ترابی صاحب کے ایک نادر اور شاہکار سلام کے ساتھ ہی اس تحریر کا اختتام ہوا چاہتا ہے ،

سلام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نؔصیرترابی

یہ ہے مجلسِ شہِ عاشقاں کوئی نقدِ جاں ہو تو لے کے آ
یہاں چشمِ تر کا رواج ہے ، دلِ خونچکاں ہو تولے کے آ

یہ فضا ہے عنبر و عود کی، یہ محل ہے وردِ درود کا
یہ نمازِ عشق کا وقت ہے، کوئی خوش اذاں ہو تو لے کے آ

یہ جو اک عزا کی نشست ہے، یہ عجب دعا کا حصار ہے
کسی نارسا کو تلاش کر، کوئی بے اماں ہو تو لے کے آ

یہ عَلم ہے حق کی سبیل کا، یہ عَلم ہے اہلِ دلیل کا
کہیں اور ایسی قبیل کا، کوئی سائباں ہو تو لے کے آ

یہ حضورو غیب کے سلسلے، یہ متاعِ فکر کے مرحلے
غمِ رائیگاں کی بساط کیا، غمِ جاوداں ہو تو لے کے آ

سرِ لوحِ آب لکھا ہوا، کسی تشنہ مشک کا ماجرا
سرِ فردِ ریگ لکھی ہوئی، کوئی داستاں ہو تولے کے آ

ترے نقشہ ہائے خیال میں، حدِ نینوا کی نظیر کا
کوئی اور خطۂ آب و گِل، تہہِ آسماں ہو تو لے کے آ

کبھی کُنجِ حُر کے قریب جا، کبھی تابہ صحنِ حبیب جا
کبھی سوئے بیتِ شبیب جا، کوئی ارمغاں ہو تو لے کے آ

مرے مدّ وجزر کی خیر ہو کہ سفر ہے دجلۂ دہر کا
کہیں مثلِ نامِ حسینؑ بھی، کوئی بادباں ہو تو لے کے آ

نہ انؔیس ہوں نہ دبؔیر ہوں، میں نؔصیر صرف نصیر ہوں
مرے حرفِ ظرف کو جانچنے، کوئی نکتہ داں ہو تو لے کے آ ۔

SHARE

LEAVE A REPLY